بلوچستان: سکیورٹی فورسز کی کارروائی، مزید 9 عسکریت پسند مارے گئے

پاکستان ٹی وی کے مطابق صوبے میں جاری آپریشن شعبان کے تحت مارے جانے والے عسکریت پسندوں کی تعداد 52 ہو گئی۔

چار مارچ، 2026 کو پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری جھڑپوں کے دوران بلوچستان کے شہر چمن میں پاکستان فوج کا ایک ٹینک کھڑا ہے (اے ایف پی)

پاکستان کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے ہفتے کو رپورٹ کیا ہے کہ جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں جاری انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کے دوران مزید نو عسکریت پسند مارے گئے۔

یہ پیش رفت اس ماہ خطے میں علیحدگی پسند عسکریت پسندوں کے حملوں میں درجنوں افراد کی اموات کے بعد سامنے آئی ہے۔

پاکستان فوج نے اس ہفتے کے آغاز میں کہا تھا کہ صوبے بھر میں عسکریت پسندوں کے تین مربوط حملوں میں 42 افراد جان سے گئے، جن میں اکثریت سکیورٹی اہلکاروں کی تھی، جس کے بعد وسیع پیمانے پر سکیورٹی کریک ڈاؤن کا آغاز کیا گیا۔

ان حملوں میں سے ایک منگی کے علاقے میں پولیس چوکیوں کو نشانہ بنایا گیا، جس میں نو قانون نافذ کرنے والے اہلکار جان سے گئے اور اس کے نتیجے میں ’آپریشن شعبان‘ شروع کیا گیا، جس کے تحت اب تک تقریباً 90 عسکریت پسند مارے جا چکے ہیں۔

سرکاری نشریاتی ادارے پاکستان ٹیلی ویژن (PTV) نے سکیورٹی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ’آپریشن شعبان بلوچستان بھر میں جاری ہے جبکہ پاکستان آرمی، ایف سی (فرنٹیئر کور) بلوچستان اور پولیس دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف مربوط فضائی اور زمینی کارروائیوں میں شدت لا رہے ہیں۔‘

رپورٹ میں بتایا کہ گیا ’تازہ کارروائی میں نو دہشت گرد مارے گئے، جس کے بعد آپریشن شعبان کے تحت مارے جانے والوں کی مجموعی تعداد 52 ہو گئی ہے۔

 ’جبکہ 5 جولائی کے بعد سے انٹیلی جنس کی بنیاد پر ہونے والی کارروائیوں سمیت مجموعی تعداد 88 تک پہنچ گئی ہے۔’

بلوچستان، جو پاکستان کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا لیکن کم ترقی یافتہ صوبہ ہے، میں طویل عرصے سے جاری علیحدگی پسند شورش کا مرکز رہا ہے، جس میں حالیہ برسوں میں شدت آئی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 پاکستانی فورسز اس خطے میں شدت پسند گروہوں، جیسے تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، کے خلاف بھی برسرِ پیکار ہیں۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے جمعرات کے روز بلوچستان میں ہونے والے حملوں کے لیے پاکستان کے ’مشرقی ہمسائے‘ کو موردِ الزام ٹھہرایا، جس سے ان کی مراد انڈیا تھی۔

بلوچستان میں چین بحیرۂ عرب کے ساحل پر گوادر میں ایک گہرے سمندر کی بندرگاہ تعمیر کر رہا ہے اور اپنی بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے تحت وہاں بھاری سرمایہ کاری بھی کر چکا ہے۔

اسلام آباد بارہا انڈیا پر علیحدگی پسند عسکریت پسندوں کی حمایت اور افغانستان پر انہیں محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے کا الزام عائد کرتا رہا ہے۔

ان عسکریت پسندوں پر معدنی وسائل سے مالا مال صوبے میں حملے کرنے کا الزام ہے۔ تاہم نئی دہلی اور کابل مسلسل ان الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان