ایران کے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے منگل کو کہا کہ ایران امریکہ کے ساتھ سفارت کاری کو ترجیح دے رہا ہے، تاہم وہ جنگ کے لیے بھی تیار ہے۔
سرکاری ٹیلی ویژن کو دیے گئے انٹرویو میں قالیباف نے کہا کہ ’ہم مذاکرات کا راستہ اختیار کر رہے ہیں، لیکن اگر مذاکرات نتیجہ خیز ثابت نہ ہوئے تو ہم جنگ کے لیے بھی تیار ہیں اور اسی مناسبت سے جواب دیں گے۔‘
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب ایرانی اور امریکی وفود دوحہ میں الگ الگ مذاکرات کے لیے تیار تھے۔
محمد باقر قالیباف نے یہ بھی کہا کہ امریکی ناکہ بندی کے دوران ایران تیل برآمد کرنے سے مکمل طور پر محروم ہو گیا تھا، تاہم پابندیوں میں نرمی کے بعد برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا، ’ناکہ بندی ختم ہونے کے دن سے آج تک ہم 4 کروڑ سے زائد بیرل تیل برآمد کر چکے ہیں۔ اس کے برعکس، اس سے پہلے تقریباً 50 سے 60 دنوں کے دوران ہم ایک بیرل تیل بھی برآمد نہیں کر سکے تھے۔‘
جب تک حزب اللہ کا خطرہ رہے گا اسرائیلی فوج لبنان میں موجود رہے گی: نیتن یاہو
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے منگل کو جنوبی لبنان میں تعینات فوجیوں کا دورہ کیا اور کہا ہے کہ جب تک حزب اللہ خطرہ بنی رہے گی، اسرائیلی فوج علاقے میں موجود رہے گی۔
ان کے یہ بیانات لبنان اور اسرائیل کے درمیان گذشتہ ہفتے امریکی سرپرستی میں طے پانے والے فریم ورک معاہدے کے بعد سامنے آئے ہیں، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان امن کی راہ ہموار کرنا اور حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
معاہدے کے تحت لبنان کی جانب سے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے اور مخصوص ’پائلٹ زونز‘ قائم کرنے کے بعد، جن کا کنٹرول لبنانی فوج سنبھالے گی، اسرائیلی افواج کے مقبوضہ لبنانی علاقوں سے انخلا کی راہ ہموار ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے دفتر کے جاری کردہ بیان کے مطابق کہا کہ ’ہماری پوزیشن واضح ہے: جب تک خطرہ ختم نہیں ہو جاتا، ہم جنوبی لبنان نہیں چھوڑیں گے۔ اور جب تک حزب اللہ مسلح حالت میں موجود ہے اور ہمارے لیے خطرہ ہے، ہم یہاں رہیں گے۔‘
انہوں نے ایران اور حزب اللہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، ’یہ جگہ چھوڑ دو، اب تمہارا یہاں کوئی تعلق نہیں۔ یہاں دو خودمختار ریاستیں ہیں جو امن کے ساتھ رہنا چاہتی ہیں۔‘
حزب اللہ نے مارچ میں اسرائیل پر راکٹ حملوں کے ذریعے لبنان کو مشرقِ وسطیٰ کی جنگ میں شامل کیا تھا، جس کے بعد اسرائیل نے فضائی حملے اور زمینی کارروائیاں شروع کیں۔
اسرائیلی فوج اس وقت سرحد کے ساتھ لبنانی علاقے میں تقریباً 10 کلومیٹر (6 میل) اندر تک قائم ایک خود ساختہ ’سکیورٹی زون‘ میں کارروائیاں کر رہی ہے۔
لبنانی حکام کے مطابق 2 مارچ سے جاری جنگ میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 4,200 سے زائد افراد جان سے جا چکے ہیں۔
اسی عرصے کے دوران اسرائیلی فوج نے 38 فوجیوں اور ایک سویلین کنٹریکٹر کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔