سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کو بتایا گیا ہے کہ دفتر خارجہ نے گذشتہ ڈیڑھ سال کے دوران دستاویزات کی تصدیق اور اپوسٹائل کے عمل سے مجموعی طور پر تقریباً دو ارب روپے فیس کی مد میں حاصل کیے جبکہ یومیہ ہزاروں درخواستیں نمٹائی جاتی ہیں۔
پیر کو پارلیمنٹ ہاؤس میں ہونے والے کمیٹی اجلاس میں سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ سمیت وزارت خارجہ کے دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی اور دستاویزات کی تصدیق کے نظام پر جامع بریفنگ دی۔
وزارت خارجہ حکام نے اس موقع پر بتایا کہ: دفتر خارجہ کو یومیہ 18 ہزار دستاویزات اپوسٹائل کے لیے موصول ہوتی ہیں جبکہ تقریباً 36 ہزار دستاویزات عمومی تصدیق کے لیے آتی ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ روزانہ 900 سے زائد افراد تقریباً چار ہزار دستاویزات کی تصدیق کے لیے خود دفتر خارجہ کا رخ کرتے ہیں
حکام نے کہا کہ تصدیق اور اپوسٹائل کے لیے پارلیمنٹ پہلے ہی باقاعدہ قانون منظور کر چکی ہے۔
اپوسٹائل کیا ہے؟
حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ: ’اپوسٹائل ایک خصوصی سرٹیفیکیٹ ہوتا ہے جو پیدائش، شادی یا تعلیمی ڈگری جیسی عوامی دستاویزات کی صداقت کی بین الاقوامی توثیق کے لیے جاری کیا جاتا ہے۔ یہ سرٹیفیکیٹ اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ دستاویز پر موجود دستخط اور مہر اصلی ہیں اور اس کے بعد وہ دستاویز بیرون ملک قانونی طور پر قبول کی جاتی ہے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
حکام کے مطابق پاکستان کی جانب سے کی گئی تصدیق 78 ممالک میں تسلیم کی جاتی ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ اپوسٹائل کی فیس تین سے پانچ ہزار روپے کے درمیان ہے جب کہ عمومی تصدیق کی فیس نہیں لی جاتی۔
حکام کے مطابق جعلی دستاویزات جمع کرانے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جاتی ہے۔
وزارت خارجہ نے نشاندہی کی کہ اسلام آباد کے آبپارہ، میلوڈی اور جی سکس علاقوں میں بعض افراد نے غیر قانونی طور پر دستاویزات کی تصدیق کا کام شروع کر رکھا ہے۔ اس سلسلے میں جعلی دستاویزات کی ایک مرکزی بلیک لسٹ بھی تیار کی جا رہی ہے۔
سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ نے بتایا کہ وزارت خارجہ نادرا کے ساتھ آن لائن لنک قائم کرنے پر کام کر رہی ہے تاکہ پیدائش اور شادی کے سرٹیفیکیٹس کی توثیق کو ڈیجیٹل طریقے سے بہتر بنایا جا سکے۔
ان کے مطابق نادرا ان دستاویزات کے لیے ایک ایپ تیار کر رہا ہے جبکہ وزارت خارجہ بھی اپنی ایپ بنانے کی کوشش کر رہی ہے، جس سے تصدیقی عمل تیز اور شفاف ہو جائے گا۔