وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے بدھ کو بتایا ہے کہ انہوں نے ایک مشترکہ کارروائی کے دوران افغان شہریوں کے لیے مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر جعلی دستاویزات بنانے میں ملوث چار ملزمان کو گرفتار کیا ہے جن میں نادرا کے ڈپٹی اسسٹنٹ ڈائریکٹر فیاض احمد جنجھی بھی شامل ہیں۔
کراچی میں نادرا کے ڈپٹی اسسٹنٹ ڈائریکٹر فیاض احمد جنجھی پیر کی شام دفتر سے نکلنے کے بعد لاپتہ ہو گئے تھے، جس کے بعد گلبرگ تھانے میں دفعہ 365 ’اغوا‘ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
تاہم اس بارے میں اب ایف آئی اے کی جانب سے بیان جاری کیا گیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ’قانون نافذ کرنے والے اداروں اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ نے مشترکہ انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائی کرتے ہوئے افغان شہریوں کے لیے غیر قانونی طور پر جعلی دستاویزات بنانے میں ملوث چار ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔‘
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق گرفتار ملزمان میں انعام الحق (اسسٹنٹ ڈائریکٹر، نادرا)، فیاض احمد (ڈپٹی اسسٹنٹ ڈائریکٹر، نادرا)، جنید احمد (چوکیدار، نادرا) اور محمد عمر شاہ (پرائیویٹ ایجنٹ) شامل ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر افغان شہریوں کے لیے جعلی شناختی دستاویزات کے اجرا، ریکارڈ میں ردوبدل اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں سہولت کاری میں ملوث تھے۔‘
وفاقی تحقیقاتی ادارے کے مطابق ’ابتدائی شواہد سے اس نیٹ ورک کے دہشت گرد عناصر سے روابط کی نشاندہی ہوئی ہے، جس پر مزید گہرائی سے تحقیقات جاری ہیں۔‘
فیاض احمد جنجھی سینیئر صحافی اور ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان ’ایچ آر سی پی‘ کی کونسل کے رکن سہیل سانگی کے صاحبزادے اور سینیئر صحافی ریاض سہیل کے بھائی ہیں۔
اس سے قبل سہیل سانگی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا تھا کہ ان کے بیٹے کراچی کے علاقے عائشہ منزل میں واقع نادرا کے دفتر میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے طور پر تعینات ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے بتایا تھا کہ ’پیر کی شام تقریباً چھ بجے وہ اپنی گاڑی میں دفتر سے روانہ ہوئے، لیکن اس کے بعد گھر نہیں پہنچے۔ ہم نے مسلسل ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، مگر ان کا موبائل فون بند ملا۔‘
ان کے مطابق اہل خانہ نے نادرا کے دفتر سے بھی رابطہ کیا، جہاں ساتھیوں نے بتایا کہ فیاض احمد جنجھی معمول کے مطابق شام چھ بجے کے قریب دفتر سے روانہ ہوئے تھے، تاہم اس کے بعد ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
سہیل سانگی کا کہنا تھا کہ ان کے بیٹے کے خلاف نہ کوئی انکوائری جاری تھی اور نہ ہی ان کی کسی سے ذاتی دشمنی تھی۔
دوسری جانب گلبرگ تھانے میں درج ایف آئی آر کے مطابق فیاض احمد جنجھی 20 جولائی کی شام تقریباً ساڑھے چھ بجے سے لاپتہ ہیں۔ مقدمہ دفعہ 365 کے تحت درج کیا گیا ہے، جو اغوا سے متعلق ہے۔
پولیس کو دی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ اہل خانہ نے ہر ممکن جگہ تلاش اور رابطے کی کوشش کی، تاہم ان کا کوئی پتا نہیں چل سکا۔
آئی جی سندھ پولیس کے ترجمان سید سعد علی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ انسپیکٹر جنرل سندھ جاوید عالم اوڈھو کی ہدایت پر سندھ پولیس سینیئر صحافی سہیل سانگی سے مسلسل رابطے میں ہے۔