امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر مثبت پیش رفت ہوئی: پاکستان

پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا کہ قطری اور پاکستانی ثالثوں نے امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف، قطر کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس 21 جون 2026 کو سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن سٹاک میں چار فریقی اجلاس کے دوران بات کر رہے ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)

پاکستان کے دفتر خارجہ نے جمعرات کو کہا ہے کہ دوحہ میں امریکی اور ایران مذاکرات کاروں کے ساتھ قطری اور پاکستانی ثالثوں کی ملاقات مثبت پیش رفت ہوئی ہے اور فریقین نے بات چیت کا سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق ہوا ہے۔

ایران اور امریکہ کے مذاکرات کار رواں ہفتے دوحہ میں موجود رہے اور بلواسطہ بات چیت کا مقصد مستقل امن کے حصول کی جانب معاملات پر آگے بڑھنا ہے۔

گزشتہ ماہ سوئٹزرلینڈ کے علاقے برگن اسٹاک میں امریکی اور ایرانی اعلیٰ حکام نے اسی فریم ورک کے تحت مذاکرات کیے۔ بعد ازاں پاکستان اور قطر نے اعلان کیا کہ ان مذاکرات میں 60 دن کے اندر حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایک روڈ میپ طے کیا گیا ہے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا کہ جمعرات کو ’امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں کے ساتھ الگ الگ ملاقاتیں مکمل کیں۔ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے مختلف پہلوؤں سے متعلق امور پر مثبت پیش رفت ہوئی، جو لیک لوسرن سربراہی اجلاس میں ہونے والی پیش رفت کا تسلسل ہے۔‘

بیان میں کہا گیا کہ فریقین نے اتفاق کیا ہے کہ بات چیت کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا، ’جبکہ سابق ایرانی سپریم لیڈر کی تدفین اور جنازوں کی تقریبات مکمل ہونے کے بعد اگلی ملاقات کی تاریخ جلد از جلد طے کی جائے گی۔‘

اس سے قبل میزبان ملک قطر نے کہا ہے کہ امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں نے بدھ کو قطری اور پاکستانی ثالثوں سے الگ الگ بات چیت کی جس میں ’مثبت پیش رفت ہوئی‘ اور فریقین نے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے ایکس پر بتایا کہ اگلی ملاقات ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے بعد ’جلد از جلد‘ طے کی جائے گی۔

 آخری رسومات ہفتے کو تہران میں شروع ہونے والی ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر، ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار کاظم غریب آبادی کے ساتھ جنگ کے مستقل خاتمے پر بات چیت کے لیے قطر میں موجود تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مذاکرات کاروں کا مقصد تفصیلات طے کرنا ہے تاکہ اعلیٰ رہنماؤں کے لیے معاہدے کو حتمی شکل دینے کی راہ ہموار کی جا سکے۔ 

قطری حکومت کے بیان کے مطابق وٹکوف اور کشنر نے بدھ کو قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی سے بھی ملاقات کی۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے امریکہ میں صحافیوں کو بتایا کہ بات چیت میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والی ٹریفک سے متعلق تفصیلات شامل تھیں۔

جے ڈی وینس نے کہا، ’ظاہر ہے ہم جوہری مسئلے کے حوالے سے فکرمند ہیں۔ ہم اس بارے میں بات چیت شروع کرنے جا رہے ہیں۔‘

شیخ محمد نے ایرانی مذاکرات کار کاظم غریب آبادی اور دیگر ایرانی حکام سے بھی ملاقات کی، جس میں پاکستانی ثالث بھی موجود تھے۔ 

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق کاظم غریب آبادی نے کہا کہ ایرانی وفد کی امریکی فریق کے ساتھ کوئی براہ راست بات چیت نہیں ہوئی اور ثالثوں کے ساتھ ان کی بات چیت کا محور لبنان اور ایران کے کچھ منجمد اثاثے واپس کرنے کے منصوبے تھے۔

مفاہمتی یادداشت پر رابطہ چینل قائم کرنے پر اتفاق: ایرانی نائب وزیر خارجہ

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ایران کے سرکاری میڈیا کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے بدھ کو مشرق وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے پر تہران اور واشنگٹن کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر عمل درآمد کے حوالے سے دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کے اختتام کا اعلان کیا۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے غریب آبادی کے حوالے سے بتایا کہ شرکا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مفاہمت کی یادداشت کی خلاف ورزیوں کی اطلاع دینے اور انہیں ریکارڈ کرنے کے لیے ’کل (جمعرات) تک مواصلاتی چینل قائم کر لیا جائے گا۔‘

ایران کے ساتھ مذاکرات میں پیشرفت ہو رہی ہے: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو کہا کہ قطر میں ایران کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی ہے۔

 امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت اس امر کی ابتدائی علامت ہے کہ حالیہ جھڑپوں کے بعد سفارت کاری برقرار ہے جس نے مشرق وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کی کوششوں کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔

ٹرمپ نے ایئر فورس ون پر سوار ہونے سے پہلے صحافیوں کو بتایا کہ ’جہاں تک حالات کا تعلق ہے تو ایران کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کا عمل اچھی طرح آگے بڑھ رہا ہے۔

ہم نے انہیں بہت زور دار ضرب لگائی لیکن ہمارے تعلقات بہت اچھے جا رہے ہیں۔‘

قطر اور پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والی اور گذشتہ ماہ سوئٹزرلینڈ کے شہر لوسرن میں ہونے والے سربراہی اجلاس میں حتمی شکل دی جانے والی مفاہمت کی یادداشت میں 60 دن کی جنگ بندی، بند کی گئی آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور جنگ اور ایران کے جوہری پروگرام پر حتمی معاہدے کے لیے ٹائم ٹیبل شامل ہے۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا