صحافی فخر الرحمٰن کی ضمانت کی درخواست منظور

عدالت نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے ایک لاکھ کے مچلکوں کے عوض فخر الرحمٰن کی ضمانت منظور کی ہے۔

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے مطابق واقعے کی باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے اور شواہد کی روشنی میں مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی(سکرین گریب: فخر الرحمٰن ایکس اکاؤنٹ)

اسلام آباد کی مقامی عدالت نے پیر کو صحافی فخر الرحمٰن کی ضمانت کی درخواست منظور کر لی۔

عدالت نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے ایک لاکھ کے مچلکوں کے عوض ان کی ضمانت منظور کی ہے۔

وکیل کی درخواست پر عدالت نے مچلکے 50 ہزار کر دیے ہیں۔

ہفتے کو مقامی عدالت نے یشنل سائبر کرائم انویسٹی یشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے صحافی فخر الرحمٰن کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا تھا۔

سماعت کے دوران وکیل صفائی احد کھوکھر نے مؤقف اختیار کیا کہ فخر الرحمٰن  نے کسی جھوٹی معلومات کو خود تخلیق نہیں کیا بلکہ ایک مذہبی شخصیت کے بیان کو بطور حوالہ ٹویٹ کیا۔ ان کے مطابق اسی ویڈیو کو ہزاروں دیگر اکاؤنٹس نے بھی شیئر کیا جبکہ اصل بیان دینے والے کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

وکیل صفائی نے عدالت کو بتایا کہ فخر الرحمٰن  نے این سی سی آئی اے کے نوٹس کا جواب دیا اور تفتیش میں مکمل تعاون کر رہے ہیں، اس لیے انہیں کیس سے ڈسچارج کیا جائے۔

دوسری جانب این سی سی آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ ملزم نے ٹویٹ کو اپنا تسلیم کیا ہے تاہم موبائل فون کا پاس ورڈ فراہم نہیں کیا، جس کے باعث مزید تفتیش ضروری ہے اور جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔

اس سے قبل این سی سی آئی اے نے سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر ’جھوٹی اور گمراہ کن معلومات‘ پھیلانے کے الزام میں صحافی فخر الرحمن سمیت متعدد افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔

نامزد افراد میں شامل فخر الرحمن، جو آج نیوز سمیت کئی اداروں میں کام کر چکے ہیں، کو  پہلے ہی گرفتار کیا جا چکا تھا۔

جمعے کی شب افضل بٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک ڈاکومنٹ شئیر کیا ہے جس میں درج تفصیلات کے مطابق سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر اسلام آباد میں درج ایف آئی آر نمبر 61/2026 کے تحت کارروائی عمل میں لائی گئی۔ اس مقدمے میں 10 افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔

تاہم اس ایف آئی آر کی تصدیق تاحال سرکاری سطح پر متعلقہ ادارے اور اسلام آباد پولیس کی جانب سے نہیں کی گئی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان