بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اقوام متحدہ کے بین الاقوامی چلڈرنز ایمرجنسی فنڈ (یونیسف) نے جمعے کو اسلام آباد کے مضافاتی علاقے ترلائی کی مسجد میں ہونے والے حملے میں بچوں کی اموات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’کسی بچے کو کبھی نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ضلعی انتظامیہ کے مطابق ترلائی میں واقع امام بارگاہ سے متصل مسجد خدیجۃ الکبریٰ کے احاطے میں جمعے کو ایک شخص نے فائرنگ کی، پھر خود کو بم سے اڑا لیا، جس کے نتیجے میں 30 سے زائد افراد جان سے گئے اور 170 سے زائد زخمی ہو گئے۔ جان سے جانے والوں میں چھ بچے بھی شامل تھے۔
ہفتے کو یونیسف نے اپنے بیان میں کہا: ’بچوں کا قتل ناقابل قبول فعل اور ان کے حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ ہم متاثرہ خاندانوں اور برادریوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔‘
یونیسف کے مطابق: ’کسی بچے کو کبھی نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے اور نہ ہی اسے تشدد کا سامنا کرنا چاہیے۔ بچوں کا ہر حال میں تحفظ یقینی بنایا جائے۔‘
اس واقعے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم داعش خراسان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹیلی گرام پر ایک پوسٹ میں قبول کرنے کا دعویٰ کیا۔
ہفتے کو پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بتایا تھا کہ حملے کے چار سہولت کاروں اور ماسٹر مائنڈ کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
وزیر داخلہ نے مزید کہا تھا کہ ’اس سارے واقعے کی منصوبہ بندی اور ٹریننگ داعش افغانستان نے کی ہے اور افغانستان کے اندر ہوئی ہے۔‘
اسلام آباد طویل عرصے سے کابل پر یہ الزام عائد کرتا رہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو شدت پسند گروہوں کو استعمال کی اجازت دیتا ہے، اور نئی دہلی پر یہ الزام ہے کہ وہ پاکستانی شہریوں اور سکیورٹی فورسز کے خلاف سرحد پار حملوں کی پشت پناہی کرتا ہے، تاہم افغان اور انڈین حکومتیں ان الزامات کی مسلسل تردید کرتی رہی ہیں۔