قاتل کا ہیرو ازم اور مقتول کی بے بسی: جب فلموں میں تاریخ بولتی ہے

کیا فلمیں وہ سچ دکھا سکتی ہیں جنہیں ریاستیں دبا دیتی ہیں؟ انڈونیشیا اور کمبوڈیا کے ان بھیانک قتلِ عام کی داستانیں جنہیں دو شاہکار فلموں نے دنیا کے سامنے بےنقاب کیا۔

یہ دونوں فلمیں دوملکوں میں قتلِ عام کی تاریخی دستاویز کی حیثیت رکھتی ہیں (فائنل کٹ فار ریئل/گولڈ کریسٹ فلمز)

دنیا کی تاریخ مذہب، نظریے اور نظام کے نام پر لڑی جانے والی جنگوں اور قتل و غارت گری سے بھری پڑی ہے۔

ان حقیقی واقعات پر بےشمار فلمیں بنائی گئیں جو تاریخ کے ان پوشیدہ پہلوؤں کو منظر عام پر لاتی ہیں جنہیں ریاستیں عموما دبا دیتی ہیں۔

دوسری عالمی جنگ کے بعد دنیا دو طاقت ور بلاکس میں تقسیم ہو گئی تھی: امریکہ کا سرمایہ دارانہ نظام اور سوویت یونین کا کمیونسٹ نظام۔

انڈونیشیا اور کمبوڈیا میں ہونے والے سانحات کا تعلق بھی اسی سرد جنگ سے جڑا ہے، جنہیں دو فلموں نے دیانت داری سے پردۂ سیمیں پر اجاگر کیا۔

’دی ایکٹ آف کلنگ‘ اور ’دی کلنگ فیلڈ‘ ایسی فلمیں ہیں جو تاریخ کے ایک ہی سچ کو دو مختلف زاویوں سے دکھاتی ہیں: ایک میں قاتل بولتا ہے، دوسرے میں مقتول۔

جوشوا اوپن ہائیمر کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم ’دی ایکٹ آف کلنگ‘ ایک دستاویزی فلم ہے، مگر اس کا انداز غیر روایتی ہے۔

یہ فلم 1965 سے 1966 کے انڈونیشیا کے قتل عام پر مبنی ہے، جب لاکھوں افراد کو ’کمیونسٹ‘ کہہ کر قتل کیا گیا۔

اس ایک سال میں بڑے پیمانے پر خونریزی ہوئی اور اندازا پانچ لاکھ سے 10 لاکھ لوگ مارے گئے۔

قاتلوں کو سزا نہیں ملی بلکہ کئی جگہ وہ طاقت ور بن گئے۔ فلم میں دکھائے گئے لوگ اداکار نہیں بلکہ اصل قاتل ہیں۔

انہیں کہا گیا کہ وہ اپنے جرائم کو جیسے چاہیں دوبارہ پیش کریں تاکہ ان کی مجرمانہ ذہنیت سکرین پر عیاں ہو سکے کہ وہ اپنے سنگین جرائم کو کس طرح ہیرو ازم سمجھتے ہیں۔

اسی لیے کہیں یہ فلم گینگسٹر کہانی معلوم ہوتی ہے اور کہیں ایک بھیانک تماشا۔

انڈونیشیا میں یہ قتل عام بیسویں صدی کے بڑے مگر نسبتاً کم زیر بحث رہنے والے سانحات میں سے ہے۔

اس سے پہلے کا پس منظر کچھ یوں تھا کہ 1949 میں آزادی کے بعد ملک میں تین بڑی قوتیں تھیں: فوج، اسلام پسند گروہ اور کمیونسٹ پارٹی آف انڈونیشیا (پی کے آئی)۔

یہ اس وقت چین اور سوویت یونین کے بعد تیسری بڑی کمیونسٹ پارٹی تھی۔ صدر سوئیکارنو نے ان تینوں قوتوں کو ساتھ رکھنے کی کوشش کی اور قوم پرستی، کمیونزم اور مذہب پر مبنی ایک تصور پیش کیا جسے ’ناساکوم‘ کہا جاتا تھا، مگر اندرونی کشمکش بڑھتی گئی۔

1965 کی بغاوت وہ چنگاری ثابت ہوئی جس نے پورے نظام کو جلا کر بھسم کر دیا۔

’30 ستمبر موومنٹ‘ کے نام سے جانے جانے والے اس واقعے میں چند فوجی افسران کو قتل کر دیا گیا اور الزام فوراً کمیونسٹ پارٹی (پی کے آئی) پر ڈال دیا گیا۔

اس کے فوراً بعد جنرل سوہارتو نے اقتدار سنبھال لیا اور پی کے آئی کو ’ملک دشمن‘ قرار دے دیا گیا۔

ملک بھر میں کمیونسٹوں، ان کے حامیوں اور حتیٰ کہ صرف شک کی بنیاد پر لوگوں کو قتل کیا جانے لگا۔ ان میں مزدور یونین کے کارکن، اساتذہ، ادیب اور دانش ور شامل تھے۔

افغان جہاد کی طرح انڈونیشیا میں بھی کئی اسلامی تنظیموں نے ’کمیونزم کے خلاف جہاد‘ کے نام پر حصہ لیا۔ مقامی ملیشیائیں اور جرائم پیشہ عناصر بھی اس قتلِ عام میں پیش پیش رہے۔

ذاتی دشمنیاں بھی اس خونی عمل میں شامل ہو گئیں۔ لاکھوں لوگ مارے گئے، ہزاروں قید کر دیے گئے اور عورتوں کو جسمانی و جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

اکثر لوگ واقعی کمیونسٹ نہیں تھے، صرف الزام کافی تھا۔ اس قتل عام میں فوج، مذہبی گروہ، مقامی ملیشیائیں اور جرائم پیشہ عناصر سب شریک تھے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سرد جنگ سے اس کا کیا تعلق تھا؟ چونکہ سوئیکارنو سیکیولر رجحان رکھتے تھے اور کمیونسٹ عناصر کے ساتھ توازن قائم کیے ہوئے تھے، اس لیے امریکہ اور مغرب کو خدشہ تھا کہ انڈونیشیا چین یا سوویت یونین کے قریب نہ چلا جائے۔

چنانچہ امریکہ نے کمیونسٹ مخالف قوتوں کی حمایت کی۔ شواہد موجود ہیں کہ امریکی حکومت اور سی آئی اے نے انڈونیشی فوج اور سوہارتو کے حامیوں کو سیاسی پشت پناہی فراہم کی۔

امریکی سفارت خانے نے کمیونسٹ نیٹ ورکس کی معلومات اور پی کے آئی کے مشتبہ افراد کی فہرستیں بھی فراہم کیں۔

سوہارتو نے 1967 سے 1998 تک طویل آمریت قائم رکھی، کمیونسٹ پارٹی پر پابندی لگا دی گئی اور کمیونزم کو جرم بنا دیا گیا۔

’دی ایکٹ آف کلنگ‘ نے انور کانگو جیسے کرداروں کے ذریعے اس خاموشی کو توڑا۔

اس کے برعکس ’دی کلنگ فیلڈ‘ ایک فیچر فلم ہے جو بڑی حد تک حقیقی واقعات پر مبنی ہے، اگرچہ مکمل طور پر دستاویزی نہیں۔

یہ دو صحافیوں، دتھ پران اور سڈنی شینبرگ کی کہانی ہے، جو کمبوڈیا کے قتل عام کو بیان کرتی ہے، جس میں تقریباً 15 سے 20 لاکھ لوگ مارے گئے۔

رولینڈ جوفے کی ہدایت کاری میں بننے والی یہ فلم محض خمیر روج کے دور کی عکاسی نہیں بلکہ انسان کی بے بسی، دوستی اور بقا کی اذیت ناک داستان بھی ہے۔

گو کہ کہانی دو صحافیوں کے گرد گھومتی ہے مگر درحقیقت یہ ایک پوری انسانیت کی کہانی بن جاتی ہے۔

یہ فلم دکھاتی ہے کہ جب نظریات انتہا کو پہنچ جائیں تو انسان محض ایک ’ہندسہ‘ بن کر رہ جاتا ہے۔

خمیر روج کے دور میں موت روزمرہ کی حقیقت بن چکی تھی مگر اس تاریکی میں ایک روشنی بھی تھی، انسانی رشتہ۔ شینبرگ اور پران کی دوستی اس فلم کا سب سے طاقت ور استعارہ ہے۔

یہ فلم احساس دلاتی ہے کہ سیاست اور جنگ کے بیچ بھی انسان، انسان رہ سکتا ہے۔ شاید یہی سینیما کی سب سے بڑی طاقت ہے کہ وہ ہمیں اعداد و شمار سے نکال کر انسانوں تک لے آتا ہے۔

کمبوڈیا کے سیاسی حالات کو سمجھنے کے لیے ویت نام اور لاؤس کا پس منظر بھی اہم ہے۔

1954 کے جنیوا معاہدے کے بعد ویت نام دو حصوں میں تقسیم ہو گیا: شمالی ویت نام کمیونسٹ جبکہ جنوبی ویت نام امریکہ کا اتحادی تھا۔

امریکہ نے 1950 کی دہائی کے آخر سے جنوبی ویت نام کی مدد شروع کی اور 1965 میں بڑی فوجی مداخلت کی۔

اس کا مقصد ویت نام پر قبضہ نہیں بلکہ کمیونزم کو پھیلنے سے روکنا تھا۔ اپنی بالادستی برقرار رکھنے کے لیے امریکہ نے فوجی اڈے قائم کیے اور شمالی ویت نام پر شدید بمباری کی۔

اس کے باوجود ویت نام نے ہتھیار نہیں ڈالے۔ 1973 میں امریکہ نے اپنی فوجیں واپس بلانا شروع کیں اور 1975 میں شمالی ویت نام نے جنوبی ویت نام کو فتح کر کے ملک کو یکجا کر دیا۔

لاؤس میں بھی اسی دوران امریکہ نے ایک خفیہ جنگ لڑی۔ 1964 سے 1973 تک شدید بمباری کی گئی اور یہ ملک دنیا کے سب سے زیادہ بمباری کا نشانہ بننے والے ممالک میں شامل ہو گیا۔

امریکہ نے براہِ راست قبضہ نہیں کیا بلکہ مقامی قبائل، خصوصاً ہمونگ، کو مسلح کیا اور سی آئی اے کے ذریعے خفیہ کارروائیاں کیں۔

مقصد یہی تھا کہ شمالی ویت نام کی سپلائی لائن ’ہو چی من ٹریل‘ کو روکا جائے اور کمیونسٹ گروہ پاتھیت لاؤ کو کمزور کیا جائے۔

1975 میں پاتھیت لاؤ نے اقتدار سنبھال لیا اور ملک ایک کمیونسٹ ریاست بن گیا۔ اب کمبوڈیا کی طرف آتے ہیں، جہاں ’دی کلنگ فیلڈ‘ کی کہانی جنم لیتی ہے۔

بادشاہ نوروڈوم سیہانوک غیر جانب دار پالیسی پر قائم تھے مگر فوجی سربراہ لون نول کو امریکی حمایت حاصل تھی۔ تیسرا فریق خمیر روج تھا، جو ایک شدت پسند کمیونسٹ گروہ تھا۔

ویت نام جنگ کے دوران 1969 سے 1973 تک امریکہ نے کمبوڈیا میں خفیہ بمباری کی جس سے ہزاروں شہری مارے گئے اور دیہات تباہ ہو گئے۔

1970 میں لون نول نے امریکی حمایت سے بغاوت کر کے سیہانوک کو ہٹا دیا۔ اس رسہ کشی میں کمبوڈیا میں خانہ جنگی تیزی سے پھیل گئی اور امریکی حمایت یافتہ حکومت اور انتہا پسند کمیونسٹ گروہ خمیر روج کے درمیان جنگ شدت اختیار کر گئی۔

بالکل اسی طرح جیسے سی آئی اے کے آپریشن ’ٹی پی ایجیکس‘ کے ذریعے ایران میں ڈاکٹر مصدق کی جمہوری حکومت گرا کر عوام پر رضا شاہ پہلوی کی بادشاہت مسلط کی گئی اور پھر عوامی مزاحمت کے نتیجے میں خمینی کی ملائیت کی راہ ہموار ہوئی۔

کمبوڈیا میں بھی جاری عدم استحکام نے خمیر روج کو مضبوط کیا، جس نے ’امریکی سامراج کے خلاف جدوجہد‘ کا نعرہ لگا کر دیہی علاقوں میں حمایت حاصل کی۔

1975 میں پول پوٹ اقتدار میں آیا۔ یہاں بھی امریکہ کا اصل مقصد کمیونزم کو روکنا تھا لیکن نتیجے میں خمیر روج مضبوط ہوا اور 1975 میں پول پوٹ نے اقتدار سنبھالا۔

پول پوٹ، جس کا اصل نام سالوتھ سار تھا، بیسویں صدی کے سب سے متنازع اور خونریز حکمرانوں میں شمار ہوتا ہے جس نے کمبوڈیا پر 1975 سے 1979 تک حکومت کی۔

اس کا مقصد ایک ایسا معاشرہ قائم کرنا تھا جو مکمل طور پر زرعی ہو، بغیر پیسے، بغیر شہر اور بغیر جدید ٹیکنالوجی کے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’Year Zero‘ کے تحت اس نے اعلان کیا کہ سب کچھ ازسر نو شروع ہو گا۔ دارالحکومت خالی کرا دیا گیا، لاکھوں لوگوں کو دیہات میں جبری مشقت پر لگا دیا گیا، خوراک کی کمی اور بیماریوں نے تباہی مچا دی۔

تعلیم یافتہ افراد کو دشمن سمجھ کر قتل کیا گیا: اساتذہ، ڈاکٹر، انجینیئر حتیٰ کہ عینک پہننے والے افراد بھی نہیں بخشے گئے۔

لوگوں کو ڈنڈوں، ہتھوڑوں اور تیز دھار ہتھیاروں سے مارا جاتا اور اجتماعی قبروں میں پھینک دیا جاتا۔

پورے کمبوڈیا میں ایسے بے شمار ’کلنگ فیلڈ‘ قائم ہو گئے۔ 1979 میں ویت نام نے حملہ کر کے اس حکومت کا خاتمہ کیا۔

’دی ایکٹ آف کلنگ‘ اور ’دی کلنگ فیلڈ‘ ایک ہی عہد اور ایک ہی نظریاتی کشمکش کی کہانیاں ہیں مگر ایک میں ظالم بولتا ہے اور دوسرے میں مظلوم۔

آج بھی دنیا ایک عجیب خلفشار کا شکار ہے۔ اگر غور کیا جائے تو موجودہ بحران بھی انتہا پسندی ہی کا نتیجہ ہیں۔ انتہا پسندی خواہ مذہبی ہو یا نظریاتی، ہمیشہ تباہی اور موت ہی لاتی ہے۔

جب طاقت کا مرکز کسی ایک نظریے یا شخصیت کے ہاتھ میں سمٹ جائے تو اسے فاشزم میں بدلتے دیر نہیں لگتی، چاہے وہ جمہوریت کے پردے میں ہو یا انقلاب کے نعروں میں۔

مسئلہ صرف نظریے کا نہیں بلکہ اس یقین کا ہے جو خود کو حرفِ آخر سمجھنے لگتا ہے۔

نوٹ: یہ تحریر لکھاری کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی فلم