|
یران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کا آج 32 واں دن ہے۔ امریکہ نے اسے ’آپریشن ایپک فیوری‘ جبکہ ایران نے جوابی کارروائی کو ’وعدہ صادق 4‘ کا نام دیا ہے۔ اس جنگ کی تازہ ترین اپ ڈیٹس۔ |
صبح 9 بج کر 30 منٹ
ڈیموکریٹس کی ٹرمپ کے خطاب پر تنقید
ڈیموکریٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے حوالے سے امریکی عوام سےڈونلڈ ٹرمپ کے پرائم ٹائم خطاب کو ’غیر مربوط‘ قرار دیا اور کہا کہ اس میں ’بنیادی سوالات‘ کے جواب دینے کی بہت کم کوشش کی گئی۔
سینیٹرمارک وارنر نے اپنے بیان میں کہا کہ ٹرمپ پر لازم تھا کہ وہ امریکی عوام کو اس تنازع کے بارے میں مزید وضاحت دیتے، جس کے باعث پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، ’اور اس کے ساتھ ڈیزل، کھاد، ایلومینیم اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتیں بھی بڑھ رہی ہیں، جن کے اثرات طویل عرصے تک معیشت پر پڑتے رہیں گے۔‘
سینیٹر کرس مرفی نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’تقریر ایک ایسی حقیقت پر مبنی تھی جو صرف ڈونلڈ ٹرمپ کے ذہن میں موجود ہے۔‘
مرفی نے مزید کہا کہ ’اس تقریر کو سننے کے بعد امریکہ میں کوئی بھی یہ نہیں جانتا کہ ہم کشیدگی بڑھا رہے ہیں یا کم کر رہے ہیں۔‘
صبح 8 بج کر 45 منٹ
ایرانی صدر کا امریکیوں کے نام پیغام
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی بدھ کو ایک بیان کیا جس کا عنوان تھا: ’امریکی عوام کے نام، اور ان تمام لوگوں کے نام جو غلط بیانیوں اور گھڑی ہوئی کہانیوں کے سیلاب کے باوجود سچ کی تلاش میں ہیں اور بہتر زندگی کے خواہاں ہیں‘:
انہوں نے ایکس پر چار صفحات پر مشتمل ایک بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ ’ایران—اپنے نام، کردار اور شناخت کے اعتبار سے—انسانی تاریخ کی قدیم ترین مسلسل تہذیبوں میں سے ایک ہے۔ اپنی تاریخ اور جغرافیائی برتری کے باوجود، ایران نے اپنی جدید تاریخ میں کبھی جارحیت، توسیع پسندی، نوآبادیات یا غلبے کا راستہ اختیار نہیں کیا۔
’حتیٰ کہ قبضے، حملوں اور عالمی طاقتوں کے مسلسل دباؤ کے باوجود—اور اپنے کئی ہمسایہ ممالک پر فوجی برتری رکھنے کے باوجود—ایران نے کبھی جنگ کا آغاز نہیں کیا۔ بلکہ اس نے ہمیشہ عزم اور بہادری کے ساتھ حملہ آوروں کا مقابلہ کیا ہے۔‘
To the people of the United States of America pic.twitter.com/3uAL4FZgY7
— Masoud Pezeshkian (@drpezeshkian) April 1, 2026
انہوں نے کہا کہ ’ایرانی عوام دیگر اقوام، بشمول امریکہ، یورپ اور ہمسایہ ممالک کے عوام کے خلاف کوئی دشمنی نہیں رکھتے۔
’فطری طور پر، کوئی بھی ملک ایسے حالات میں اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے سے دستبردار نہیں ہوگا۔ ایران نے جو کیا ہے، اور جو کر رہا ہے وہ جائز دفاع پر مبنی ایک متوازن ردِعمل ہے، نہ کہ جنگ یا جارحیت کا آغاز۔‘
مسعود پزشکیان نے سوال کیا کہ ’کیا یہ بھی حقیقت نہیں کہ امریکہ اس جارحیت میں اسرائیل کے لیے ایک پراکسی کے طور پر داخل ہوا ہے، اور اس حکومت کے زیرِ اثر ہے؟ کیا یہ درست نہیں کہ اسرائیل، ایران کے خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کر کے فلسطینیوں کے خلاف اپنے اقدامات سے عالمی توجہ ہٹانا چاہتا ہے؟ کیا یہ واضح نہیں کہ اسرائیل اب چاہتا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ آخری امریکی فوجی اور آخری امریکی ٹیکس دہندہ کے خرچ تک جاری رہے؟
صبح 08 بجے
ایران پر حملوں کے بعد صدر ٹرمپ کا قوم سے پہلا خطاب
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ کے بارے میں قوم سے اپنے پہلے خطاب میں کہا کہ ’آج رات مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ ہم بنیادی سٹریٹیجک مقاصد مکمل کرنے کے قریب ہیں۔‘
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو کہا کہ امریکہ، ایران کے خلاف جنگ میں اپنے مقاصد کی’تکمیل کے قریب‘ ہے اور اس تنازعے میں ’زبردست فتوحات‘ حاصل کرنے پر انہوں نے امریکی افواج کی تعریف کی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ان گذشتہ چار ہفتوں میں ہماری مسلح افواج نے میدان جنگ میں تیز، فیصلہ کن اور زبردست فتوحات حاصل کی ہیں، ایسی فتوحات جیسی اس سے پہلے کم ہی لوگوں نے دیکھی ہوں گی۔‘
ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ایران کے خلاف جنگ کی وجہ سے خلیجی عرب اتحادیوں اور اسرائیل کو ’نقصان اٹھانے یا ناکام ہونے‘ نہیں دے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکی فوجی کارروائیوں کے 32 دن بعد، ایران ’واقعی اب کوئی خطرہ نہیں رہا۔‘
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’ہماری پیش رفت کی بدولت، میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ ہم جلد ہی اپنے تمام فوجی اہداف مکمل کرنے کی راہ پر ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
’ہم آنے والے چند ہفتوں میں ان پر شدید حملے کریں گے اور انہیں واپس پتھر کے دور میں لے جائیں گے جہاں سے ان کا تعلق ہے۔‘
امریکی صدر نے آبنائے ہرمز سے تیل حاصل کرنے والے ممالک پر زور دیا کہ وہ ’ہمت‘ کریں اور اس اہم آبی گزرگاہ پر قبضہ کر لیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا، ’دنیا کے وہ ممالک جو آبنائے ہرمز سے تیل حاصل کرتے ہیں، انہیں اس گزرگاہ کی دیکھ بھال کرنی چاہیے۔ بس اس پر قبضہ کریں، اس کی حفاظت کریں، اسے اپنے لیے استعمال کریں۔‘
’ہم نے ایران کو فوجی اور معاشی طور پر بری طرح کمزور کر دیا ہے۔ جو ممالک آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل حاصل کرتے ہیں، اب انہیں اس گزرگاہ کی حفاظت خود کرنی ہوگی۔
’ہم مدد کریں گے، لیکن انہیں اس تیل کے تحفظ میں خود قیادت کرنی چاہیے جس پر وہ شدت سے انحصار کرتے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’وہ ممالک جو ایندھن حاصل نہیں کر سکتے، جن میں سے بہت سے ایران کے خلاف اس کارروائی میں شامل ہونے سے انکار کیا ان کے لیے میرے پاس تجویز ہے۔ وہ امریکہ سے تیل خریدیں، کچھ ہمت کریں اور آبنائے ہرمز خود لے لیں۔‘
انہوں نے ’مشرق وسطیٰ میں اپنے اتحادیوں اسرائیل، سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، کویت اور بحرین‘ کا بھی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ بہت عظیم رہے ہیں، اور ہم انہیں کسی بھی صورت، شکل یا طریقے سے نقصان اٹھانے یا ناکام نہیں ہونے دیں گے۔‘