پاکستان میں افغانستان کے سفیر سردار احمد شکیب نے بدھ کو وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا جس میں افغان پناہ گزینوں کی واپسی کے معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
افغان سفیر نے گذشتہ دنوں واپسی مراکز کے گذشتہ دنوں دورے پر وزیر اعلیٰ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے صورت حال میں بہتری کا اعتراف کیا اور نادرا وینز کی تعداد بڑھانے پر اظہار تشکر کرتے ہوئے مزید اضافے اور رجسٹریشن مکمل کرنے والے پناہ گزینوں کو واپسی کی اجازت دینے کی درخواست کی۔
اس موقع پر وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ افغان پناہ گزین ہمارے بھائی اور مہمان ہیں جنہیں ہر ممکن سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، جبکہ رجسٹریشن کاؤنٹرز اور نادرا وینز میں اضافے کی ہدایات پہلے ہی جاری کی جا چکی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ریپٹری ایشن کیمپس میں فراہم کردہ سہولیات کی وہ خود نگرانی کر رہے ہیں تاکہ پناہ گزینوں کی واپسی کا عمل سہل بنایا جا سکے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ادھر حقوق انسانی کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے پاکستانی حکومت پر الزام لگایا ہے کہ اس نے ’افغان پناہ گزینوں کے خلاف ہراساں کرنے والے چھاپوں، صوابدیدی گرفتاریوں اور جبری واپسی میں تیزی سے اضافہ کیا ہے۔‘
تنظیم اس رویے اور افغان پناہ گزینوں کی زبردستی افغانستان واپسی کے خاتمے کا مطالبہ کرتی ہے، اور ان پولیس کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتی ہے جو، اس کا کہنا ہے کہ، ’افغان پناہ گزینوں کے ساتھ جبری سلوک میں ملوث ہیں۔‘
تنظیم کے افغانستان امور کے تجزیہ کاروں نے دیگر ممالک پر بھی زور دیا ہے کہ وہ اس حوالے سے پاکستانی حکومت کے ساتھ اپنے تحفظات کا اظہار کریں۔
پاکستان ستمبر 2023 سے افغان پناہ گزینوں کو زبردستی وطن واپس بھیج رہا ہے۔ اس عمل پر وقتاً فوقتاً بین الاقوامی اداروں اور انسانی ہمدردی کی تنظیموں کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے تاہم پاکستانی حکام نے اس عمل کو تیز اور تیز کیا ہے۔
ہیومن رائٹس واچ میں افغانستان کی محقق فرشتہ عباسی نے کہا، ’افغان پناہ گزینوں کو تحفظ اور مدد کے محتاج افراد کے طور پر دیکھنے کے بجائے، پاکستانی حکام ان میں خوف پھیلا رہے ہیں۔‘‘