اسے اتفاق ہی کہا جا سکتا ہے کہ اس عید قربان پر بھی جن پاکستانی فلموں کے درمیان اصل مقابلہ ہے وہ شان شاہد اور فہد مصطفیٰ کی ہیں۔
دونوں میٹھی عید پر بھی اپنی فلموں کے ساتھ مدمقابل آئے تھے لیکن فہد نے اپنی فلم ’آگ لگے بستی میں‘ کے ذریعے شان کی ’بلھا‘ کو پیچھے چھوڑ دیا تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ’آگ لگے بستی میں‘ نے 90 کروڑ روپے کی کمائی کی جبکہ ’بلھا‘ صرف 22 کروڑ روپے کا کاروبار کر سکی۔
اس مرتبہ شان فلم ’سائیکو‘ کے ذریعے اپنی موجودگی کا احساس دلانا چاہتے ہیں تو دوسری جانب فہد کی ’زومبیڈ‘ ہے۔
بظاہر دونوں فلموں کا موضوع مختلف ہے لیکن ایکشن مناظر کی دونوں میں بھرمار ہے۔ فہد کی فلم میں سائنس فکشن ہی نہیں میک اپ کے بہترین استعمال کا نظارہ مل رہا ہے۔
بہرحال ایسا نظر آ رہا ہے کہ اس مرتبہ بھی کراچی اور لاہور کی فلم پروڈکشن آمنے سامنے ہیں۔
شان کا شکوہ ہے کہ جب بھی وہ کسی نئی فلم کا اعلان کرتے ہیں تو ان کی فلم کی تشہیر اور حوصلہ افزائی کے لیے کراچی کے فنکار آگے بڑھ کر تعاون نہیں کرتے۔
وہ جب اس بات کی شکایت کر رہے تھے تو ان کے ساتھ سیٹج پر کراچی سے تعلق رکھنے والے شبیر جان اور سونیا حسین موجود تھیں۔
ممکن ہے شان کا اشارہ ہمایوں سعید، اعجاز اسلم یا دیگر اداکاروں کی طرف ہو۔
فہد کی فلم ’زومبیڈ‘ میں وہ آٹھ سال بعد مہوش حیات کے ساتھ نظر آئیں گے۔ ہدایت کار نبیل قریشی کی یہ تخلیق ہارر قرار دی جا رہی ہے۔
عموماً پاکستان میں ہارر فلموں کا تجربہ اس قدر خوشگوار نہیں رہا۔ ماضی قریب میں ’سرکٹا انسان‘ اور ’طلسمی جزیرہ‘ جیسی فلمیں فلم بینوں کو خوف زدہ یا سہما نہیں سکی تھیں بلکہ ان کی پروڈکشن پر کئی سوال کھڑے ہوئے تھے۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کہ ہارر فلمیں بنانا عام تخلیق سے کہیں گنا محنت طلب ہے۔ اب نبیل قریشی اس آزمائش میں کہاں تک پورے اترے یہ تو فلم کی نمائش پر ہی علم ہو گا۔
’سائیکو‘ کو ممکن ہے کہ اتنی توجہ نہ ملتی اگر فلم کی ہیروئن میرا کے ساتھ ایک اینکر کے ناروا سلوک اور غیر ضروری سوالات کی بوچھاڑ پر تنقید نہ ہوتی۔
فلم کو لکھا اور ڈائریکٹ بھی خود شان نے کیا ہے جبکہ نمایاں ستاروں میں سونیا حسین، جاوید شیخ، نیر اعجاز اور شبیر جان شامل ہیں۔
فلم کے بارے میں میرا کا یہی کہنا ہے کہ اس تخلیق کے ذریعے دکھایا گیا ہے کہ اصل دشمن انسان کے ذہن میں رہتا ہے اور اس ایک جملے کے ذریعے فلم کی کہانی کو آگے بڑھایا گیا۔
میرا کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے فلم میں اپنی زندگی کی بہترین اداکاری دکھائی ہے۔ ٹریلر سے اندازہ ہوتا ہے کہ فلم میں ایکشن سے بھرے مناظر ہیں جو فلم بینوں کو سینیما گھروں کی نشست پر چپکائے رکھیں گے کہ نہیں اس کا بہت جلد معلوم ہو جائے گا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس عید پر ایک اور فلم ’لو دی سو‘ ہر ایک کی توجہ حاصل کر سکتی ہے۔ گلوکار اور اداکار فرحان سعید ہیرو بن کر جلوہ گر ہو رہے ہیں جبکہ ان کی ہیروئن کے لیے مامیا شجعفر کا انتخاب کیا گیا ہے۔
مامیا آرٹ فلم ’لالی‘ سے ثابت کر چکی ہیں کہ وہ غیر معمولی اداکارہ ہیں لیکن اب وہ اپنی قسمت کا ستارہ اور بلند کرنے کے لیے کمرشل فلم کا رخ کر رہی ہیں۔
دیکھا جائے تو ان کو اس فلم میں اداکاری دکھانے کا وسیع موقع ملا ہے۔ ٹریلر کے ذریعے معلوم ہوتا ہے کہ جہاں انہوں نے رومانس کیا ہے اور رقص میں بھی اپنی صلاحیتوں کا امتحان لیا ہے وہیں جذباتی مناظر میں بھی وہ کسی سے کم تر نظر نہیں آئیں۔
فرحان اور مامیا اس سے پہلے ڈراما سیریل ’جھوک سرکار‘ میں کام کر چکے ہیں اور پہلی بار بڑے پردے پر جلوہ افروز ہونے جا رہے ہیں۔
یہ روایتی رومانوی کہانی ہے جس میں یقینی طور پر دو پیار کرنے والوں کے درمیان سماج کی دیوار بھی حائل ہو گی اور پھر فرحان سعید روایتی ہیرو کی طرح ہر رکاوٹ کو ڈھاتے ہوئے اپنی محبت کو پالیں گے۔
رومانی فلمیں پسند کرنے والوں کے لیے اس بار عید پر ایک اور تحفہ ’خان تمہارا‘ کی صورت میں ملنے والا ہے، جس میں بلال اشرف اور مایا علی چمکتے دمکتے ستارے ہیں۔
یہ فلم کئی ماہ سے تعطل کا شکار رہی اور اب اسے عید قربان پر نمائش کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔
لگتا یہی ہے کہ اس عید پر پاکستانی سینیما صرف تفریح نہیں بلکہ مقابلے، جذبات، خوف، پیار اور ستاروں کی چمک کا ایک ایسا میلہ سجانے جا رہا ہے جہاں ہر فلم اپنی مختلف داستان سنا رہی ہو گی۔
ناظرین کے دلوں پر کون سی کہانی راج کرتی ہے، کون سا ہیرو بازی لے جاتا ہے اور کون سی فلم عید کے بعد بھی یادوں کے دریچوں میں قید رہے گی اس کا علم بس چند دنوں بعد ہو جائے گا۔