پاکستان کی وزارت داخلہ نے منگل کو ایک بیان میں کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے پاکستانی شہریوں کے لیے امیگریشن سے قبل کلیئرنس سے متعلق ایک معاہدے پر دستخط کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
بیان میں بتایا گیا کہ معاہدے پر دستخط ہونے کی صورت میں پاکستانی شہری یو اے ای پہنچنے پر امیگریشن کے طویل عمل کو نظرانداز کر سکیں گے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستانیوں کو گذشتہ ایک سال میں متحدہ عرب امارات کے ویزوں کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
نومبر 2025 میں ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ سلمان چوہدری نے سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کو بتایا تھا کہ متحدہ عرب امارات پاکستانیوں کو ویزے جاری نہیں کر رہا ہے۔
وزارت داخلہ کے بیان میں بتایا گیا کہ ’سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے ’پاکستانی پاسپورٹ پر پابندی نہ لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ فیصلہ وزیر داخلہ محسن نقوی اور متحدہ عرب امارات کے ایک وفد کے درمیان ملاقات میں کیا گیا، جس کی قیادت کسٹمز اور پورٹ سکیورٹی کے ڈائریکٹر جنرل احمد بن لاحج الفلاسی کر رہے تھے۔
وزارت داخلہ کے بیان میں بتایا گیا کہ ’پاکستان میں مسافروں کے لیے امیگریشن کا عمل سفر سے پہلے مکمل کر لیا جائے گا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ اس نظام کے نفاذ سے پاکستانی شہری متحدہ عرب امارات پہنچنے پر امیگریشن کے طویل عمل کو نظرانداز کر سکیں گے۔
محسن نقوی نے کہا ’وہ ڈومیسٹک مسافروں کی طرح براہ راست ہوائی اڈے سے باہر نکل سکیں گے۔‘
وزیر داخلہ نے تفصیل سے بتایا کہ یہ سسٹم ایک پائلٹ پروجیکٹ کے طور پر شروع کیا جائے گا، جس کا پہلا مرحلہ کراچی سے شروع ہو گا۔
محسن نقوی نے پائلٹ پروجیکٹ کے آغاز کے لیے کسی تاریخ کا ذکر نہیں کیا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے امید ظاہر کی کہ نیا نظام ’سفر کو آسان بنائے گا اور سفر کے مجموعی تجربے کو بہتر بنائے گا۔‘
متحدہ عرب امارات کے وفد نے اس اقدام کے نفاذ کے دوران تعاون کرنے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے لیے ’فائدہ مند‘ قرار دیا۔
بیان میں کہا گیا کہ ’متعلقہ حکام پائلٹ پروجیکٹ کے انتظامی اور تکنیکی پہلوؤں کو حتمی شکل دینے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کریں گے۔‘
اس میں مزید کہا گیا کہ کراچی میں پائلٹ فیز کے بعد اس سسٹم کو دوسرے شہروں میں بھی پھیلایا جائے گا۔
ملاقات میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور وفاقی سیکرٹری داخلہ خرم آغا بھی موجود تھے۔