پاکستان کی سفارتی کامیابی ہے کہ وہ عارضی طور پر جنگ بندی کروانے اور اسلام آباد میں مذاکرات کروانے میں کامیاب ہوا ہے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان مستقل جنگ بندی کا معاہدہ ہو جاتا ہے تو کیا پاکستان کی سفارتی کامیابی کو معاشی کامیابی میں تبدیل کیا جا سکے گا؟
کیونکہ سیاست میں کریڈٹ سے زیادہ اہم ’کیش‘ ہوتا ہے، یعنی حقیقی معاشی فائدہ۔
اگر مذاکرات کامیاب ہو گئے تو سب سے پہلے آبنائے ہرمز کا راستہ مستقل طور پر بحال ہو سکتا ہے، جس سے تیل کی سپلائی میں رکاوٹ فوری ختم ہو سکتی ہے۔ عالمی سپلائی بحال ہونے سے تیل کی قیمت کم ہو سکتی ہے۔
پاکستان میں تیل کی سپلائی کا مسئلہ نہیں ہے، اصل مسئلہ قیمتوں کا ہے۔ کشیدگی کی وجہ سے انشورنش کا خرچ سب سے زیادہ بڑھ چکا ہے۔
’وار رسک پریمیم‘ میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ یہ پریمیم 0.25 فیصد سے بڑھ کر پانچ فیصد تک پہنچ گیا ہے۔
امن معاہدے سے انشورنس کا خرچ کم ہونے سے تیل کی عالمی قیمت کم ہو سکتی ہے جس کا فائدہ پاکستان کو پہنچ سکتا ہے۔
امپورٹ بل میں کمی، مہنگائی میں ممکنہ کمی اور روپے پر دباؤ میں نرمی، یہ سب ایسے فوائد ہیں جو عوام کو فوری ریلیف دے سکتے ہیں۔
متحدہ عرب امارات کو تقریباً 3.5 ارب ڈالرز اور 1.4 ارب ڈالرز یورو بانڈز کی ادائیگی کے بعد پاکستان کے ڈالر کے ذخائر تقریباً 11 ارب ڈالرز رہ جائیں گے جبکہ آئی ایم ایف کی شرط کے مطابق جون 2026 تک پاکستان نے اسے 18 ارب ڈالرز تک پہنچانا ہے، جس کے لیے دوست ممالک اور کچھ بینکوں سے بات ہو رہی ہے۔
امن قائم کروانے کے بعد پاکستان یہ قرض لمبے عرصے کے لیے کم شرح سود پر حاصل کر سکتا ہے۔
بیرونی سرمایہ کاری کا ملک میں نہ آنا اور موجودہ سرمایہ کاروں کا ملک سے جانا اس وقت ایک بڑا مسئلہ ہے۔
تیسری عالمی جنگ رکوانے والے ملک میں بیرونی سرمایہ کاری لانا نسبتاً آسان ہو سکتا ہے۔
ملک میں سیاسی استحکام آ سکتا ہے جو کہ بیرونی سرمایہ کاری کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔
امن معاہدے کے بعد ترسیلات زر میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں امن سے تجارتی سرگرمیاں بڑھ سکتی ہیں، جس کا فائدہ پاکستان کو ہو سکتا ہے.
سعودی عرب میں تقریباً 26 لاکھ اور متحدہ عرب امارات میں تقریباً 15 لاکھ پاکستانی روزگار کما رہے ہیں، جن میں سے سعودی عرب سے تقریباً 10 ارب ڈالر اور متحدہ عرب امارات سے تقریباً سات ارب ڈالرز پاکستان بھیجتے ہیں۔
ترسیلات زر پاکستان کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں اور ان میں استحکام یا اضافہ ملکی مالیاتی پوزیشن کو بہتر بنا سکتا ہے۔
پاکستان ایران رسمی تجارت تقریباً تین ارب ڈالر ہے، جسے پچھلے سال 10 ارب ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق ہوا تھا۔
اس وقت بھی بلوچستان میں ایرانی تیل کی قیمت 280 روپے فی لیٹر ہے اور گوادر ایئرپورٹ کو بجلی ایران سے فراہم کی جاتی ہے۔
معاہدے کے نتیجے میں پابندیوں میں نرمی کے باعث ملکی سطح پر ایران سے سستی بجلی اور گیس حاصل کی جا سکتی ہے اور عام آدمی کی زندگی بہتر بنائی جا سکتی ہے۔
ایران پاکستان گیس پائپ لائن مکمل ہو سکتی ہے اور پاکستان ایران کے 18 ارب ڈالر کے ممکنہ جرمانے سے بچ سکتا ہے۔
ماضی میں جب بھی پاکستان کی جیو پولیٹیکل اہمیت بڑھی، عالمی طاقتوں اور مالیاتی اداروں کا رویہ نسبتاً نرم ہوا ہے۔
2013 سے 2016 تک کے آئی ایم ایف پروگرام میں پاکستان نے آئی ایم ایف سے تقریباً 18 مرتبہ رعایت حاصل کی تھی۔
پاکستان اس وقت بھی آئی ایم ایف اہداف حاصل نہیں کر سکا تھا، جن میں گردشی قرضے، ٹیکس اہداف، نجکاری، بجٹ خسارہ اور سٹرکچرل ریفارمز جیسے معاملات سرفہرست تھے۔
امریکہ اس وقت افغانستان سے نکلنے کی تیاری کر رہا تھا جس کی وجہ سے پاکستان کی جیو پولیٹیکل اہمیت بہت بڑھ گئی تھی، اس لیے پاکستان نے نہ صرف آئی ایم ایف پروگرام میں رعایتیں حاصل کیں بلکہ اسے بروقت مکمل بھی کیا۔
موجودہ حالات میں بھی آئی ایم ایف سے بڑی رعایتیں حاصل کی جا سکتی ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اگر آئی ایم ایف سے ایکسپورٹ سیکٹر کے لیے انرجی سبسڈی کی منظوری لے لی جائے تو روزگار بڑھنے کے ساتھ ایکسپورٹ انڈسٹری بھی بحران سے نکل سکتی ہے۔
اگر معاہدہ ہو جاتا ہے تو امریکہ اسے اپنی جیت کے طور پر پیش کر سکتا ہے اور پاکستان امریکہ کا اہم اتحادی بن سکتا ہے۔ پاکستان امریکہ کو تقریباً چھ ارب ڈالرز کی برآمدات کرتا ہے۔
حال ہی میں امریکہ کی جانب سے پاکستانی مصنوعات پر خطے میں سب سے کم ٹیرف لگایا گیا تھا لیکن مطلوبہ فائدہ حاصل نہیں ہو سکا۔
پاکستان نے دونوں اطراف سے ٹریڈ پر زیرو ٹیرف کی پیش کش کی تھی جسے قبول نہیں کیا گیا تھا۔
موجودہ حالات میں زیرو ٹیرف کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے، جس سے پاکستان کی امریکہ برآمدات میں تین گنا اضافہ ممکن ہے۔
جب سے امریکہ ایران کشیدگی شروع ہوئی ہے پاکستان میں سٹاک ایکسچینج تقریباً 16,000 پوائنٹس نیچے گری ہے۔
عارضی جنگ بندی کے بعد اس میں ایک دن میں تقریباً 10 فیصد بہتری آئی ہے۔ اس وقت کے ایس ای 100 انڈیکس تقریباً 166,000 پوائنٹس ہے اور تقریباً دو ماہ قبل یہ 189,000 پوائنٹس سے تجاوز کر گیا تھا۔
اگر لانگ ٹرم امن معاہدہ ہو جاتا ہے تو مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 200,000 پوائنٹس سے تجاوز کر سکتی ہے۔
سفارتی کامیابی کو معاشی کامیابی میں تبدیل کرنے کے لیے مضبوط حکمت عملی درکار ہے۔ ایسا موقع صدیوں میں ایک بار آتا ہے۔
اگر اب بھی ملک کی معاشی سمت درست نہ کی جا سکی تو شاید دوبارہ سنبھلنے کا موقع نہ مل سکے۔
قلیل مدت میں یہ پیش رفت پاکستان کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہے لیکن طویل مدت میں پاکستان کو اپنی معاشی اور تجارتی پالیسیوں کو بہتر بنانا ہو گا تاکہ وہ نئے علاقائی حالات میں اپنا مقام برقرار رکھ سکے۔
نوٹ: یہ تحریر بلاگر کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔