ایران کے وزیر خارجہ نے اتوار کو خلیجی ممالک کے ساتھ ایک مشترکہ سکیورٹی فریم ورک کے قیام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام خلیج میں امریکی فوجی اڈوں پر ایران کے جوابی حملوں کے بعد ضروری ہو گیا ہے، جو امریکی حملوں کے ردعمل میں کیے گئے تھے۔
عباس عراقچی نے عراقی دارالحکومت بغداد کے دورے کے دوران ایک پریس کانفرنس میں کہا ’ہمیں ایک نیا سکیورٹی فریم ورک تشکیل دینا چاہیے جس میں خطے کے تمام ممالک شامل ہوں اور خطے سے باہر کسی بھی ملک کی موجودگی یا مداخلت نہ ہو۔‘
سعودی عرب کی کویت اور بحرین پر ایرانی حملوں کی مذمت
سعودی عرب نے کویت اور بحرین پر ایران کے حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔
#Statement | The Foreign Ministry expresses the Kingdom of Saudi Arabia’s strongest condemnation and denunciation of the blatant Iranian attacks against the State of Kuwait and the Kingdom of Bahrain, as well as against the security and freedom of navigation in the Strait of… pic.twitter.com/GTjcdHHjxk
— Foreign Ministry (@KSAmofaEN) June 28, 2026
بیان کے مطابق ’مملکت ان حملوں کو دوٹوک انداز میں مسترد کرنے کے اپنے مؤقف کا اعادہ کرتی ہے، جو بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے منشور کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
’مملکت اس بات کا بھی اعادہ کرتی ہے کہ اس نوعیت کی خلاف ورزیاں خطے میں سلامتی اور استحکام کی بحالی کے لیے جاری بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں۔‘
بیان میں کہا گیا ’مملکت ریاست کویت اور مملکت بحرین کے ساتھ اپنی یکجہتی کا ازسر نو اظہار کرتی ہے اور ان کی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے ان کی جانب سے کیے جانے والے تمام اقدامات کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتی ہے۔‘
امریکہ کے ایران پر پھر حملے
امریکی فوج نے کہا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک جہاز پر تازہ حملے کے جواب میں ہفتے کو ایران میں 10 اہداف پر نئے حملے کیے ہیں جبکہ ایرانی پاسدران انقلاب کا کہنا ہے کہ اس نے کویت اور بحرین میں امریکی اہداف کو نشانہ بنایا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے ہفتے کو کہا کہ اگر امریکہ جنگ دوبارہ شروع کرنے پر ’مجبور‘ ہوا تو ایران کا ’وجود باقی نہیں رہے گا۔‘
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اتوار کی صبح ایکس پر کی گئی ایک پوسٹ میں کہا کہ ’امریکی بحریہ اور فضائیہ کے جنگی طیاروں نے ایم ٹی کیکو پر ایران کے ڈرون حملے کے جواب میں آج رات آبنائے ہرمز اور اس کے قریب متعدد مقامات پر 10 ایرانی فوجی اہداف پر حملے کیے۔‘
سینٹ کام نے مزید کہا کہ ایران نے ہفتے کو پانامہ کے پرچم بردار آئل ٹینکر ’کیکو‘ پر حملہ کیا تھا، جس میں 20 لاکھ بیرل سے زیادہ خام تیل لدا ہوا تھا۔
امریکی فوجی کمانڈ نے ایکس پر فضا سے ریکارڈ کی گئی 35 سیکنڈ کی ایک دھندلی ویڈیو پوسٹ کی، جس میں مختلف مقامات پر دھماکے دکھائے گئے ہیں۔
ایرانی میڈیا نے جنوبی ایران کے علاقوں سیرک اور قشم میں متعدد دھماکوں کی اطلاع دی ہے۔
امریکہ اور ایران نے رواں ماہ پاکستان کی ثالثی میں ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ پر دستخط کیے تھے، جس سے مشرق وسطیٰ پر چھائے جنگ کے بادل چھٹنے کی امید پیدا ہوئی تھی، تاہم دونوں ملکوں کے درمیان اس حالیہ کشیدگی سے یہ نازک جنگ بندی خطرے میں پڑ گئی ہے۔
امریکہ نے جمعے کو بھی ایران پر حملے کیے تھے جن کے بارے میں اس کا کہنا تھا کہ یہ ایک اور جہاز ’ایور لولی‘ پر ایرانی حملے کا جواب تھے۔
سینٹ کام کا کہنا تھا کہ ایرانی میزائل اور ڈرون ذخیرہ کرنے کے مقامات اور ساحلی ریڈار ٹھکانوں پر امریکی حملے ’ایرانی افواج کی جانب سے تجارتی جہاز رانی کے خلاف بلا جواز جارحیت‘ کا جواب ہیں، جو ’جنگ بندی کی واضح خلاف ورزی‘ ہے۔
جارحیت کا منہ توڑ جواب دیں گے: پاسداران انقلاب
ایران کے پاسداران انقلاب نے اتوار کو کہا ہے کہ اس نے ایرانی سرزمین پر امریکی حملوں کے جواب میں کویت اور بحرین پر حملے کیے ہیں اور خبردار کیا کہ کسی بھی مزید جارحیت کا ’منہ توڑ جواب‘ دیا جائے گا۔
پاسداران انقلاب نے ایک بیان میں کہا کہ انہوں نے ’کویت میں علی السالم بیس اور بحرین کے پورٹ سلمان میں ففتھ فلیٹ نیول بیس پر آٹھ اہم امریکی فوجی تنصیبات کو تباہ کر دیا ہے۔‘
پاسداران انقلاب نے مزید کہا کہ ’دشمن کی کسی بھی جارحیت، خواہ اس کا کوئی بھی بہانہ ہو، یہاں تک کہ غیر اہم اہداف کے خلاف بھی، کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔‘
ایران کا وجود باقی نہیں رہے گا: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے ہفتے کو کہا کہ اگر امریکہ جنگ دوبارہ شروع کرنے پر ’مجبور‘ ہوا تو ایران کا ’وجود باقی نہیں رہے گا۔‘
ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ’امریکی طیاروں نے جنگ بندی معاہدے کی ایک بار پھر خلاف ورزی کرنے پر ابھی ایرانی میزائل اور ڈرون ذخیرہ کرنے کے مقامات، اور ساحلی ریڈار سائٹس کو نشانہ بنایا ہے۔‘
ٹرمپ نے لکھا: ’ایک وقت ایسا آ سکتا ہے جب ہم مزید معقول رویہ برقرار رکھنے کے قابل نہیں رہیں گے اور عسکری طور پر اس کام کو مکمل کرنے پر مجبور ہوں گے جسے ہم نے بہت کامیابی سے شروع کیا تھا۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو اسلامی جمہوریہ ایران کا وجود باقی نہیں رہے گا۔‘
ایران اور امریکہ کے درمیان تازہ جھڑپوں نے تنازے کے خاتمے کے لیے امن مذاکرات پر پھر سے شکوک پیدا کر دیے ہیں۔
مشرق وسطیٰ کا تنازع 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر مشترکہ حملے کے بعد شروع ہوا۔ بعد ازاں ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا اور خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں پر حملے شروع کر دیے۔