جانے کتنے برس گزرے، میرے لاہور کے کوٹھے اور چھتیں ویران ہو گئی تھیں۔ نہ چھتوں پہ بیٹھ کے مالٹے کھائے جا رہے تھے اور نہ منڈیروں کے پار رومان چل رہے تھے۔
آسمان پہ چیلوں کا راج تھا اور سردی کے بعد بس اچانک گرمی آجاتی تھی۔ بہار آتی ہو گی مگر ہمیں پتہ ہی نہیں چلتا تھا۔ لاہوریوں کے لیے تو بہار ہی بسنت کے بعد آتی تھی۔
مجھے یاد ہے ہمارے بچپن میں ایک واقعہ بہت دہرایا جاتا تھا کہ شاید 50 یا 60 کی دہائی میں قصور کی ایک پتنگ باز لڑکی نے اخبار میں چیلنج دیا کہ جو میری چڑھائی ہوئی گڈی کو کاٹ کے دکھائے گا اس کو اتنا اتنا انعام ملے گا۔
اس کے آگے ہر راوی کی تفصیلات مختلف ہو جاتی تھیں۔ سب سے مستند راوی کے مطابق مہاراجہ الور کے سابق مہتمم محلات کے سسر مجید عالم نے یہ چیلنج قبول کیا اور اس لڑکی سے ہار گئے۔
سچ تھا یا جھوٹ، مگر یہ واقعہ اس قدر دلچسپ تھا کہ اسے میں نے اپنے ایک ڈرامے ’پریت نہ کریو کوئی‘ کا ایک پورا ٹریک بنایا۔ اس وقت بسنت پر پابندی تھی اور یہ ڈرامہ دو چینلوں سے صرف اس وجہ سے واپس لے لیا گیا کہ وہ اس میں سے بسنت کو کاٹنا چاہ رہے تھے۔
واقعہ سنانے کا مقصد یہ ہے کہ لاہوریے، اپنی بسنت سے کسی طور دستبردار ہونے کو تیار نہیں ہوتے، نہ سہی حقیقت، ڈرامہ ہی سہی۔ بسنت نہیں تو بہار کیسے آئے گی؟
ہم چھپ چھپ کے بسنت مناتے رہے، زرد کپڑے، گیندے کے پھول، شہر سے دور کسی فارم پہ دو پتنگیں اڑاتے رہے، سرسوں کے کھیتوں میں گاتے رہے مگر بسنت کا یہ تہوار کسی ’انڈر گراونڈ‘ کانسرٹ یا سیکرٹ سوسائٹی کی طرح ہمارے دل میں موجود رہا۔
تو اس برس جب اذن ملا کہ تہوار کو آزاد کر دیا گیا تو ایسی ہی خوشی ہوئی، جیسی اس ساون میں راوی سے مل کر ہوئی تھی جب وہ مادھو پور کا بیراج توڑ کے اپنی دھرتی پہ بہنے آگیا تھا۔
موسم، دریا، پرندے، دھرتی کے باشندے، انہیں قید نہیں کیا جا سکتا۔ پنجاب کی اس سانولی مٹی سے بنے ہم لوگ پانیوں کے کناروں پہ بستے، بیجوں کے ساتھ دفن ہوتے پانیوں کے آنے کا انتظار کرتے، بارآوری کی رت میں سرسوں کی طرح اگتے ہیں۔ ہم بنائے ہوئے قوانین اور لکھے ہوئے معاہدوں میں قید ہو کے بہت پریشان ہو جاتے ہیں۔
بسنت، لوٹے گی، یقین سا نہیں آ رہا تھا۔ حکومت کی طرف سے ہمارا یا پتہ نہیں کس کا سافٹ امیج بنانے کے لیے، کسی کال کوٹھڑی سے ہمارا تہوار نکالا گیا۔ وجہ جو بھی رہی ہو مگر جمعرات، جمعے کی درمیانی شب لوہاری گیٹ کے سامنے، اچانک چھتوں پہ سرچ لائٹیں چمک اٹھیں اور سفید پتنگیں، امن، محبت اور امید کی طرح منڈیروں سے سچ مچ نمودار ہوئیں اور آہستہ آہستہ لاہور کے آسمان پہ بلند ہونے لگیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
راوی کی طرف سے سرسوں اور برسیم کی خوشبو سے بھرا ایک خنک جھونکا آیا اور پتنگوں کو اور اونچا اٹھاتے ہوئے سرگوشی کی۔ راوی کے پانیوں اور پتنگوں کے درمیان کیا سازش ہوئی یہ تو میں نہ جان سکی مگر ایبک کے مزار کے سامنے سے گزرتے ہوئے مجھے یوں لگا کہ لاہور زندہ ہو رہا ہے۔
میں نے کان لگا کر سنا ایک مدھم سی دھڑکن سنائی دے رہی تھی۔ نیلے گنبد کے پاس سے، اندرون لاہور سے، ہلکی سی دھک دھک ۔ دل چاہا وزیراعلیٰ صاحبہ کے اقدامات کی تعریف کروں، شہر کی صفائی ستھرائی کی، محمود بوٹی پہ کوڑے کے پہاڑ پہ جنگل اگانے کی، بسنت منانے کی اور ہماری طرح نظر آنے کی۔
مگر اس سے پہلے فیض کی ایک نظم یاد آگئی سن لیجیے، ہم ذرا شرلے کو کنی دے لیں کیوں کہ جین زی بچوں کو نہ کنی دینی آتی ہے نہ تناویں ڈالنی، تو اب فیض کی نظم بھی ہم ہی کو پڑھنی ہو گی اور گڈی بھی ہم ہی کو اڑانی ہو گی۔
بہار آئی تو جیسے یک بار
لوٹ آئے ہیں پھر عدم سے
وہ خواب سارے شباب سارے
جو تیرے ہونٹوں پہ مر مٹے تھے
جو مٹ کے ہر بار پھر جئے تھے
نکھر گئے ہیں گلاب سارے
جو تیری یادوں سے مشکبو ہیں
جو تیرے عشاق کا لہو ہیں
ابل پڑے ہیں عذاب سارے
ملال احوال دوستاں بھی
خمار آغوش مہ وشاں بھی
غبار خاطر کے باب سارے
ترے ہمارے
سوال سارے جواب سارے
بہار آئی تو کھل گئے ہیں
نئے سرے سے حساب سارے
نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔