میزبان ملک قطر نے کہا ہے کہ امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں نے بدھ کو قطری اور پاکستانی ثالثوں سے الگ الگ بات چیت کی جس میں ’مثبت پیش رفت ہوئی‘ اور فریقین نے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔
قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے ایکس پر بتایا کہ اگلی ملاقات ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے بعد ’جلد از جلد‘ طے کی جائے گی۔
آخری رسومات ہفتے کو تہران میں شروع ہونے والی ہیں۔
Qatar & Pakistan mediators concluded separate meetings with the US & Iranian negotiators in Doha today, with positive progress made on issues related to the Islamabad Memorandum of Understanding, building on the outcomes of the Lake Lucerne Summit. The parties agreed to continue…
— د. ماجد محمد الأنصاري Dr. Majed Al Ansari (@majedalansari) July 1, 2026
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر، ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار کاظم غریب آبادی کے ساتھ جنگ کے مستقل خاتمے پر بات چیت کے لیے قطر میں موجود تھے۔
مذاکرات کاروں کا مقصد تفصیلات طے کرنا ہے تاکہ اعلیٰ رہنماؤں کے لیے معاہدے کو حتمی شکل دینے کی راہ ہموار کی جا سکے۔
قطری حکومت کے بیان کے مطابق وٹکوف اور کشنر نے بدھ کو قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی سے بھی ملاقات کی۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے امریکہ میں صحافیوں کو بتایا کہ بات چیت میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والی ٹریفک سے متعلق تفصیلات شامل تھیں۔
جے ڈی وینس نے کہا، ’ظاہر ہے ہم جوہری مسئلے کے حوالے سے فکرمند ہیں۔ ہم اس بارے میں بات چیت شروع کرنے جا رہے ہیں۔‘
شیخ محمد نے ایرانی مذاکرات کار کاظم غریب آبادی اور دیگر ایرانی حکام سے بھی ملاقات کی، جس میں پاکستانی ثالث بھی موجود تھے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق کاظم غریب آبادی نے کہا کہ ایرانی وفد کی امریکی فریق کے ساتھ کوئی براہ راست بات چیت نہیں ہوئی اور ثالثوں کے ساتھ ان کی بات چیت کا محور لبنان اور ایران کے کچھ منجمد اثاثے واپس کرنے کے منصوبے تھے۔
مفاہمتی یادداشت پر رابطہ چینل قائم کرنے پر اتفاق: ایرانی نائب وزیر خارجہ
خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ایران کے سرکاری میڈیا کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے بدھ کو مشرق وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے پر تہران اور واشنگٹن کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر عمل درآمد کے حوالے سے دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کے اختتام کا اعلان کیا۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے غریب آبادی کے حوالے سے بتایا کہ شرکا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مفاہمت کی یادداشت کی خلاف ورزیوں کی اطلاع دینے اور انہیں ریکارڈ کرنے کے لیے ’کل (جمعرات) تک مواصلاتی چینل قائم کر لیا جائے گا۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ایران کے ساتھ مذاکرات میں پیشرفت ہو رہی ہے: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو کہا کہ قطر میں ایران کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت اس امر کی ابتدائی علامت ہے کہ حالیہ جھڑپوں کے بعد سفارت کاری برقرار ہے جس نے مشرق وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کی کوششوں کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔
ٹرمپ نے ایئر فورس ون پر سوار ہونے سے پہلے صحافیوں کو بتایا کہ ’جہاں تک حالات کا تعلق ہے تو ایران کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کا عمل اچھی طرح آگے بڑھ رہا ہے۔
ہم نے انہیں بہت زور دار ضرب لگائی لیکن ہمارے تعلقات بہت اچھے جا رہے ہیں۔‘
قطر اور پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والی اور گذشتہ ماہ سوئٹزرلینڈ کے شہر لوسرن میں ہونے والے سربراہی اجلاس میں حتمی شکل دی جانے والی مفاہمت کی یادداشت میں 60 دن کی جنگ بندی، بند کی گئی آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور جنگ اور ایران کے جوہری پروگرام پر حتمی معاہدے کے لیے ٹائم ٹیبل شامل ہے۔