صدر زرداری کا یو اے ای کا دورہ، تعلقات کے مکمل سپیکٹرم کا جائزہ لیا جائے گا

پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق چار روزہ دورے میں متحدہ عرب امارات کی قیادت سے ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات کے مکمل سپیکٹرم کا جائزہ لیا جائے گا۔

صدر آصف علی زرداری کا پیر کی رات ابوظبی پہنچنے پر زید انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے صدارتی فلائٹ ٹرمینل پر متحدہ عرب امارات کے وزیر انصاف عبداللہ بن سلطان بن عواد النعیمی نے استقبال کیا۔ پاکستانی خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری بھی ساتھ دیکھی جا سکتی ہیں (ایوان صدر، اسلام آباد)

صدر آصف علی زرداری پیر کی رات چار روزہ سرکاری دورے پر متحدہ عرب امارات (یو اے ای) پہنچے جہاں دوطرفہ تعلقات کے ’مکمل سپیکٹرم‘ کا جائزہ لیا جائے گا۔

ایوان صدر کے ایک ہینڈ آؤٹ کے مطابق ابوظبی کے زید انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر متحدہ عرب امارات کے وزیر انصاف عبداللہ بن سلطان بن عواد النعیمی نے صدر زرداری کا استقبال کیا۔

خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری اور وزیر داخلہ محسن نقوی اس دورے میں صدر کے ہمراہ ہیں۔ ابوظبی آمد پر ہی ہوائی اڈے کے صدارتی فلائٹ ٹرمینل پر متحدہ عرب امارات کے وزیر انصاف سے ملاقات کی۔

پاکستانی دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ  ’دورے کے دوران صدر متحدہ عرب امارات کی قیادت کے ساتھ اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کریں گے تاکہ دوطرفہ تعلقات کے مکمل سپیکٹرم کا جائزہ لیا جا سکے، خاص طور پر تجارتی اور اقتصادی عوام سے عوام کے درمیان تعلقات کے شعبوں پر۔‘

دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ بات چیت میں باہمی دلچسپی کے علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بھی توجہ دی جائے گی۔

صدر زرداری کا یہ دورہ گذشتہ ماہ متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زید النہیان کے پاکستان کے مختصر دورے کے بعد ہو رہا ہے۔ وزارت خارجہ کے مطابق ’دونوں ممالک کے درمیان گہرے برادرانہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے اور پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان مضبوط دوستی کو باہمی طور پر فائدہ مند شراکت داری میں تبدیل کرنے کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

26 دسمبر کو متحدہ عرب امارات کے صدر کے دورہ پاکستان میں دیرینہ دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر توجہ دینے غور کیا گیا تھا۔

وزیر اعظم شہباز شریف اور صدر النہیان نے 30 دسمبر کو رحیم یار خان میں بھی ملاقات کی تھی، جہاں دونوں نے مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔

13 جنوری کو دونوں ممالک نے خلیجی ملک کا دورہ کرنے والے پاکستانی شہریوں کے لیے ’پری امیگریشن کلیئرنس‘ پر ایک باضابطہ معاہدے پر دستخط کرنے پر بھی اتفاق کیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا