امریکہ۔ایران جھڑپیں بند، منگل کو قطر میں مذاکرات ہوں گے: امریکی عہدے دار

امریکی عہدے دار کا کہنا ہے کہ مفاہمتی یادداشت کے تمام پہلوؤں پر تکنیکی مذاکرات جاری رہیں گے۔ حالیہ جھڑپوں کے بعد دونوں فریق فی الحال پیچھے ہٹ جائیں گے۔

21 جون، 2026 کو سوئٹرلینڈ کے شہر برگن سٹاک میں ایران امریکہ مذاکرات کے موقعے پر موجود امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف اور قطر کے وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم آل ثانی (اے ایف پی)

ایک امریکی عہدیدار نے اتوار کی رات  بتایا ہے کہ امریکہ اور ایران مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات جاری رکھیں گے اور حالیہ جھڑپوں کے بعد دونوں پیچھے ہٹ جائیں گے۔

فروری 2026 کے آخر میں شروع ہونے والے اور اہم آبی گزرگاہ کے ذریعے بحری جہازوں کی آمدورفت کو متاثر کرنے والی جنگ کے خاتمے کی غرض سے 17 جون کی نازک مفاہمتی یادداشت کے باوجود، امریکہ اور ایران نے حالیہ دنوں میں ایک دوسرے پر حملے کیے ہیں۔

مفاہمتی یادداشت کے تحت، تہران نے آبنائے ہرمز کے راستے تجارتی بحری جہازوں کو محفوظ راستہ دینے کی یقین دہانی کرائی تھی جب کہ واشنگٹن نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

امریکی عہدے دار نے ایک ای میل میں آبنائے ہرمز اور اس کے ارد گرد کے علاقے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’ایم او یو (مفاہمت کی یادداشت) کے تمام پہلوؤں پر تکنیکی مذاکرات جاری رہیں گے۔ دونوں فریق فی الحال پیچھے ہٹ جائیں گے اور (آبنائے ہرمز میں) بحری جہاز آزادانہ نقل و حرکت کر سکتے ہیں۔‘

امریکی عہدے دار نے امریکی میڈیا کی اس رپورٹ کی تصدیق نہیں کی کہ منگل کو قطر میں مذاکرات دوبارہ شروع ہوں گے یا نہیں؟

دوسری جانب امریکی میڈیا نے اعلیٰ امریکی حکام کے حوالے سے خبر دی ہے کہ امریکہ اور ایران نے ایک دوسرے پر حملے روکنے پر اتفاق کر لیا اور وہ آبنائے ہرمز پر اپنا تنازع حل کرنے کے لیے منگل کو قطر میں ملاقات کا ارادہ رکھتے ہیں۔ 

ایک اعلیٰ امریکی اہلکار نے اتوار کو میڈیا ادارے ایکسیوس کو حملوں کے لیے استعمال ہونے والی ایک فوجی اصطلاح کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ’ہم نے تمام مسلح کارروائیاں روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘

ایک اور امریکی عہدے دار نے ایکسیوس کو بتایا کہ دونوں فریق ’فی الحال‘ پیچھے ہٹ جائیں گے اور مذاکرات جاری رہنے کی بدولت آبنائے ہرمز میں ’بحری جہاز آزادانہ نقل و حرکت کر سکتے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایکسیوس کے مطابق، دونوں امریکی حکام اور معلومات رکھنے والے ایک تیسرے ذریعے نے منگل کو قطر میں ہونے والی ملاقات کی تصدیق کی ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے ٹرمپ انتظامیہ کے ایک اہلکار کے حوالے سے اسی طرح کا بیان رپورٹ کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ دونوں فریق ’فی الحال پیچھے ہٹ جائیں گے۔‘ اور انہوں نے مزید بات چیت کے لیے منگل کو دوحہ میں ملاقات کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی حملے جاری رہنے کی صورت میں فوجی کارروائی کی اپنی ماضی کی دھمکیوں کو دہراتے ہوئے ہفتے کو کہا کہ اگر امریکہ جنگ دوبارہ شروع کرنے پر ’مجبور‘ ہوا تو ایران کا ’وجود باقی نہیں رہے گا۔‘

وائٹ ہاؤس نے تبصرہ کرنے کی درخواست کا فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا