بحرین کی وزارت خارجہ نے ہفتے کو بتایا کہ ایران نے ملک کو متعدد ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے۔
بحرینی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا وہ ’ہفتے کی صبح بحرین کی سرزمین کو ایران کے متعدد ڈرونز سے نشانہ بنانے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے، جو اس کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی ہے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران کے یہ حملے ’امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہیں۔‘
امریکہ اور ایران کے ایک دوسرے پر حملے
امریکہ کی جانب سے جمعے کو ایران پر مال بردار بحری جہاز پر حملے کا الزام عائد کیے جانے کے بعد دونوں ملکوں نے ایک دوسرے پر حملے کیے ہیں، جس سے مشرق وسطیٰ کی جنگ کو محدود کرنے کی سفارتی کوششوں کے دوران نازک جنگ بندی خطرے میں پڑ گئی ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے جمعے کو کہا کہ ایرانی میزائل اور ڈرون ذخیرہ کرنے کے مقامات اور ساحلی ریڈار ٹھکانوں پر امریکی حملے ’ایرانی افواج کی جانب سے تجارتی جہاز رانی کے خلاف بلا جواز جارحیت‘ کا جواب ہیں، جو ’جنگ بندی کی واضح خلاف ورزی‘ ہے۔
سینٹ کام نے اس آپریشن کو ’آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک تجارتی جہاز پر گذشتہ روز ہونے والے حملے کا ایک طاقت ور جواب‘ قرار دیا۔
دوسری جانب سیرک میں ایک رپورٹر کا حوالہ دیتے ہوئے ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے کہا کہ جمعے کی رات گئے جنوبی ساحلی شہر میں طاہرویہ کے گھاٹ پر ایک دھماکہ سنا گیا۔
ٹی وی نے باخبر فوجی ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ دھماکہ علاقے میں کسی گولے کے گرنے سے ہوا۔
بعدازاں ایرانی وقت کے مطابق ہفتے کی صبح سرکاری ٹیلی ویژن نے خبر دی کہ پاسداران انقلاب نے کہا کہ انہوں نے امریکی حملوں کے جواب میں خلیجی خطے میں امریکی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔
ٹیلی گرام پر سرکاری ٹی وی کی ایک پوسٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے کہا کہ ’اگر جارحیت کو دہرایا گیا تو ہمارا جواب اس سے زیادہ بڑا ہو گا۔‘
ان حملوں کے تبادلے نے آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کی کوششوں پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ایران نے بحری جہازوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ بغیر اجازت آبنائے کے راستے خلیج میں داخل نہ ہوں اور نہ ہی وہاں سے نکلیں لیکن جہازوں کی نقل و حرکت جاری ہے اور کچھ تہران کی جانب سے غیر منظور شدہ راستہ بھی استعمال کر رہے ہیں۔
ٹریکنگ پلیٹ فارم کپلر کے مطابق جمعرات کو وہاں سے گزرنے والے 42 بحری جہازوں میں سے تقریباً آدھے جہازوں نے عمان کے ساحل کے ساتھ ایک غیر منظور شدہ جنوبی راستہ استعمال کیا۔
اقوام متحدہ کی بحری ایجنسی نے کہا حملے کی وجہ سے معطل ہونے سے قبل انخلا کے ایک آپریشن نے تنازعے میں پھنسے 115 بحری جہازوں اور 2500 ملاحوں کو نکال لیا گیا تھا۔
’تشدد کا جواب تشدد سے‘: جے ڈی وینس
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے جمعے کو ایران کو خبردار کیا کہ اگر اس نے مزید کوئی حملہ کیا تو اسے ’تشدد‘ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
جے ڈی وینس نے ایکس پر مفاہمتی یادداشت کا حوالہ دیتے ہوئے پوسٹ کیا ’ایران نے جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
’ہم نے اس کی پاسداری کی۔ اگر انہیں مفاہمت کی یادداشت پر عمل درآمد کے حوالے سے کوئی اختلاف ہے تو وہ فون کر سکتے ہیں، لیکن تشدد کا جواب تشدد سے دیا جائے گا۔‘
ایرانی ڈرون حملہ جنگ بندی کی احمقانہ خلاف ورزی: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو آبنائے ہرمز میں ڈرون حملہ کرنے پر ایران کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے مشرق وسطیٰ کی جنگ میں جنگ بندی کی ’احمقانہ‘ خلاف ورزی قرار دیا۔
ٹرمپ نے بظاہر گذشتہ روز ایک بحری جہاز پر ہونے والے حملے کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر پوسٹ کیا ’ایک ڈرون ایک بڑے اور انتہائی مہنگے مال بردار بحری جہاز کے اوپری عرشے پر زور سے ٹکرایا‘ جب کہ تین دیگر کو مار گرایا گیا۔
ٹرمپ نے مزید کہا ’ظاہر ہے، یہ ہمارے جنگ بندی کے معاہدے کی ایک احمقانہ خلاف ورزی ہے۔‘