امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات آج اسلام آباد میں

ایرانی وفد مذاکرات کے لیے جمعے کی رات اسلام آباد پہنچ گیا جبکہ امریکی نائب صدر کی آمد آج متوقع ہے۔

امریکہ اور ایران نے دو ہفتے کے لیے جنگ بندی کا اعلان کیا ہے۔

تاہم اسرائیل کا لبنان میں حملے بند کرنے سے انکار، 10 منٹ میں 100 سے زائد حملے۔

ایرانی وفد امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے اسلام آباد پہنچ گیا

لائیو اپ ڈیٹس


صبح ساڑھے سات بجے

امریکہ اور ایران میں مذاکرات آج

امریکہ اور ایران کے درمیان سیز فائر کے بعد اہم مذاکرات آج بروز ہفتہ اسلام آباد میں ہونے جا رہے ہیں۔

ان مذاکرات کے لیے ایران کے پارلیمانی سپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں 70 سے زائد ارکان پر مشتمل ایرانی وفد جمعے کی رات اسلام آباد پہنچ چکا ہے جب کہ امریکی وفد کی آمد آج متوقع ہے۔ 

دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کے موقعے پر دارالحکومت میں سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ مرکزی شاہراہیں بند کر کے فوج، رینجرز اور بڑی تعداد میں پولیس اہلکار تعنیات کیے گئے ہیں۔


صبح سات بجے

ایرانی وفد اسلام آباد پہنچ گیا

پاکستانی دفتر خارجہ سے جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب جاری بیان کے مطابق ایران کا ایک اعلیٰ سطح کا وفد ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں ہفتے کو امریکہ سے مذاکرات کے لیے اسلام آباد پہنچا۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی اس وفد کا حصہ ہیں۔

دفتر خارجہ کے مطابق ایرانی وفد کا استقبال نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کیا، جن کے ہمراہ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر داخلہ سید محسن نقوی سمیت دیگر نے کیا۔

نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ نے امید ظاہر کی کہ فریقین تعمیری انداز میں مذاکرات کریں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان تنازعے کے پائیدار اور دیرپا حل کے حصول کے لیے اپنی سہولت کاری جاری رکھے گا۔

اسلام آباد پہنچنے پر ایرانی سرکاری ٹی وی کے ذریعے اپنا موقف بیان کرتے ہوئے محمد باقر قالیباف نے واضح کیا کہ ’ہمارے ارادے نیک ہیں لیکن ہم امریکہ پر اعتبار نہیں کرتے۔

’امریکیوں کے ساتھ مذاکرات کا ہمارا گذشتہ تجربہ ہمیشہ ناکامی اور وعدہ خلافیوں پر ہی منتج ہوا۔‘


صبح چھ بج کر 45 منٹ

امریکی نائب صدر اسلام آباد روانہ

امریکی وفد کی قیادت کرنے والے نائب صدر جے ڈی وینس واشنگٹن سے اسلام آباد روانگی کے وقت خاصے محتاط دکھائی دیے۔

وفد میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف شامل ہیں۔ 

پاکستان روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس کا کہنا تھا ’اگر ایرانی قیادت نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آتی ہے تو ہم بھی یقینی طور پر کھلے دل کے ساتھ تعاون کا ہاتھ بڑھائیں گے۔‘

تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ’اگر انہوں نے ہمیں دھوکہ دینے کی کوشش کی تو انہیں اندازہ ہو جائے گا کہ ہماری مذاکراتی ٹیم اتنی لچک دکھانے والی نہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

واضح رہے کہ ایران نے اسلام آباد مذاکرات کی پیش رفت کو لبنان میں جنگ بندی اور اپنے منجمد اثاثوں کی بحالی سے مشروط کر رکھا ہے، تاہم تاحال ان میں سے کوئی بھی مطالبہ پورا نہیں ہو سکا۔

اس کے برعکس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دو ہفتے پر محیط اس جنگ بندی کی شرط کے طور پر آبنائے ہرمز کو کھولنے کا مطالبہ کیا تھا، جس کی بدولت درحقیقت یہ مذاکرات ممکن ہو سکے ہیں۔

 یہ اہم آبی گزرگاہ، جہاں سے دنیا کے خام تیل کا پانچواں حصہ گزرتا ہے، معمول کی ٹریفک کے لیے تاحال بحال نہیں ہو سکی۔

اس حوالے سے صدر ٹرمپ نے جمعے کو اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ایران کے تعاون کے ’ساتھ یا اس کے بغیر‘ اسے جلد از جلد کھلوا لیں گے۔

صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ’اسلام آباد مذاکرات میں ان کی اولین ترجیح اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ایران کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔ انہوں کوئی جوہری ہتھیار نہیں۔ یہی ہمارا 99 فیصد مقصد ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا