پاکستان سمیت آٹھ اسلامی ممالک کی اسرائیل کے غزہ امن منصوبہ مسترد کرنے کی مذمت

سعودی عرب، مصر، اردن، پاکستان، انڈونیشیا، ترکی، قطر اور یو اے ای نے مشترکہ بیان میں اسرائیل پر دیرپا امن کی کوششوں کو نقصان پہنچانے کا الزام لگایا ہے۔

دفتر خارجہ اسلام آباد کے بیرونی دروازے سے 21 فروری 2022 کو ایک گاڑی اندر داخل ہو رہی ہے (سہیل اختر/ انڈپینڈنٹ اردو)

پاکستان کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت آٹھ مسلم ممالک نے اتوار کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے پر مکمل عمل درآمد کے لیے بنائے گئے روڈ میپ کو اسرائیل کی جانب سے مسترد کیے جانے کی مذمت کی ہے۔

غزہ امن روڈ میپ، جسے فلسطینی دھڑوں نے قبول کر لیا ہے، مصر، قطر، ترکیہ اور امریکہ کی ثالثی سے تیار کیا گیا تھا، جس میں غزہ کے لیے اعلیٰ نمائندے اور امن کونسل بھی شامل تھے۔

 اس میں حماس سمیت مسلح گروہوں کے ہتھیار ڈالنے، اسرائیلی فوج کے انخلا، بین الاقوامی استحکام فورس کی تعیناتی، غزہ کے انتظامی معاملات چلانے کے لیے قومی کمیٹی کو انتظامی اختیارات کی منتقلی اور علاقے کی تعمیر نو کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

اتوار کو جاری ہونے والے ایک مشترکہ بیان میں سعودی عرب، مصر، اردن، پاکستان، انڈونیشیا، ترکیہ، قطر اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے کہا کہ وہ ’روڈ میپ کو اعلانیہ طور پر مسترد کرنے‘ اور فلسطینی ریاست کی مخالفت کی مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے اسرائیل پر غزہ امن منصوبے پر عمل درآمد اور ’منصفانہ اور دیرپا امن کے حصول کے لیے کی جانے والی کوششوں کو ’نقصان پہنچانے‘ کا الزام لگایا۔

گذشتہ ہفتے اسرائیل کے وزیراعظم بن یامین نتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ کے لیے پیش کردہ 15 نکاتی منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ حماس کے مکمل اور ’حقیقی طور پر‘ غیر مسلح ہونے تک اسرائیلی فوج غزہ سے واپس نہیں جائے گی۔

انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ جب تک حماس کو ’حقیقی طور پر‘غیر مسلح نہیں کیا جاتا، اسرائیلی فوج غزہ سے واپس نہیں جائے گی۔

وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ ’یہ مؤقف جامع منصوبے سے براہ راست انحراف کے مترادف ہے۔ یہ اس پر عمل درآمد کو خطرے میں ڈالتا ہے، اور منصفانہ اور دیرپا امن کے حصول کے لیے کی جانے والی اجتماعی کوششوں کو بنیادی طور پر نقصان پہنچاتا ہے۔

’(امن منصوبہ) اس طرح مسترد کرنا اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ غزہ اور باقی مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں امن لانے کی کوششوں میں رکاوٹ ڈالنے کی ذمہ داری اب اسرائیل پر عائد ہوتی ہے۔‘

آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ کے مطابق روڈ میپ کو مسترد کرنا اور غزہ امن منصوبے پر عمل درآمد کو آگے بڑھانے سے اعلانیہ انکار سے غزہ میں جنگ کا خاتمہ کرنے اور دیرپا امن کے لیے حالات پیدا کرنے کے سلسلے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کی جانے والی وسیع کوششوں کے ناکام ہونے کا براہ راست خطرہ پیدا ہوتا ہے۔

وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ جامع منصوبے اور اس کے روڈ میپ کے تحت طے شدہ وعدوں اور انتظامات کی اسرائیل کی جانب سے مکمل پاسداری کو یقینی بنانے اور نافذ کرنے کے لیے مسلسل اور فعال امریکی شمولیت انتہائی اہم ہے، تاکہ ان پر عمل درآمد میں مزید رکاوٹ کو روکا جا سکے۔

 انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل اس منصوبے کو مسلسل مسترد کرنے، اس میں رکاوٹ ڈالنے، تاخیر کرنے یا اس پر عمل نہ کرنے کے نتیجے میں نکلنے والے کسی بھی عواقب کا براہ راست اور مکمل طور پر ذمہ دار ہے، جس میں زمینی صورتحال کا مزید خراب ہونا اور غزہ میں جنگ کے خاتمے کے عمل میں پڑنے والا خلل بھی شامل ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مشترکہ بیان کے مطابق: ’وزرائے خارجہ سنگین انسانی صورت حال سے نمٹنے، غزہ میں سب کے لیے سکیورٹی اور استحکام کو یقینی بنانے، اور علاقے کی تعمیر نو اور بحالی کی راہ ہموار کرنے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی قانون کے مطابق فلسطینیوں کے حق خودارادیت اور ریاست کے حق پر مبنی ایک منصفانہ اور دیرپا امن کو آگے بڑھانے کے لیے جامع منصوبے پر مکمل اور فوری عمل درآمد کی اشد ضرورت کی توثیق کرتے ہیں۔

’وزرائے خارجہ بورڈ آف پیس کے مسلسل کردار کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں اور تمام فریقین سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ روڈ میپ پر عمل درآمد اور صدر ٹرمپ کے جامع منصوبے کے دوسرے مرحلے کو آگے بڑھانے کے لیے اس کی کوششوں کی حمایت کریں۔ وزرائے خارجہ مزید بورڈ آف پیس سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ امریکہ کی فعال حمایت اور شمولیت کے ساتھ، اپنے اختیارات کے دائرے میں رہتے ہوئے فوری اور ٹھوس اقدامات کرے تاکہ جامع منصوبے کی ساکھ کو برقرار رکھا جا سکے اور کسی بھی فریق کو اس پر عمل درآمد میں رکاوٹ ڈالنے سے روکا جا سکے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا