معرکۂ حق: ایک تاریخی سنگ میل کی بازگشت

اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ جنگیں معیشت کو تباہ کر دیتی ہیں، لیکن ’معرکۂ حق‘ نے بظاہر پاکستان کے لیے معاشی خوشحالی کے نئے دروازے کھول دیے۔

21 مارچ 2024 کو اسلام آباد میں پاکستان ایئر فورس کے J-10C لڑاکا طیارے پاکستان کے قومی دن کی پریڈ سے قبل ایک ریہرسل میں پرفارم کر رہے ہیں (عامر قریشی / اے ایف پی)

مئی 2025 کے ایام  کیلنڈر کے عام دن نہیں تھے بلکہ وہ برصغیر کی جغرافیائی اور سیاسی تاریخ کے ایک نئے باب کا آغاز تھا۔

آج جب ہم ’معرکۂ حق‘ کی پہلی سالگرہ منا رہے ہیں، تو یہ صرف ایک فوجی فتح کی یادگار نہیں ہے، بلکہ یہ پاکستان کے وقار، خودداری اور ایک ذمہ دار ایٹمی قوت کے طور پر ابھرنے کا اعتراف ہے۔

وہ چار دن آج بھی عالمی دفاعی اداروں اور تزویراتی ماہرین کے لیے مطالعے کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔

یہ معرکہ ثابت کر گیا کہ جنگیں صرف عددی برتری یا بڑے بجٹ سے نہیں، بلکہ بصیرت، ایمان اور عوام و افواج کے ناقابلِ شکست اتحاد سے جیتی جاتی ہیں۔ پاکستان نے مئی 2025 میں نہ صرف اپنی سرحدوں کا دفاع کیا۔

 بلکہ جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن کو نئے سرے سے مرتب کرتے ہوئے ایک ایسی 'نئی حقیقت' (New Normal) کو جنم دیا جس میں پاکستان کی مرضی کے بغیر خطے کا کوئی بھی فیصلہ ناممکن ہو چکا ہے۔

جنگ کا پس منظر

انڈین قیادت، جو ہندوتوا کے انتہا پسند نظریات اور داخلی سیاسی بحرانوں سے توجہ ہٹانے کے لیے عرصے سے ایک ’محدود جنگ‘ کے خواب دیکھ رہی تھی، مئی 2025 میں اپنی تزویراتی حماقت کی انتہا کو پہنچ گئی۔

نئی دہلی کا خیال تھا کہ پاکستان کی معاشی مشکلات اور عالمی سطح پر بعض سفارتی چیلنجز اسے ایک آسان ہدف بنا دیں گے۔

انڈین پالیسی سازوں نے ’کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن‘ کے زعم میں یہ فرض کر لیا تھا کہ وہ پاکستان کے دفاعی حصار میں شگاف ڈالنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ لیکن وہ یہ بھول گئے کہ شیر جب زخمی ہوتا ہے تو وہ زیادہ خطرناک ہو جاتا ہے۔

انڈیا نے پاکستان کے صبر کو کمزوری سمجھا، مگر جب پاکستان کے ’اعصاب کی جنگ‘ شروع ہوئی، تو بھارت کی سیاسی اور عسکری قیادت کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔

پاکستان کی عسکری قیادت نے 'فل سپیکٹرم ڈیٹرنس' (Full Spectrum Deterrence) کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کو وہ سرپرائز دیا جس کا تصور ان کے کمپیوٹر سمولیشنز میں بھی موجود نہ تھا۔

عسکری شاہکار

’معرکۂ حق‘ کے دوران پاک فضائیہ نے جس مہارت کا مظاہرہ کیا، اس نے جدید فضائی جنگ (Modern Aerial Warfare) کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے۔

جے ایف-17 تھنڈر (JF-17 Thunder) بلاک III، جو پاکستان اور چین کے اشتراک کا شاہکار ہے، اس جنگ کا اصل ہیرو ثابت ہوا۔ ان طیاروں نے نہ صرف بھارتی فضائیہ کے مہنگے ترین رفال اور سخوئی-

30 طیاروں کا بھرپور مقابلہ کیا بلکہ ان کے جدید ترین دفاعی نظاموں کو ’جام‘ (Jam) کر کے یہ ثابت کر دیا کہ ٹیکنالوجی کی درست ایپلی کیشن اور پائلٹ کی جرات مندی کسی بھی عددی برتری پر بھاری ہوتی ہے۔

فتح کا اصل راز

اس معرکے کا سب سے اہم اور فیصلہ کن پہلو وہ ’نظریاتی فرق‘ تھا جو دونوں افواج کے درمیان واضح طور پر نظر آیا۔

ایک طرف انڈین فوجی تھے جو محض تنخواہ اور سیاسی مقاصد کے لیے میدان میں اتارے گئے تھے، جن کا مورال پہلی ہی ضرب پر گر گیا، اور دوسری طرف پاکستان کے غازی تھے۔

’معرکۂ حق‘ میں پاک فضائیہ  نے دشمن کے طیارے،  دشمن ہی کی سرزمین پر گراکر ایسی روحانی اور نفسیاتی برتری حاصل کی جس نے بھارتی سورماؤں کے دلوں میں وہ ہیبت بٹھا دی کہ وہ اپنے جدید ترین طیارے پاکستان کی سرحدوں سے تین سو کلومیٹر دور واپس لے جانے پر مجبور ہوگئے۔ 

عالمی بیانیے کی تبدیلی

اس جنگ سے پہلے دشمن کی لابیوں نے پاکستان کے خلاف ایک منفی بیانیہ (Narrative) قائم کرنے کی بھرپور کوشش کی تھی، لیکن ’معرکۂ حق‘ کی فتح نے اس پراپیگنڈے کے غبارے سے ہوا نکال دی۔

پاکستان نے جنگ کے دوران جس ذمہ داری اور اخلاقی برتری کا مظاہرہ کیا، اس نے دنیا کو حیران کر دیا۔

گرفتار دشمن فوجیوں کے ساتھ حسنِ سلوک اور شہری آبادی کو نشانہ بنانے سے گریز نے پاکستان کو ایک ’سویلائزڈ پاور‘ (Civilized Power) کے طور پر منوایا۔

اس کے نتیجے میں، امریکہ، روس اور یورپی ممالک جو کبھی بھارت کی طرف جھکاؤ رکھتے تھے، اب پاکستان کی تزویراتی اہمیت اور اس کی امن پسند مگر طاقتور حیثیت کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو گئے۔

آج واشنگٹن سے بیجنگ تک، پاکستان کو ایک ’سکیورٹی فراہم کنندہ‘ (Security Provider) کے طور پر دیکھا جا رہا ہے نہ کہ ایک سکیورٹی لینے والے ملک کے طور پر۔

سفارتی محاذ اور مشرقِ وسطیٰ میں نیا کردار

’معرکۂ حق‘ کے بعد پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ایک نئی خود اعتمادی پیدا ہوئی۔ مشرقِ وسطیٰ کے برادر ممالک، بالخصوص سعودی عرب، اور قطر نے پاکستان کی اس فتح کو عالمِ اسلام کی فتح قرار دیا۔

سعودی عرب کے ساتھ نئے دفاعی معاہدوں نے خطے میں ایک نئے 'اسلامک سکیورٹی بلاک' کی بنیاد رکھ دی ہے۔

پاکستان اب محض ایک ریاست نہیں، بلکہ مسلم امہ کا وہ قلعہ بن کر ابھرا ہے جس کی طرف تمام اسلامی ممالک اپنی حفاظت اور رہنمائی کے لیے دیکھ رہے ہیں۔

تہران اور واشنگٹن کے درمیان پاکستان کا ثالثی کردار اس کی بڑھتی ہوئی سفارتی ساکھ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

معاشی استحکام اور ’سافٹ پاور‘ کا عروج

اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ جنگیں معیشت کو تباہ کر دیتی ہیں، لیکن 'معرکۂ حق' نے بظاہر پاکستان کے لیے معاشی خوشحالی کے نئے دروازے کھول دیے۔

دفاعی صنعت، بالخصوص جے ایف-17 اور ڈرون ٹیکنالوجی کی عالمی مانگ میں کئی گنا اضافہ ہوا، جس سے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا ملا۔

عالمی سرمایہ کاروں نے، جو پہلے پاکستان کو ایک غیر مستحکم ملک سمجھتے تھے، اب اسے ایک محفوظ اور مضبوط ریاست کے طور پر دیکھنا شروع کر دیا ہے۔

سی پیک (CPEC) کے منصوبوں میں تیزی آئی۔ اس کے ساتھ ساتھ، کھیلوں اور فنونِ لطیفہ میں بھی پاکستانی نوجوانوں نے عالمی سطح پر پرچم بلند کیا، جس سے پاکستان کی 'سافٹ پاور' میں بے پناہ اضافہ ہوا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انڈیا کے لیے عبرت

دوسری طرف، انڈیا کے لیے یہ ایک سال انتہائی تلخ رہا۔ 'معرکۂ حق' میں شکست نے انڈیا کے اندرونی تضادات کو نمایاں کر دیا۔ ہندوتوا بیانیے کی ناکامی نے مودی حکومت کی ساکھ کو عالمی سطح پر خاک میں ملا دیا۔

بھارتی عوام نے یہ سوال پوچھنا شروع کر دیا کہ کھربوں روپے کے دفاعی بجٹ کے باوجود ان کی فوج ایک 'چھوٹے' ملک سے چار دن میں کیسے ہار گئی؟

بھارت کی دفاعی منڈی، جو کبھی روسی اور مغربی ہتھیاروں کا مرکز تھی، اب اپنے دفاعی سودوں پر نظر ثانی کر رہی ہے۔ اس کا وہ غرور کہ وہ چین کا مقابلہ کر سکتا ہے، معرکۂ حق کی چوٹ سے چکنا چور ہو چکا ہے۔

ایک روشن مستقبل کی نوید

ایک سال گزرنے کے بعد، ’معرکۂ حق‘ کی یادیں آج بھی ہر پاکستانی کے دل کو گرما دیتی ہیں۔ پاکستان اب ایک ایسے دور میں داخل ہو چکا ہے جہاں اس کی آواز عالمی فورمز پر سنی جاتی ہے۔

ہمیں اس فتح کو محض ایک یادگار کے طور پر نہیں رکھنا، بلکہ اسے ایک روشن مستقبل کی بنیاد بنانا ہے۔

ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد برقرار رکھنا ہے، اپنی معیشت کو مزید مستحکم کرنا ہے اور اپنی نوجوان نسل کو اس جذبے سے روشناس کروانا ہے جس نے مئی 2025 میں ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔

آج کا پاکستان، کل کے پاکستان سے زیادہ مضبوط، زیادہ پر عزم اور زیادہ پُر اعتماد ہے۔ اور یہی 'معرکۂ حق' کا اصل پیغام ہے۔

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی رائے پر مبنی ہے ادارے کا متفق ہونا صروری نہیں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ