سرحد پر کشیدگی: طورخم بارڈر پر انڈپینڈنٹ اردو کے نامہ نگار نے کیا دیکھا؟

سرحدی علاقے کے شہریوں کا کہنا ہے کہ گذشتہ رات سے ہتھیاروں اور فائرنگ کی آوازیں سن رہے ہیں لیکن ہمیں امن کی ضرورت ہے اور دونوں ملکوں کو مسائل بات چیت سے حل کرنے چاہییں۔

صبح پشاور سے روانگی کے وقت ذہن میں یہی تھا کہ گذشتہ رات کے مقابلے میں اب دن کے وقت حالات قدرے معمول پر آ گئے ہیں اور کشیدگی میں کمی آئی ہے۔

یہی بات مختلف سرحدی مقامات پر موجود پولیس ذرائع نے بھی صبح انڈپینڈنٹ اردو کو بتائی تھی لیکن جونہی ہم طورخم کی حدود میں داخل ہوئے تو ایک زوردار دھماکے نے ہمارا استقبال کیا۔

پہاڑی کے اوپر سے دھواں اٹھ رہا تھا اور کچھ دیر بعد وہاں آگ بھی لگ گئی۔ اسی دوران دوسرا دھماکہ بھی سنا گیا، جو دراصل سرحد پر گولہ باری کی آوازیں تھیں۔

ہم طورخم سے تقریباً ایک کلومیٹر کے فاصلے پر کھڑے تھے، جہاں میچنی چیک پوسٹ ہے اور وہاں سے آگے جانے کی اجازت نہیں تھی۔

تاہم مقامی لوگ میچنی چیک پوسٹ کے آس پاس موجود تھے اور اپنی معمول کی زندگی جاری رکھے ہوئے تھے جبکہ چیک پوسٹ کے اطراف سکیورٹی اہلکار تعینات تھے۔

طورخم ٹرمینل خالی

طورخم ٹرمینل کی بات کی جائے تو اسے مکمل طور پر خالی کرا لیا گیا تھا اور ٹرمینل میں گذشتہ پانچ مہینوں سے پھنسے کنٹینرز کو بھی وہاں سے ہٹا کر پاک افغان شاہراہ پر کھڑا کر دیا گیا تھا۔

افغانستان سے تعلق رکھنے والے ایک کنٹینر ڈرائیور نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ہم چار مہینوں سے اس بارڈر پر پھنسے ہوئے ہیں اور اب جبکہ جنگ جیسی صورت حال شروع ہوگئی ہے تو بارڈر کھلنے کا کوئی امکان نظر نہیں آ رہا۔

یہ کنٹینرز پاکستان سے افغانستان سامان سپلائی کرنے کے لیے کھڑے تھے، جو اب کئی مہینوں سے پھنسے ہوئے ہیں اور انہیں کروڑوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔

پناہ گزینوں کے لیے بھی بارڈر بند

طورخم سرحد ویسے بھی گذشتہ تقریباً پانچ مہینوں سے بند ہے، تاہم پاکستان میں موجود افغان پناہ گزینوں کو واپس بھیجنے کے لیے اسے کھلا رکھا گیا تھا، لیکن اب گذشتہ رات سے افغان پناہ گزینوں کے لیے بھی بند کر دیا گیا ہے۔

ملک کے مختلف حصوں سے آنے والی پناہ گزینوں کی بڑی گاڑیاں، جو سامان اور خاندان کے افراد سے لدی تھیں، انہیں بارڈر سے واپس بھیج دیا گیا۔

یہ گاڑیاں پاک افغان شاہراہ پر ضلع خیبر کے مختلف علاقوں میں آسمان تلے کھڑی تھیں اور اپنے مسائل بیان کر رہی تھیں۔

اسلم خان پنجاب میں رہتے تھے، لیکن پاکستانی حکومت کی جانب سے افغان پناہ گزینوں کی واپسی کے سلسلے میں انہیں خاندان سمیت واپس بھیجا جا رہا ہے۔

جب وہ گذشتہ رات طورخم پہنچے تو انہیں واپس بھیج دیا گیا اور اب ضلع خیبر میں سڑک کنارے ایک کھلے میدان میں ٹرک سمیت موجود ہیں۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ایک مالٹے سے سحری کی ہے اور اب یہاں خوار ہو رہے ہیں۔

اسلم خان نے بتایا: ’بچے اور خواتین ذلیل ہو رہے ہیں اور اب نہ یہاں رہنے دیا جا رہا ہے اور نہ افغانستان جا سکتے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسلم خان سمیت تقریباً 10 مزید خاندان بھی اسی جگہ ٹرکوں سمیت کھڑے تھے اور یہی سوچ رہے تھے کہ رمضان میں یہاں دن رات کیسے گزاریں گے۔

ایک بزرگ نے بتایا کہ انہوں نے 42 سال ضلع بونیر میں گزارے۔ خاندان کے تین افراد آئے تھے اور اب افراد کی تعداد 45 ہو چکی ہے، لیکن اتنا خوار کبھی نہیں ہوئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے پاکستان میں عزت سے زندگی بسر کی ہے اور اب افغان طالبان سمیت پاکستانی حکومت سے درخواست ہے کہ یہ کشیدگی ختم کر کے ہمیں باعزت طریقے سے افغانستان واپس بھیجا جائے۔

بازاروں میں رش، پاک افغان شاہراہ خاموش

پاک افغان شاہراہ پشاور اور طورخم کو ملانے والی مرکزی شاہراہ ہے اور اس سڑک پر عام دنوں میں ٹریفک زیادہ ہوتا ہے، لیکن آج قدرے کم ٹریفک دیکھا گیا۔

اس کی ایک وجہ رمضان بھی ہو سکتی ہے، تاہم مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ حالات کے باعث لوگ کم باہر نکل رہے ہیں۔

مقامی نوجوان وقار نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ بازار اور دکانیں کھلی ہیں اور لوگ رمضان کے لیے خریداری کر رہے ہیں، لیکن شام کے بعد سکیورٹی خدشات کے باعث مارکیٹیں بند کر دی جاتی ہیں۔

وقار نے بتایا: ’گذشتہ رات سے ہتھیاروں اور فائرنگ کی آوازیں سن رہے ہیں، لیکن ہمیں امن کی ضرورت ہے اور دونوں ملکوں کو مسائل بات چیت سے حل کرنے چاہییں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان