پروفیسر ڈاوِن سن آئرلینڈ کے یونیورسٹی کالج ڈبلن میں فوڈ اینڈ بائیو سسٹمز انجینئرنگ کے پروفیسر ہیں۔ اس ادارے کا شمار دنیا کے بہترین اداروں میں ہوتا ہے۔
پروفیسر ڈاوِن سن وہاں فوڈ ریفریجریشن اینڈ کمپیوٹرائزڈ فوڈ ٹیکنالوجی نامی ایک سینٹر کے ڈائریکٹر بھی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ رائل آئرش اکیڈمی، اکیڈیمیا یوروپیا اور پولش اکیڈمی آف سائنسز سمیت چھ اعلیٰ اکیڈیمک اداروں کے ممبر بھی ہیں۔ انہیں فوڈ انجینئرنگ پر تحقیق اور تعلیم کے میدان میں عالمی ماہر تصور کیا جاتا ہے۔
گذشتہ ہفتے پروفیسر ڈاوِن سن نے اپنے لنکڈاِن اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ کی جس کا عنوان تھا ’پی ایچ ڈی، بیرونی امتحانی دعوت قبول کرنے سے پہلے دو بار سوچیں: یونیورسٹی آف ایگریکلچر، فیصل آباد (پاکستان) سے ایک کیس سٹڈی۔‘
اس پوسٹ میں انہوں نے لکھا کہ انہیں یونیورسٹی آف ایگریکلچر نے پی ایچ ڈی کے دو مقالوں کی بطور بیرونی ممتحن جانچ کی دعوت موصول ہوئی جو انہوں نے قبول کر لی اور پچھلے سال بالترتیب اکتوبر اور دسمبر میں دونوں مقالوں پر اپنا جائزہ جامعہ کو جمع کرا دیا۔
اس کے دو ماہ بعد انہوں نے جامعہ سے اس معاوضے کے بارے میں پوچھا جو جامعہ نے اپنی ای میل میں انہیں اس کام کے عوض دینے کا وعدہ کیا تھا۔ تاہم کئی ماہ بعد بھی انہیں جامعہ کی طرف سے خاموشی کے علاوہ کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کی 2023 کی گریجویٹ ایجوکیشن پالیسی کے تحت پاکستانی جامعات کے لیے لازم ہے کہ ہر پی ایچ ڈی مقالے کی بیرونی جانچ دنیا کی پہلی پانچ سو جامعات میں شامل اداروں سے وابستہ کم از کم دو پی ایچ ڈی فیکلٹی ارکان سے کرائیں۔
اگر یہ ممکن نہ ہو تو متبادل کے طور پر پاکستان کی اعلیٰ درجہ بند جامعات کی وہ فیکلٹی یہ ذمہ داری ادا کر سکتی ہے جو اس پالیسی میں تحقیقی اشاعت کے حوالے سے ایچ ای سی کی مقررہ سخت شرائط پر پوری اترتی ہو۔
جب پروفیسر ڈاوِن سن کو یونیورسٹی کے کئی دفاتر جن میں کنٹرولر برائے امتحانات،خزانچی، وائس چانسلرآفس اور وائس چانسلر شامل ہیں، سے جواب موصول نہ ہوا تو انہوں نے تھک ہار کر سب کو خبردار کرنے کے لیے اپنے لنکڈاِن اکاؤنٹ پر یہ واقعہ ایک تفصیلی پوسٹ کی صورت میں شئیر کیا۔
یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے۔ پاکستانی جامعات اکثر بیرونی ممتحن کے ساتھ ایسا ہی سلوک کرتی ہیں۔ ان کے جائزے کو محض چیک لسٹ کا ایک باکس کاٹنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ڈیفنس میں یہ بھی نہیں دیکھا جاتا کہ طالب علم نے بیرونی ممتحن کے جائزے میں موجود نکات کے مطابق اپنے مقالے میں تبدیلیاں کی بھی ہیں یا نہیں۔
پاکستانی جامعات بیرونی ممتحن کو ایک پی ایچ ڈی مقالے کے جائزے کے قریباً تین سو سے پانچ سو امریکی ڈالر (تراسی ہزار سے سوا لاکھ سے کچھ اوپر پاکستانی روپے) ادا کرتی ہیں جو اس کام اور ان کے خرچِ معاش کے حساب سے کچھ بھی نہیں ہے۔
تاہم، ہماری جامعات کی طرف سے ممتحن ڈھونڈنے اور اسے ایک بھاری بھر کم مقالے کا جائزہ کرنے پر راضی کرنے پر جو محنت صرف کی جاتی ہے، وہ جائزے کی رپورٹ کے بعد کہیں غائب ہو جاتی ہے۔ رابطہ ختم ہو جاتا ہے یا ایک لمبے چوڑے عمل کے بعد رقم کی اس وقت ادائیگی کی جاتی ہے جب ممتحن اس رقم سے مایوس ہو چکے ہوتے ہیں۔
اعلیٰ تعلیم کی دنیا میں ویسے بھی علمی کام کو مفت کی بیگار سمجھا جاتا ہے۔ بہت کم پروفیسر اپنی تنخواہ اور معاوضے پر بات کرتے ہیں۔ زیادہ تر پروفیسر اپنے کام اور اس میں لگنے والی محنت کو اپنا شوق اور علم و تحقیق کی خدمت کہتے ہیں لیکن پیسوں کی ضرورت کسے نہیں ہوتی۔ اعلٰی تعلیم کی دنیا ان کے گرد علم و تحقیق کی خدمت کا ایسا جال بنتی ہے کہ وہ چاہ کر بھی اپنے استحصال کی بات نہیں کر پاتے۔
پروفیسر ڈاوِن سن اس لحاظ سے قابلِ تحسین ہیں کہ انہوں نے خاموشی اختیار کرنے کی بجائے آواز اٹھائی اور ایک ادارے کو عالمی سطح پر جوابدہ ٹھہرایا۔ گرچہ اس سے ہماری دنیا بھر میں بدنامی ہوئی ہے لیکن اس کے قصوروار ہم ہی ہیں۔
ہماری جامعات ایک پیچیدہ بیوروکریٹک نظام کے تحت چلتی ہیں جو احتساب کے لیے نہیں بلکہ احتساب سے بچنے کےلیے بنایا گیا ہے۔ ایک سادہ ادائیگی جیسا معاملہ جو کسی بھی فعال ادارے میں چند دنوں میں نمٹ سکتا ہے، ہماری جامعات میں مہینوں تک لٹکا رہتا ہے۔
ہر افسر آگے سے آگے درخواست بڑھا دیتا ہے لیکن درخواست گزار کو جواب دینے کی زحمت نہیں کرتا نہ درخواست پر عمل کروانے کی کوشش کرتا ہے۔ درخواست گزار خود اپنی فائل کا پیچھا کر لے تو اس کا کام مہینوں بعد ہو جاتا ہے ورنہ وہ فائل کسی کی میز پر دیگر فائلز تلے دب جاتی ہے۔
اس پورے معاملے میں ایچ ای سی کی خاموشی بھی کافی تکلیف دہ ہے۔ جس ادارے کا کام جامعات کا معیار یقینی بنانا ہے، وہ اس وقت بھی خاموش ہے جب معاملہ ایک عوامی پلیٹ فارم تک پہنچ چکا ہے۔
اس غفلت کا سب سے بڑا خمیازہ ہمارے پی ایچ ڈی سکالر بھگتیں گے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس پوسٹ کے بعد ہو سکتا ہے ہمارے پی ایچ ڈی سکالرز کو اپنی ڈگری حاصل کرنے کے لیے بہت انتظار کرنا پڑے گا۔ شائد بہت سے پروفیسر ہماری جامعات کی طرف سے بھیجے جانے والے مقالوں کا جائزہ کرنے پر راضی نہ ہوں۔
ہماری جامعات کی ڈگریاں بیرونی دنیا میں قابلِ قدر نگاہوں سے نہیں دیکھی جاتیں۔ اس طرح کے واقعات اور ان کے پیچھے موجود رویے ہماری ڈگریوں کی اہمیت مزید کم کریں گے۔ ہمارے اعلیٰ تعلیمی نظام کو چلانے والوں کو تو شائد اس سے کوئی فرق نہ پڑے لیکن ہمارے نوجوان اس کی بھاری قیمت ادا کریں گے۔
ہمیں کم از کم ان کے لیے اپنے رویوں کو بہتر بنانا چاہیے اور احتساب کا ایسا نظام قائم کرنا چاہیے جو ہماری جامعات کو بہتر پالیسیوں کے ساتھ کام کرنے پر مجبور کرے۔
ایچ ای سی کو اس معاملے کی حساسیت سمجھتے ہوئے فوری طور پر ایک شفاف احتسابی نظام بنانا چاہیے جو جامعات سے بیرونی ممتحنین کی ادائیگی کی باقاعدہ رپورٹ طلب کرے اور اس کی آزادانہ تصدیق کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی جامعات کے ساتھ رسمی تعاون کے معاہدے قائم کرے تاکہ پاکستانی پی ایچ ڈی سکالرز کے مقالوں کا جائزہ ایک منظم، قابلِ اعتماد اور باعزت طریقے سے ہو سکے۔
ساتھ ہی ساتھ جامعات کو اس بات کا پابند بنائے کہ وہ ان ممتحنین کے ساتھ احسن طریقے سے رابطہ قائم کریں اور مکمل ذمہ داری لیتے ہوئے نہ صرف ان کے کام کا معاوضہ وقت پر ادا کریں اور اس بات کو بھی یقینی بنائیں کہ مقالوں میں ان کے جائزے کی روشنی میں تبدیلیاں کی گئی ہیں۔