’پاکستان گاڑیوں کی کلیئرنس میں تیزی لائے:‘ افغان پناہ گزینوں کی عید پر اپیل

افغانستان واپس جانے والے پناہ گزینوں کا کہنا ہے کہ عید الاضحی سر پر ہے لیکن وہ اب بھی سرحد پار کرنے کے انتظار میں سڑکوں پر دن رات گزار رہے ہیں۔

پاکستان سے افغان پناہ گزینوں کی واپسی کا سلسلہ جاری ہے مگر طورخم بارڈر پر سینکڑوں ٹرک اور سامان سے بھری گاڑیاں پھنسی ہوئی ہیں۔

پناہ گزینوں کا کہنا ہے کہ عید الاضحی سر پر ہے لیکن وہ اب بھی سرحد پار کرنے کے انتظار میں سڑکوں پر دن رات گزار رہے ہیں۔

شیر ولی، جنہوں نے اپنی زندگی خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ میں گزاری، اب گھر بار چھوڑ کر پاک افغان شاہراہ پر اپنی باری کے منتظر ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ وہ ایک ہفتے سے یہاں کھڑے ہیں، جہاں نہ خوراک ہے اور نہ پینے کا پانی۔

ان کا کہنا تھا ’لگتا ہے عید ہمیں انہی سڑکوں پر گزارنا پڑے گی کیونکہ رش بہت زیادہ ہے۔‘

شیر ولی نے بتایا ’ہمارے بچے اور خواتین افغانستان چلے گئے ہیں اور ہمارا انتظار کر رہے ہیں لیکن ہم یہاں پر پھنسے ہوئے ہیں کیونکہ ٹرک میں سامان پڑا ہے جس کو کلیئر کرنے میں وقت لگتا ہے۔‘

انہوں نے اپیل کی کہ حکومت گاڑیوں کی کلیئرنس میں تیزی لائے تاکہ وہ واپس جا کر عید کر سکیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسی طرح حاجی محمد بھی اپنی باری کے انتظار میں ہیں تاکہ افغانستان جا کر قربانی کر سکیں۔

انہوں نے کہا ’جب ہم سڑک پر بیٹھے ہیں تو عید کی تیاری کیسے کریں؟‘ 

ان کے مطابق صرف ایک سماجی کارکن ان کے کھانے پینے کا انتظام کر رہا ہے۔

یو این ایچ سی آر کے مطابق ستمبر 2023 سے نو مئی، 2026 تک 23 لاکھ سے زائد افغان پناہ گزین واپس جا چکے ہیں۔

76 فیصد نے رضاکارانہ طور پر واپسی کی، 13 فیصد یو این ایچ سی آر کی مدد سے واپس گئے جبکہ 11 فیصد کو ڈی پورٹ کیا گیا۔

افغان پناہ گزینوں کی واپسی کا عمل 2014 میں شروع ہوا اور 2023 میں اس میں مزید تیزی آئی، جب پروف آف رجسٹریشن کارڈ اور افغان سٹیزن کارڈ کی مدت میں توسیع نہیں دی گئی۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان