اسلام آباد مذاکرات ناکام ہوئے تو ایران پر دوبارہ حملے ہوں گے: صدر ٹرمپ

نیویارک پوسٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’اگر (اسلام آباد میں) معاہدہ نہ ہوا تو ہم ان ہتھیاروں کا استعمال کریں گے اور بہت مؤثر طریقے سے کریں گے۔‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 6 اپریل 2026 کو وائٹ ہاؤس میں ایران کے ساتھ جاری تنازع پر گفتگو کر رہے ہیں (اے ایف پی)

امریکہ اور ایران کا دو ہفتے کے لیے جنگ بندی کا اعلان۔

اسرائیل کا لبنان میں جنگ بندی سے انکار، 10 منٹ میں 100 سے زائد حملے۔

ایرانی وفد  امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے اسلام آباد پہنچ گیا: روئٹرز۔

لائیو اپ ڈیٹس


ایرانی وفد امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے اسلام آباد پہنچ گیا: روئٹرز

خبر رساں ادارے روئٹرز نے رپورٹ کیا ہے کہ ایران کا وفد امریکہ کے ساتھ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے لیے جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب پاکستان پہنچ گیا۔

روئٹرز نے ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بتایا ہے کہ ایرانی وفد میں پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی، دفاعی کونسل کے سیکرٹری، مرکزی بینک کے گورنر اور ارکان پارلیمنٹ شامل ہیں۔

ایرانی میڈیا ادارے تسنیم نے بھی اس خبر کی تصدیق کی ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق مذاکرات تب شروع ہوں گے جب امریکہ ایرانی کی ’پیشگی شرائط‘ کو تسلیم کر لے گا۔


شہباز شریف اور کیئر سٹارمر کا جنگ بندی برقرار رکھنے پر زور

برطانیہ کے وزیراعظم کیئر سٹارمر نے جمعے کی شب وزیراعظم شہباز شریف سے ٹیلی فون پر گفتگو کی جس میں دونوں رہنماؤں نے خطے میں جنگ بندی کو برقرار رکھنے پر زور دیا تاکہ خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے لیے سازگار ماحول پیدا ہو سکے۔

وزیر اعظم ہاؤس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم سٹارمر نے اسلام آباد میں امن مذاکرات کی میزبانی پر شہباز شریف کو مبارکباد دی اور اس عمل کی کامیابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

انہوں نے امریکہ  ایران جنگ بندی اور مذاکرات کی بحالی میں پاکستان کی مؤثر سفارتی کوششوں کو سراہا ہے۔

پاکستانی وزیراعظم نے اس موقع پر خطے میں امن اور استحکام کے لیے پاکستان کے مخلصانہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اہم یورپی اور عالمی رہنماؤں، بشمول وزیراعظم سٹارمر، کے مشترکہ اعلامیے کا خیرمقدم کیا جس میں پاکستان کی امن کوششوں کی حمایت کی گئی۔

دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں پاکستان اور برطانیہ کے دیرینہ دوستانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مل کر کام کرنے پر بھی اتفاق کیا۔


اسلام آباد مذاکرات ناکام ہوئے تو ایران پر دوبارہ حملے ہوں گے: صدر ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو خبردار کیا ہے کہ اگر پاکستان میں ہونے والے مذاکرات کسی معاہدے تک نہ پہنچے تو ایران پر دوبارہ حملوں کے لیے امریکی جنگی جہازوں کو جدید ہتھیاروں سے دوبارہ مسلح کیا جا رہا ہے۔

نیویارک پوسٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم ایک ری سیٹ کر رہے ہیں، ہم جہازوں کو دنیا کے بہترین اسلحے سے لیس کر رہے ہیں حتیٰ کہ پہلے سے بھی بہتر اور ہم نے پہلے بھی انہیں تباہ کر دیا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’اگر (اسلام آباد میں) معاہدہ نہ ہوا تو ہم ان ہتھیاروں کا استعمال کریں گے اور بہت مؤثر طریقے سے کریں گے۔‘

اس سے قبل اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر ایک مختصر پیغام میں ٹرمپ نے ’دنیا کے سب سے طاقتور ری سیٹ‘ کا ذکر کیا تھا۔ 

ٹروتھ سوشل پر ایک الگ پوسٹ میں صدر ٹرمپ نے کہا: ’ایرانیوں کو شاید یہ احساس نہیں کہ ان کے پاس کوئی خاص پتے نہیں ہیں، سوائے اس کے کہ وہ بین الاقوامی آبی گزرگاہوں کو استعمال کر کے دنیا کو عارضی طور پر دباؤ میں لانے کی کوشش کریں۔ آج وہ صرف اسی لیے زندہ ہیں کہ مذاکرات کریں۔‘


ایران کا مذاکرات سے پہلے منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ بندی کی شرط

 ایران نے مذاکرات سے پہلے منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ بندی کی شرط سامنے رکھی ہے۔

ایران کے پارلیمنٹ سپیکر محمد باقر قالیباف نے جمعے کو ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ’دو معاملات جن پر دونوں فریقین نے باہمی اتفاق کیا تھا، ابھی تک نافذ نہیں کیے گئے: لبنان میں جنگ بندی اور مذاکرات شروع ہونے سے قبل ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی۔‘

بقول قالیباف: ’یہ دونوں امور مذاکرات کے آغاز سے پہلے پورے کیے جانے ضروری ہیں۔‘

وائٹ ہاؤس کی جانب سے فوری طور پر اس حوالے سے کوئی ردعمل نہیں آیا۔


 

امریکی نائب صدر ایران سے مذاکرات کے لیے اسلام آباد روانہ، ’مثبت‘ نتائج کے لیے پر امید

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس جمعے کو ایران کے ساتھ مذاکرات کی قیادت کے لیے ریاست میری لینڈ میں واقع بیس اینڈریوز سے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے لیے روانہ ہو گئے ہیں۔

یہ مذاکرات ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں، جب 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر مشترکہ حملوں اور تہران کی جوابی کارروائیوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی عروج پر پہنچ گئی۔ یہ سلسلہ پاکستان کی کوششوں سے آٹھ اپریل کو ایک عارضی جنگ بندی سے تھما اور وزیراعظم شہباز شریف نے دونوں ممالک کو براہ راست مذاکرات کے لیے 10 اپریل کو اسلام آباد مدعو کیا۔

جے ڈی وینس کے ساتھ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر بھی امریکی وفد میں شامل ہیں، جنہوں نے ایران کے مذاکرات کاروں کے ساتھ بالواسطہ بات چیت کے تین ادوار میں حصہ لیا تھا۔

ان مذاکرات کا مقصد تہران کے جوہری اور بیلسٹک ہتھیاروں کے پروگرام اور مشرقِ وسطیٰ میں مسلح گروہوں کی حمایت سے متعلق امریکی خدشات کو دور کرنا تھا۔

ائیر فورس ٹو پر پاکستان کے لیے روانہ ہونے سے پہلے میری لینڈ کے ایئر بیس پر صحافیوں سے مختصر گفتگو میں جے ڈی وینس نے کہا کہ وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی گائیڈ لائن کے تحت مذاکرات میں حصہ لینے کے لیے اسلام آباد جا رہے ہیں۔

انہوں نے توقع ظاہر کی کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات ’مثبت‘ رہیں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے تہران کو خبردار کیا کہ وہ امریکہ کے ساتھ ’کھیل نہ کھیلے۔‘

ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق جے ڈی وینس نے صدر ٹرمپ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: ’اگر ایرانی نیک نیتی سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں تو ہم بھی کھلے دل سے آگے بڑھنے کے لیے تیار ہیں۔‘

تاہم انہوں نے خبردار کیا: ’اگر وہ ہمارے ساتھ کھیلنے کی کوشش کریں گے تو انہیں معلوم ہو جائے گا کہ مذاکراتی ٹیم اس پر زیادہ آمادہ نہیں ہوگی۔‘

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)


پاکستان اور نیدرلینڈز کا لبنان میں جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار

نیدرلینڈز کے وزیر خارجہ ٹام بیرینڈسن اور جمعے کو وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ٹیلی فون پر بات چیت میں لبنان میں جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ڈچ وزیرِ خارجہ نے اس موقع پر جنگ بندی میں معاونت پر پاکستان کے کردار کو سراہا اور دیرپا امن کے لیے سفارتی کوششوں کے تسلسل کی حمایت کا اظہار کیا۔

دونوں جانب سے لبنان میں جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور پائیدار امن کے لیے جنگ بندی پر مکمل عملدرآمد کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

پاکستان اور نیدرلینڈز کے مضبوط تعلقات کی توثیق کرتے ہوئے دونوں فریقوں نے تجارت، معیشت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔


یوکرینی افواج نے ایران جنگ کے دوران مشرقِ وسطیٰ کے ممالک میں شاہد ڈرونز کو مار گرایا: زیلینسکی

یوکرین کے صدر وولودی میر زیلنسکی نے کہا ہے کہ یوکرینی فوجی اہلکاروں نے ایران کی جنگ کے دوران مشرقِ وسطیٰ کے متعدد ممالک میں ایرانی ساختہ شاہد ڈرونز کو مار گرایا۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یوکرین نے ان کارروائیوں کو ایک وسیع تر کوشش کا حصہ قرار دیا، جس کا مقصد شراکت داروں کو انہی ہتھیاروں کا مقابلہ کرنے میں مدد دینا ہے، جو روس یوکرین میں استعمال کر رہا ہے۔

زیلنسکی نے بدھ کو صحافیوں سے گفتگو میں پہلی بار ان کارروائیوں کا عوامی طور پر اعتراف کیا، تاہم ان کے بیانات کو جمعے تک جاری نہ کرنے کی پابندی تھی۔

انہوں نے کہا کہ یوکرینی افواج نے بیرونِ ملک فعال کارروائیوں میں حصہ لیا، جہاں مقامی طور پر تیار کردہ انٹرسیپٹر ڈرونز استعمال کیے گئے، جو روس کی جانب سے یوکرین میں استعمال ہونے والے ایرانی ساختہ شاہد ڈرونز کے خلاف مؤثر ثابت ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا: ’یہ کسی تربیتی مشن یا مشقوں کے بارے میں نہیں تھا بلکہ ایک ایسے جدید فضائی دفاعی نظام کی تشکیل میں مدد کے بارے میں تھا جو واقعی کام کر سکے۔‘

یوکرین نے مشرقِ وسطیٰ میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان ہونے والی عارضی جنگ بندی طے پانے سے قبل دفاعی کارروائیوں میں حصہ لیا تھا۔

وولودی میر زیلنسکی نے شامل ممالک کی نشاندہی نہیں کی، تاہم کہا کہ یوکرینی اہلکار کئی ممالک میں سرگرم رہے اور ان کے فضائی دفاعی نظام کو مضبوط بنانے میں مدد دی۔ انہوں نے اس سے قبل بتایا تھا کہ 228 یوکرینی ماہرین کو اس خطے میں تعینات کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اس کے بدلے میں یوکرین کو اپنے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کے لیے ہتھیار، تیل، ڈیزل اور بعض صورتوں میں مالی معاہدے حاصل ہو رہے ہیں۔

یوکرینی صدر نے مزید کہا کہ یہ معاہدے یوکرین کے توانائی کے استحکام کو مضبوط بنائیں گے اور ان شراکت داریوں کو ایسی چیز قرار دیا، جسے ’مارکیٹ کیا جائے گا‘ کیونکہ کیئف اپنے دفاعی برآمدی کردار کو باضابطہ بنانے اور وسعت دینے کی کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا: ’ہم اپنے شراکت داروں کی سلامتی کو مضبوط بنانے میں مدد دے رہے ہیں، اس کے بدلے میں اپنے ملک کی مضبوطی کے لیے تعاون حاصل کر رہے ہیں۔ یہ صرف رقم حاصل کرنے سے کہیں زیادہ ہے۔‘

یہ انکشاف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خدشات ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ کا تنازع یوکرین کے لیے مغربی فوجی امداد، خصوصاً فضائی دفاعی سازوسامان کو ختم کر سکتا ہے۔


ایران امریکہ اور اسرائیل سے جنگ نہیں چاہتا: مجتبیٰ خامنہ ای

ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے تازہ تحریری پیغام میں کہا ہے کہ ایران امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا، تاہم وہ بطور قوم اپنے حقوق کا دفاع کرے گا۔

سرکاری ٹی وی پر پڑھ کر چلائے گئے اس پیغام میں مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ ’ہم نے جنگ نہیں چاہی اور نہ ہی ہم اسے چاہتے ہیں۔‘

اے ایف پی کے مطابق اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ہم کسی بھی صورت میں اپنے جائز حقوق سے دستبردار نہیں ہوں گے، اور اس حوالے سے ہم پورے مزاحمتی محاذ کو ایک اکائی سمجھتے ہیں۔‘

انہوں نے ایرانی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’یہ نہ سمجھیں کہ سڑکوں پر نکلنا اب ضروری نہیں رہا‘ باوجود اس کے کہ جنگ بندی کا اعلان ہو چکا ہے۔

ایرانی سپریم لیڈر کے مطابق ’عوامی مقامات پر آپ کی آوازیں یقیناً مذاکرات کے نتائج پر اثرانداز ہوتی ہیں۔‘


جنگ بندی کے دوران کوئی میزائل نہیں داغا: پاسداران انقلاب

ایران کے پاسداران انقلاب نے جمعرات کی رات ایک بیان میں کہا کہ مختلف خبر رساں اداروں نے ایسی اطلاعات نشر کی ہیں جن میں خلیج فارس کے جنوبی کنارے پر واقع کئی ممالک میں تنصیبات پر ایرانی ڈرون اور میزائل حملوں کے الزامات لگائے گئے ہیں۔

تسنیم نیوز کے مطابق پاسداران انقلاب نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کے دوران ایران کی مسلح افواج نے کسی بھی ملک کی طرف کوئی میزائل نہیں داغا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ اگر میڈیا رپورٹس درست ثابت ہوتی ہیں تو یہ بلاشبہ مخالف قوتوں، یعنی صہیونی ریاست یا امریکہ کی جانب سے ترتیب دی گئی کارروائیاں ہوں گی۔


اسلام آباد مذاکرات: مہمانوں کو آمد پر ویزا جاری کیا جائے گا، اسحاق ڈار

پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اسلام آباد مذاکرات کے سلسلے میں شرکت کرنے والے ممالک کے صحافیوں سمیت تمام مندوبین کو اپنی ایکس پر ایک پوسٹ میں خوش آمدید کہا ہے۔ انہوں نے اسی مقصد کے لیے، تمام فضائی کمپنیوں سے درخواست کی ہے کہ وہ بغیر ویزا کے تمام افراد کو بورڈنگ کی اجازت دیں۔ پاکستان میں امیگریشن حکام انہیں ویزا آن ارائیول جاری کریں گے۔


اگلے ہفتے اسرائیل اور لبنان کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کریں گے: امریکہ

امریکی محکمہ خارجہ کے ایک اہلکار نے جمعرات کو کہا ہے کہ اسرائیل اور لبنان اگلے ہفتے واشنگٹن میں مذاکرات کریں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بین الاقوامی سطح پر خدشات بڑھ رہے ہیں کہ اسرائیل کی لبنان پر بمباری امریکہ اور ایران کے درمیان پہلے سے ہی کمزور جنگ بندی کو ختم کر سکتی ہے۔

مارچ کے شروع میں مشرق وسطیٰ کی جنگ میں حزب اللہ کے شامل ہونے کے بعد سے لبنان پر اسرائیل کے شدید ترین حملوں میں بدھ کو سیکڑوں افراد جان سے گئے جس سے واشنگٹن اور تہران کے درمیان غیر مستحکم جنگ بندی کو اس کے نافذ ہونے کے 48 گھنٹے سے بھی کم وقت میں متاثر کیا ہے۔

امریکی دفتر خارجہ کے اہلکار نے کہا ہے کہ ’ہم تصدیق کر سکتے ہیں کہ محکمہ جاری جنگ بندی مذاکرات پراسرائیل اور لبنان کے ساتھ  بات چیت کے لیے اگلے ہفتے ایک اجلاس کی میزبانی کرے گا۔‘

تاہم لبنانی حکومت کے ایک اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ بیروت کو اسرائیل کے ساتھ کسی بھی مذاکرات میں شامل ہونے سے پہلے جنگ بندی درکار ہے۔

نہ تو اسرائیل اور نہ ہی لبنان نے اگلے ہفتے ہونے والے امریکی مذاکرات کی عوامی سطح پر تصدیق کی ہے۔


ایرانی مذاکراتی ٹیم اسلام آباد نہیں پہنچی، لبنان پر اسرائیلی حملے رکنے تک مذاکرات معطل ہیں: خبر ایجنسی

ایران میں پاسدارانِ انقلاب سے منسلک نیوز ایجنسی تسنیم نے ایرانی وفد کے اسلام آباد پہنچنے سے متعلق خبروں کی تردید کی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تسنیم نیوز ایجنسی نے ’باخبر ذرائع‘ کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ: ’ایرانی مذاکراتی ٹیم کے امریکہ سے مذاکرات کے لیے اسلام آباد، پاکستان پہنچنے سے متعلق کچھ میڈیا اداروں کی خبریں مکمل جھوٹی ہیں۔‘

خبر رساں ادارے کے مطابق ذرائع نے اسے بتایا کہ جب تک امریکہ لبنان پر اسرائیلی حملے رکوانے کا اپنا وعدہ پورا نہیں کرتا، تب تک مذاکرات معطل رہیں گے۔


کابینہ کو لبنان کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی ہدایت کر دی: نتن یاہو

اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو نے جمعرات کو کہا ہے کہ انہوں نے اپنی کابینہ کو لبنان کے ساتھ براہ راست مذاکرات شروع کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ حزب اللہ کو غیر مسلح کیا جا سکے اور دونوں ممالک کے درمیان ’پرامن تعلقات‘ قائم کیے جا سکیں۔

ان کے دفتر نے ایک بیان میں لکھا، ’اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات شروع کرنے کی لبنان کی بار بار کی درخواستوں کی روشنی میں، میں نے کل کابینہ کو ہدایت کی کہ وہ جلد از جلد لبنان کے ساتھ براہ راست مذاکرات شروع کرے۔‘

بیان میں مزید کہا گیا، ’مذاکرات کی توجہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے اور اسرائیل اور لبنان کے درمیان پرامن تعلقات قائم کرنے پر مرکوز ہوگی۔ اسرائیل، لبنان کے وزیر اعظم کی جانب سے بیروت کو غیر فوجی بنانے کی آج کی اپیل کو سراہتا ہے۔‘

اس معاملے سے باخبر لبنانی حکومت کے ایک اہلکار نے جمعرات کو اے ایف پی کو بتایا کہ لبنان جنگ بندی کے اعلان کے بعد ہی مذاکرات میں شامل ہو سکتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا