عالمی سیاست کے پیچیدہ، پرآشوب اور غیر یقینی منظرنامے میں بعض لمحات ایسے ہوتے ہیں جو محض خبر نہیں بنتے بلکہ وہ تاریخ کا دھارا موڑنے کی طاقت رکھتے ہیں۔
آج جب دنیا ایٹمی جنگ کے دہانے پر کھڑی تھی، جب مشرق وسطیٰ کے صحرا بارود کی بو سے بوجھل تھے اور جب واشنگٹن سے تہران تک صرف دھمکیوں کی گونج سنائی دے رہی تھی، تب کوہ ہمالیہ کے دامن سے اٹھنے والی ایک آواز نے دنیا کو ٹھہرنے پر مجبور کر دیا۔
پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان بظاہر ناممکن نظر آنے والی ’جنگ بندی‘ کو ممکن بنا کر نہ صرف اپنی سفارتی مہارت کا لوہا منوایا بلکہ یہ ثابت کر دیا کہ تزویراتی توازن اور امن کی زبان آج بھی سب سے بڑا ہتھیار ہے۔
یہ محض ایک عارضی فائربندی نہیں بلکہ یہ پاکستان کی عالمی سیاست میں اس ’گرینڈ انٹری‘ کا اعلان ہے جس کا انتظار دہائیوں سے کیا جا رہا تھا۔
تاریخی تسلسل: 1971 سے 2026 تک کا طویل سفر
پاکستان کی خارجہ پالیسی کے طالب علم جانتے ہیں کہ 1971 میں پاکستان نے امریکہ اور چین کے درمیان جس خفیہ سفارت کاری کی بنیاد رکھی تھی، اس نے سرد جنگ کا نقشہ بدل دیا تھا۔
اس وقت کے ہنری کسنجر کے دورہ چین کی راہ ہموار کرنا پاکستان کا وہ کارنامہ تھا جسے آج بھی بین الاقوامی تعلقات کی نصابی کتابوں میں پڑھایا جاتا ہے۔
تاہم، اس کے بعد کی کئی دہائیاں پاکستان کے لیے کٹھن تھیں۔
سرد جنگ کے خاتمے، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور علاقائی تنازعات نے پاکستان کو دفاعی پوزیشن پر لاکھڑا کیا تھا۔
لیکن حالیہ برسوں میں اسلام آباد کی نئی قیادت، بشمول وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور تجربہ کار وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے جس خاموشی اور تدبر سے اپنی بساط بچھائی، اس نے دنیا کو حیران کر دیا۔
1971 کی ’پل سازی‘ سے شروع ہونے والا یہ سفر آج 2026 میں ’امن کی بحالی‘ کے ایک ایسے مقام پر پہنچ چکا ہے جہاں پاکستان صرف ایک سہولت کار نہیں بلکہ ایک فیصلہ کن ثالث کے طور پر ابھرا ہے۔
انڈیا کے منفی بیانیے کا عبرتناک انجام
پاکستان کی اس کامیابی کو سمجھنے کے لیے اس کے حریف ملک انڈیا کی سازشوں کا ذکر ناگزیر ہے۔
انڈیا نے گذشتہ ایک دہائی سے پوری دنیا میں پاکستان کو ’تنہا‘ کرنے کی مہم چلا رکھی تھی۔
دہلی کا بیانیہ یہ تھا کہ پاکستان سفارتی طور پر اپاہج ہو چکا ہے، لیکن قدرت کا نظام دیکھیے کہ انڈیا کی اپنی ہی چالیں اس پر الٹی پڑ گئیں۔
پہلگام واقعے کے بعد جب انڈیا نے بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر جنگ مسلط کرنے کی کوشش کی تو اسے چار روزہ جنگ میں وہ منہ توڑ جواب ملا جس کی توقع انڈین عسکری قیادت کو نہیں تھی۔
اس جنگ میں پاکستان کی عسکری برتری اور سفارتی تحمل نے دنیا کے سامنے واضح کر دیا کہ طاقت کا توازن کدھر ہے۔
خود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا پاکستان کی عسکری پیشہ ورانہ مہارت کا اعتراف کرنا اس بات کی مہر تھی کہ اب انڈیا کا ’مظلومیت کا کارڈ‘ ناقابل فروخت ہو چکا ہے۔
انڈیا جو پاکستان کو ’تاریک گڑھے‘ میں دھکیلنا چاہتا تھا، آج خود اپنی ناکام خارجہ پالیسی کے باعث دفاعی پوزیشن پر ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کا بحران: جب دنیا ایک ہولناک جنگ کے دہانے پر تھی
حالیہ ہفتوں میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی نے تمام حدیں پار کر دی تھیں۔
ایران کی جانب سے خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں پر حملے اور اس کے جواب میں امریکہ کی جانب سے تہران پر براہ راست حملوں کی دھمکیوں نے عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔
آبنائے ہرمز کی بندش کے خطرے نے عالمی توانائی کی سپلائی چین کو منجمد کر دیا تھا۔
ایسے میں دنیا کسی ایسے مسیحا کی تلاش میں تھی جو تہران اور واشنگٹن، دونوں کا اعتماد رکھتا ہو۔
یہ ایک ایسا کٹھن امتحان تھا جہاں بڑی بڑی عالمی طاقتیں ناکام ہو چکی تھیں۔
روس اپنی جغرافیائی الجھنوں میں مصروف تھا اور یورپی یونین محض بیانات تک محدود تھی۔
یہی وہ خلا تھا جسے پاکستان نے اپنی ’متوازن خارجہ پالیسی‘ سے پُر کیا۔
عالمگیر پذیرائی: عالمی رہنماؤں کے پیغامات اور تہنیتی رابطے
پاکستان کی اس ’خاموش سفارتکاری‘ کی گونج پیرس سے لے کر بیجنگ اور ریاض سے لے کر لندن تک سنائی دے رہی ہے۔
تقریباً 25 سے زائد عالمی سربراہانِ مملکت نے براہِ راست وزیراعظم شہباز شریف اور اعلیٰ قیادت کو فون کر کے تہران اور واشنگٹن کے درمیان جنگ بندی کروانے پر مبارک باد دی ہے اور اسے ’صدی کا بڑا سفارتی معجزہ‘ قرار دیا ہے۔ ان میں نمایاں ممالک درج ذیل ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف کو خود ٹیلی فون کیا اور ان الفاظ میں شکریہ ادا کیا ’پاکستان نے وہ کر دکھایا جو ناممکن نظر آتا تھا۔ آپ کی قیادت نے ثابت کیا کہ پاکستان عالمی امن کے لیے کتنا ناگزیر ہے۔‘
یہ الفاظ کسی بھی ملک کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک بہت بڑی سند کی حیثیت رکھتے ہیں۔
ایران نے پاکستان کی برادرانہ کوششوں اور مشکل وقت میں ساتھ دینے پر شکریہ ادا کیا۔
ترکی، جو خود پاکستان کے ساتھ مل کر اس جنگ کو رواکنے میں پیش پیش رہا ہے کہ صدر رجب طیب اردوغان نے وزیراعظم شہباز شریف کو ٹیلی فون کرتے ہوئے پاکستان کی جانب سے امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششں کی تعریف کی اور انہیں ہر ممکنہ تعاون فراہم کرنے کی یقین دہانی کرواِئی۔
خادم الحرمین الشریفین اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو خصوصی تہنیتی پیغامات بھیجے، جن میں پاکستان کے کردار کو ’امت مسلمہ اور عالمی استحکام کے لیے ریڑھ کی ہڈی‘ قرار دیا گیا۔
چینی صدر شی جن پنگ نے اپنے پیغام میں پاکستان کو ’عالمی امن کا ایک ذمہ دار ستون‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین کی شراکت داری اب محض معاشی نہیں رہی بلکہ عالمی تنازعات کے حل کے لیے ایک نمونہ بن چکی ہے۔
برطانوی وزیراعظم، فرانس کے صدر اور یورپی یونین کے اعلیٰ نمائندگان نے وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے رابطہ کر کے اس بات پر حیرت اور خوشی کا اظہار کیا کہ کس طرح پاکستان نے انتہائی کم وقت میں تہران اور واشنگٹن کو ایک میز پر بیٹھنے پر آمادہ کیا۔
پاکستان کی اس حالیہ سفارتی کامیابی کا سب سے روشن پہلو وہ غیر معمولی ردعمل ہے جو دنیا کے طاقت ور ترین دارالحکومتوں سے سامنے آیا ہے۔
یہ محض رسمی بیانات نہیں تھے بلکہ یہ اس بات کا اعتراف تھا کہ جب دنیا ایک بند گلی میں پھنس چکی تھی تو پاکستان نے اس دیوار میں راستہ پیدا کیا۔
گذشتہ چند دنوں کے دوران وزیراعظم ہاؤس اور وزارت خارجہ میں عالمی رہنماؤں کے ٹیلی فون کالز کا ایک تانتا بندھ گیا۔
تزویراتی توازن: پاکستان کی منفرد طاقت کا راز
پاکستان کی اس کامیابی کا اصل راز اس کے وہ تعلقات ہیں جو کسی اور ملک کے پاس اس امتزاج میں موجود نہیں:
ایران کے ساتھ برادرانہ تعلقات: ایک پڑوسی اور اسلامی ملک کے طور پر پاکستان کا تہران میں خاص مقام ہے۔
امریکہ کے ساتھ اسٹریٹجک روابط: تمام تر اتار چڑھاؤ کے باوجود واشنگٹن پاکستان کی سیکیورٹی اہمیت سے واقف ہے۔
سعودی عرب اور خلیج: پاکستان خلیجی ممالک کا سب سے بڑا دفاعی پارٹنر ہے۔
چین کی حمایت: بیجنگ کا اعتماد پاکستان کی پیٹھ پر ایک ہمالیائی دیوار کی طرح موجود ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ان تمام کارڈز کو اتنی مہارت سے کھیلا کہ جب صدر ٹرمپ نے ایران کو آخری الٹی میٹم دیا، تو پاکستان واحد ملک تھا جس نے دونوں دارالحکومتوں کے درمیان ہاٹ لائن کھولی اور محض دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی پر سب کو راضی کر لیا۔
اسلام آباد، عالمی سفارت کاری کا نیا جنیوا
تاریخ کی کتابوں میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا جب امریکہ کے نائب صدر اور ایران کے وزیر خارجہ ایک ہی وقت میں اسلام آباد کی سرزمین پر قدم رکھا۔
یہ منظر عالمی سیاست میں پاکستان کی ’برانڈ ویلیو‘ کو بدلنے کے لیے کافی ہے۔ اسلام آباد، جو کبھی عالمی میڈیا میں صرف چیلنجز کی وجہ سے زیرِ بحث رہتا تھا، آج جینیوا اور ویانا کی طرح امن کا استعارہ بن رہا ہے۔
یہ مذاکرات اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان نے نہ صرف آگ بجھائی ہے بلکہ اب وہ اس راکھ سے امن کے پودے اگانے کا ارادہ رکھتا ہے۔
عالمی میڈیا اور بین الاقوامی ایجنسیوں کا اعتراف
پاکستان کی اس سفارتی فتح پر عالمی میڈیا کے تبصرے دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ ’پاکستان نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ وہ جغرافیائی طور پر جتنا اہم ہے اور سفارتی طور پر اتنا ہی ناگزیر بھی۔‘
اسلام آباد کی 'خاموش لیکن مؤثر سفارتکاری نے اس بحران کو ٹالا ہے جسے دنیا کا کوئی اور ملک ٹالنے کی ہمت نہیں رکھتا تھا۔
اسلام آباد اب عالمی سیاست کا نیا مرکز بن چکا ہے۔
پاکستان کی سکیورٹی قیادت اور سول حکومت نے مل کر وہ تزویراتی توازن (Strategic Balance) پیدا کیا ہے جو اس سے پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آیا۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ نے پاکستان کو ایک پل بنانے والا ملک قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ صدر ٹرمپ کا پاکستان پر اعتماد کرنا اس خطے میں نئی امریکی ترجیحات کا عکاس ہے۔
عالمی رہنماؤں نے بشمول اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل، پاکستان کی قیادت کو ٹیلی فون کر کے اس کا شکریہ ادا کیا ہے کہ انہوں نے انسانیت کو ایک عظیم تباہی سے بچا لیا۔
پاکستان نے ثابت کر دیا کہ اس کی اہمیت کو نظر انداز کرنا عالمی سیاست میں ایک بڑی غلطی ہوگی۔
ایران اور امریکہ کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی پاکستان کے سفارتی قد میں اضافے کا واضح ثبوت ہے۔
سی این این اور بی بی سی نے اپنی ہیڈ لائنز میں پاکستان کو ’مشرقِ وسطیٰ کا نجات دہندہ‘ قرار دیا۔
انڈیا میں صفِ ماتم اور اندرونی خلفشار
پاکستان کی اس عالمی پذیرائی نے انڈیا میں ایک ایسی صورتحال پیدا کر دی ہے جسے سفارتی حلقوں میں ’سانپ سونگھ جانا‘ کہا جاتا ہے۔
انڈیا نے کروڑوں ڈالر خرچ کر کے جو ’پاکستان مخالف بیانیہ‘ بنایا تھا، وہ ریت کی دیوار ثابت ہوا۔
انڈین میڈیا میں اس وقت ایک کہرام مچا ہوا ہے۔ معروف انڈین اخبار دی ہندو اور انڈین ایکسپریس کے تجزیہ نگاروں نے لکھا ہے ’جب پاکستان دنیا کے بڑے تنازعات حل کروا رہا ہے، انڈیا اپنی ہی انتہا پسندانہ پالیسیوں کی وجہ سے خطے میں تنہا ہوتا جا رہا ہے۔
انڈین اپوزیشن، خصوصاً کانگریس کے رہنماؤں نے مودی کی خارجہ پالیسی کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔
انڈین میڈیا کے سنجیدہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ’جب پاکستان دنیا کو بچانے کے لیے تہران اور واشنگٹن کو ایک میز پر لا رہا تھا، مودی سرکار صرف نفرت انگیز بیانیہ بنانے میں مصروف تھی۔‘
انڈین ٹی وی چینلز پر ہونے والی بحثوں میں یہ اعتراف کیا جا رہا ہے کہ پاکستان نے سفارتی میدان میں انڈیا کو کوسوں پیچھے چھوڑ دیا ہے اور اب انڈیا عالمی سطح پر الگ تھلگ محسوس کر رہا ہے۔
چیلنجز کا پہاڑ اور پاکستان کی استقامت
اس کامیابی کا راستہ پھولوں کی سیج نہیں تھا۔ پاکستان کو ایک طرف افغانستان سے ابھرنے والے سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا تھا تو دوسری طرف شدت پسند عناصر ملک کے اندر بدامنی پھیلانے کی کوشش کر رہے تھے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
لیکن سلامتی کے اداروں اور سیاسی قیادت کے درمیان مثالی ہم آہنگی نے ان تمام رکاوٹوں کو عبور کیا۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں عسکری سفارتکاری نے سول قیادت کے ہاتھ مضبوط کیے، جس کے نتیجے میں پاکستان بیک وقت داخلی سکیورٹی اور عالمی امن دونوں محاذوں پر سرخرو ہوا۔
چین کا کردار اور کثیرالجہتی سفارتکاری
اس پورے عمل میں پاکستان نے اپنے سب سے قابل اعتماد دوست چین کو کبھی نظر انداز نہیں کیا۔
وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا دورہ بیجنگ اس سلسلے کی کڑی تھا جہاں انہوں نے اس سفارتی مشن کے لیے چین کی مکمل حمایت حاصل کی۔
یہ کثیرالجہتی سفارتکاری کی بہترین مثال ہے جہاں پاکستان نے مشرق اور مغرب کے درمیان توازن برقرار رکھتے ہوئے ایک نیا ’عالمی آرڈر‘ پیش کیا ہے۔
مستقبل کا منظرنامہ: عارضی جنگ بندی سے مستقل امن تک
اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا یہ دو ہفتوں کی جنگ بندی مستقل امن میں بدل سکتی ہے؟ بلاشبہ یہ ایک ہمالیائی ٹاسک ہے۔
پاکستان کو آنے والے دنوں میں مندرجہ ذیل محاذوں پر کام کرنا ہوگا:
اعتماد کی بحالی: امریکہ اور ایران کے درمیان دہائیوں پرانی خلیج کوختم کرنا۔
توانائی کا بحران: عالمی معیشت کو سہارا دینے کے لیے تیل کی قیمتوں میں استحکام۔
علاقائی سلامتی: اسرائیل کے جارحانہ عزائم کو عالمی دباؤ کے ذریعے روکنا۔
اگر پاکستان ان مذاکرات کو ایک منطقی انجام تک پہنچانے میں کامیاب ہو جاتا ہے، تو یہ نہ صرف اس صدی کی سب سے بڑی سفارتی فتح ہوگی بلکہ پاکستان کو مستقل طور پر ’عالمی امن کے ضامن‘ کا درجہ مل جائے گا۔
ایک نئی صبح کا آغاز
پاکستان نے ثابت کر دیا ہے کہ قومیں صرف مادی وسائل سے نہیں، بلکہ بصیرت، ہمت اور بہترین سفارتکاری سے عظیم بنتی ہیں۔
جہاں دنیا کے بڑے بڑے نامور ڈپلومیٹس ناکام ہو گئے، وہاں ’اسلام آباد ڈاکٹرائن‘ نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔ آج پاکستان کا سر فخر سے بلند ہے، کیونکہ اس نے بارود کی جگہ بات چیت اور نفرت کی جگہ مفاہمت کا راستہ منتخب کیا۔
یہ بات عیاں ہے کہ پاکستان اب محض ایک ’بفر سٹیٹ‘ یا ’فرنٹ لائن سٹیٹ‘ نہیں رہا، بلکہ وہ ایک ایسی سفارتی قوت بن چکا ہے جس کے بغیر عالمی امن کا تصور ادھورا ہے۔
تاریخ جب بھی 2026 کے ان واقعات کو لکھے گی تو وہ پاکستان کے اس کردار کو سنہری حروف میں جگہ دے گی جس نے انسانیت کو جنگ کے شعلوں سے نکال کر امن کی ٹھنڈی چھاؤں میں لاکھڑا کیا۔
آج جب امریکہ کے نائب صدر اور ایران کے وزیر خارجہ اسلام آباد پہنچ رہے ہیں تو یہ صرف دو ملکوں کی ملاقات نہیں ہے بلکہ یہ پاکستان کے اس اعتماد کی جیت ہے جو اس نے دونوں فریقین کے دلوں میں پیدا کیا ہے۔
پاکستان نے خود کو ایک ایسے قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر منوایا ہے جو کسی بھی فریق کا آلہ کار نہیں بنتا بلکہ حق اور امن کا ساتھ دیتا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی سیاسی بصیرت، اسحاق ڈار کی سفارتی مہارت اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تزویراتی حکمت عملی نے مل کر ایک ایسا ٹرائیکا تشکیل دیا ہے جس نے پاکستان کو عالمی سطح پر وہ مقام دلایا ہے جو ‘گذشتہ پچاس سالوں میں اسے حاصل نہیں تھا۔
مستقبل کا منظرنامہ اور پاکستان کا عزم
یہ سفر ابھی ختم نہیں ہوا۔ دو ہفتوں کی جنگ بندی پہلا قدم ہے۔ پاکستان کا اصل ہدف اس عارضی وقفے کو ایک مستقل امن معاہدے میں بدلنا ہے۔
دنیا کے تمام بڑے رہنماؤں نے پاکستان کو یقین دلایا ہے کہ وہ اس عمل میں اسلام آباد کے ساتھ کھڑے ہیں۔
پاکستان اب عالمی سیاست کا وہ مرکز ہے جہاں سے امن کی راہیں پھوٹتی ہیں۔
یہ تحریر مصنف کی رائے پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

