امریکی نائب صدر جے ڈی وینس جمعے کو ایران کے ساتھ مذاکرات کی قیادت کے لیے ریاست میری لینڈ میں واقع بیس اینڈریوز سے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے لیے روانہ ہو گئے ہیں۔
یہ مذاکرات ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں، جب 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر مشترکہ حملوں اور تہران کی جوابی کارروائیوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی عروج پر پہنچ گئی۔ یہ سلسلہ پاکستان کی کوششوں سے آٹھ اپریل کو ایک عارضی جنگ بندی سے تھما اور وزیراعظم شہباز شریف نے دونوں ممالک کو براہ راست مذاکرات کے لیے 10 اپریل کو اسلام آباد مدعو کیا۔
جے ڈی وینس کے ساتھ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر بھی امریکی وفد میں شامل ہیں، جنہوں نے ایران کے مذاکرات کاروں کے ساتھ بالواسطہ بات چیت کے تین ادوار میں حصہ لیا تھا۔
ان مذاکرات کا مقصد تہران کے جوہری اور بیلسٹک ہتھیاروں کے پروگرام اور مشرقِ وسطیٰ میں مسلح گروہوں کی حمایت سے متعلق امریکی خدشات کو دور کرنا تھا۔
ائیر فورس ٹو پر پاکستان کے لیے روانہ ہونے سے پہلے میری لینڈ کے ایئر بیس پر صحافیوں سے مختصر گفتگو میں جے ڈی وینس نے کہا کہ وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی گائیڈ لائن کے تحت مذاکرات میں حصہ لینے کے لیے اسلام آباد جا رہے ہیں۔
انہوں نے توقع ظاہر کی کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات ’مثبت‘ رہیں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے تہران کو خبردار کیا کہ وہ امریکہ کے ساتھ ’کھیل نہ کھیلے۔‘
ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق جے ڈی وینس نے صدر ٹرمپ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: ’اگر ایرانی نیک نیتی سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں تو ہم بھی کھلے دل سے آگے بڑھنے کے لیے تیار ہیں۔‘
تاہم انہوں نے خبردار کیا: ’اگر وہ ہمارے ساتھ کھیلنے کی کوشش کریں گے تو انہیں معلوم ہو جائے گا کہ مذاکراتی ٹیم اس پر زیادہ آمادہ نہیں ہوگی۔‘
وینس نے یہ بھی کہا کہ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے ’کافی واضح رہنما اصول‘ دیے ہیں، تاہم انہوں نے اس کی تفصیل نہیں بتائی۔
امریکی نائب صدر نے اپنے ہمراہ سفر کرنے والے صحافیوں کے سوالات کے جواب بھی نہیں دیے۔
وائٹ ہاؤس نے مذاکرات کے طریقہ کار کے بارے میں بہت کم تفصیلات فراہم کی ہیں کہ آیا یہ براہِ راست ہوں گے یا بالواسطہ اور نہ ہی اجلاس سے متعلق واضح توقعات بیان کی ہیں۔
تاہم، مذاکرات کے لیے وینس کی آمد امریکی حکومت اور ایرانی حکومت کے درمیان اعلیٰ سطح کے رابطے کا ایک نادر موقع ہے۔
دوسری جانب ایرانی مذاکرات کاروں کی پاکستان آمد سے متعلق تاحال سرکاری طور پر کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا ہے۔
اس سے قبل جمعے کی صبح تک ان مذاکرات کے آغاز کے حوالے سے غیر یقینی کی فضا چھائی رہی، کیونکہ مذاکرات کاروں کی آمد سے متعلق تاحال کوئی اعلان نہیں کیا گیا تھا اور دونوں جانب سے ایک دوسرے پر نازک جنگ بندی پر درست طریقے سے عمل نہ کرنے کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی صورت حال پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے، جسے معاہدے کے تحت دوبارہ کھولا جانا تھا، جبکہ تہران نے لبنان میں اسرائیلی حملوں پر شدید ردعمل دیا ہے اور اصرار کیا ہے کہ یہ بھی معاہدے کے دائرہ کار میں آتا ہے، جسے واشنگٹن مسترد کرتا ہے۔
اس کے باوجود اسلام آباد ان اہم مذاکرات کی تیاریوں میں مصروف ہے، جن میں سرکاری ذرائع کے مطابق کئی حساس نکات زیرِ بحث آئیں گے، جن میں ایران کی جوہری افزودگی اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارت کی آزادانہ آمدورفت شامل ہے۔
ایران نے عندیہ دیا ہے کہ اس کی شرکت اسرائیلی حملوں کے خاتمے سے مشروط ہو سکتی ہے۔ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا: ’جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کا انعقاد اس بات پر منحصر ہے کہ امریکہ تمام محاذوں پر، خاص طور پر لبنان میں، اپنی جنگ بندی کی ذمہ داریوں پر عمل کرے۔‘
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں نے پاکستان میں ہونے والے مذاکرات کو ’بے معنی‘ بنا دیا ہے۔
تاہم ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے اشارہ دیا کہ وہ جنگ بندی کی پابندی کر رہے ہیں اور انہوں نے ’کسی بھی ملک کی طرف کچھ بھی لانچ نہیں کیا۔‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنی متعدد پوسٹس میں جمعرات کو ایران پر الزام عائد کیا کہ وہ آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل کی اجازت دینے میں ’انتہائی ناقص کام‘ کر رہا ہے اور جنگ بندی معاہدے کی شرائط کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ ان بیانات نے نازک جنگ بندی کے بارے میں نئے خدشات کو جنم دیا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
دنیا کے تیل کا پانچواں حصہ اور قدرتی گیس اور کھاد کی بڑی مقدار اس آبنائے سے گزرتی ہے، تاہم جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے صرف چند جہاز ہی اس سے گزرے ہیں۔
دو ہفتوں کی جنگ بندی اس لیے طے کی گئی تھی تاکہ امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان مذاکرات کا موقع مل سکے، جن کا مقصد اس تنازعے کا خاتمہ ہے، جس میں پہلے ہی ہزاروں اموات ہو چکی ہیں اور جس نے عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
مذاکرات کے حوالے سے غیر یقینی میں اضافے کے طور پر پاکستان میں ایران کے سفیر امیر رضا مقدم نے جمعرات کو ایکس پر کی گئی اپنی وہ پوسٹ ڈیلیٹ کر دی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ ایرانی وفد اسی دن پاکستان پہنچے گا۔
دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ہفتے کو امریکی وفد کی قیادت کرنے والے ہیں، ان کے ساتھ خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر بھی ہوں گے۔
ثالثی کے عمل میں نئی دراڑیں اس وقت سامنے آئیں جب پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی لبنان پر اسرائیلی حملوں پر تنقید کرتے ہوئے جمعرات کی شام ایک پوسٹ میں اسرائیل کو ’کینسر زدہ ریاست‘ اور ’انسانیت کے لیے لعنت‘ قرار دیا، جسے چند گھنٹوں بعد ہٹا دیا گیا۔
اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے ان بیانات کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے کہا: ’یہ ایسا بیان نہیں جسے کسی بھی حکومت کی جانب سے برداشت کیا جا سکے، خاص طور پر اس حکومت کی جانب سے نہیں جو خود کو امن کے لیے غیر جانبدار ثالث قرار دیتی ہے۔‘
پاکستان باضابطہ طور پر اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا، جو اس کے ثالثی کردار کو پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ اسلام آباد نے اصرار کیا ہے کہ جنگ بندی میں لبنان بھی شامل ہے۔