بسنت: تہوار یا خونی کھیل؟ مشترکہ میراتھن بہتر متبادل

اسلام آباد میں ایک بڑی مشترکہ میراتھن کا انعقاد ہوا جس میں ہزاروں شہریوں نے شرکت کی۔ یہ اتنی پیاری تقریب تھی کہ مجھے لگا میرا شہر پھر سے مسکرا رہا ہے اور جی اٹھا ہے۔

اسلام آباد میں 25 جنوری 2026 کو ہونے والی میراتھن میں زندگی کے ہر شعبے کے افراد نے حصہ لیا (اسلام آباد رَن ود اَس فیس بک پیج)

کھیل کیوں کھیلے جاتے ہیں؟ تاکہ انسان صحت مند اور خوش رہے۔

بچوں کو بار بار کیوں کہا جاتا ہے کہ موبائل کی جان چھوڑو اور باہر جا کر دھوپ اور کھلی فضا میں کوئی کھیل کھیلو؟ کیونکہ یہ کھیل خواہ بچہ کھیلے یا بڑے اس میں حصہ لیں، یہ ذہنی اور جسمانی صحت کے لیے بہت اچھے ہیں۔ کھیل دل و دماغ کی صحت کے ساتھ ساتھ نظام تنفس، نظام ہضم اور ہارمونز پر اچھا اثر ڈالتے ہیں، اس لیے کھیل بہت ضروری ہیں۔

اسی طرح چہل قدمی کرنا اور دوڑنا بھی انسانی صحت کے لیے ناگزیر ہیں۔ سبھی کرکٹ نہیں کھیل سکتے نہ ہی کبڈی ہر کوئی کھیل سکتا ہے، اس لیے اپنی صحت کے مطابق کھیل کا انتخاب کریں اور ہفتے میں دو سے تین بار اپنے مشغلے کو وقت دیں۔ آج کل پیڈل ٹینس کا رواج چل پڑا ہے لیکن ہر کوئی اسے نہیں کھیل سکتا کیونکہ اس کے لیے بہترین جسمانی صحت کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو لوگ پیڈل ٹینس میں حصہ نہیں لے سکتے وہ اس کے بجائے ٹیبل ٹینس کا انتخاب کر سکتے ہیں۔

ہر چیز کا متبادل موجود ہے بس ہمیں کھیلوں کی طرف ایک بار پھر راغب ہونا ہو گا۔ ہاکی، فٹ بال، سنوکر، کبڈی، کشتی اور سکواش میں کبھی پاکستان دنیا میں حکمرانی کیا کرتا تھا اب تو بچے ذرا سا کھیلیں تو ان کی سانس پھولنے لگتی ہے۔ ذیابطیس پاکستان کی بڑی بیماری بنتی جا رہی ہے جس کی بڑی وجہ ورزش نہ کرنا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

حال ہی میں اسلام آباد میں ایک بڑی مشترکہ میراتھن کا انعقاد ہوا جس میں ہزاروں شہریوں نے شرکت کر کے کئی میل تک ایک ساتھ دوڑ لگائی۔ اس میں بچے، بزرگ، خواتین اور مرد سبھی شامل تھے۔ یہ اتنی پیاری تقریب تھی کہ مجھے لگا میرا شہر پھر سے مسکرا رہا ہے اور جی اٹھا ہے۔ اپنے حالات زندگی اور صحت کے مسائل کے باعث میں خود تو 10 ہزار یا پانچ ہزار قدم تک چل نہیں سکتی پر دوسروں کو خوش باش اور صحت مند دیکھ کر بہت اچھا لگا۔

یہ ریس ایف نائن پارک سے شروع ہوئی جہاں ہزاروں ایتھلیٹس کے لیے پانی، کیلے، جوس اور دودھ رکھا گیا تھا۔ کچھ لوگ مسلسل دوڑتے رہے اور کچھ نے اپنا راستہ تھوڑا رک کر اور بریک لے کر مکمل کیا۔ شرکا کے ساتھ ساتھ سکیورٹی کا انتظام اور ایمبولینس بھی موجود رہیں۔ اسلام آباد میراتھن کا انعقاد 25 جنوری کو ہوا اور اس کا اہتمام ’رن ود اس‘ (Run With Us) نے کیا تھا۔

اس ریس میں چھ ہزار سے زائد لوگوں نے حصہ لیا۔ اس میراتھن میں پانچ کیٹیگریز تھیں جن میں پانچ کلومیٹر، 10 کلومیٹر، ہاف میراتھن (21.1 کلومیٹر) اور فل میراتھن (42.2 کلومیٹر) شامل تھیں۔ اس کے ساتھ بچوں کے لیے تفریحی دوڑ بھی اس کا حصہ تھی۔ ’رن ود اس‘ کی بنیاد 2016 میں قاسم ناز نے رکھی اور اس میراتھن کا مقصد ماہر ایتھلیٹس، واک کرنے والے یا دوڑ لگانے والے افراد کو ایک منظم اور محفوظ ماحول فراہم کرنا ہے۔

حالیہ ریس میں بھی اسلام آباد پولیس، سی ڈی اے، نیشنل پریس کلب اور ایونٹ کے اسپانسر ’مائیلو‘ کی طرف سے بہترین انتظامات کیے گئے تھے۔ جہاں اس ریس میں پاکستانی شہری دوڑے وہاں چین، برطانیہ، امریکہ، جرمنی، پولینڈ، جاپان، اٹلی، فرانس، ڈنمارک، تھائی لینڈ، کینیڈا، جنوبی افریقہ اور سویڈن سمیت دیگر ممالک سے بھی ایتھلیٹس نے شرکت کی۔

میرے نزدیک تو شہر میں ہر دو تین ہفتے بعد ایسی سرگرمیوں کا انعقاد ہونا چاہیے تاکہ ہم سب اپنے گرم اور آرام دہ گھروں اور دفاتر سے نکل کر فطرت کی طرف واپس آئیں۔ لازمی نہیں کہ ہم سب نے کئی کلومیٹر دوڑنا ہے یا 10 ہزار قدم پورے کرنے ہیں۔ ہم تھوڑی دیر کے لیے بھی اس میں حصہ لے سکتے ہیں کیونکہ ہر انسان اپنی ذات میں ایتھلیٹ نہیں ہے، پر کتنی خوشی محسوس ہو گی کہ موبائل اور انٹرنیٹ سے ہٹ کر ہم نے کچھ حاصل کیا۔

جہاں اسلام آباد میں اتنی بڑی صحت مندانہ سرگرمی کا انعقاد ہوا وہاں دوسری طرف پنجاب میں بسنت منانے کی تیاریاں عروج پر ہیں۔ وہ پنجاب جہاں ابھی تک سیلاب کی تباہ کاریوں سے لوگ مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکے۔ دوسری طرف اس وقت شدید سردی اور دھند ہے، ان حالات میں ایک ایسے تہوار کو منایا جانا جس پر 20 سال پابندی رہی، کیا ٹھیک عمل ہو گا؟ ہرگز نہیں، یہ ایک مناسب عمل نہیں ہے۔

ایک تو سخت سردی اور دھند ہے، دوسری طرف بسنت بہار کا ثقافتی تہوار ہے۔ جس صوبے میں لوگ غربت سے بدحال ہوں، جہاں پینے کا صاف پانی نہ ہو، جہاں صحت کی سہولیات کا فقدان ہو وہاں ایسے تہوار منانا مناسب نہیں۔ کسی شہر یا صوبے میں برقی قمقمے لگا دینے سے یا کاغذی پھول اور پلاسٹک کی سجاوٹ سے وہ ترقی یافتہ نہیں کہلاتا۔

اب جب بسنت کا تہوار منایا جائے گا تو اس کی تباہ کاریوں کو کون روکے گا؟ ایک ایسا کھیل جس میں ہاتھ اور گلے بھی کٹ جاتے ہیں لیکن اس کے شیدائیوں کو پروا ہی نہیں، ان کو یہ تہوار چاہیے۔ ہماری اشرافیہ ویسے بھی اصل حقائق سے کوسوں دور ہے، کسی نے مشورہ دیا کہ ’چلو کچھ نیا کرتے ہیں‘ تو 20 سال پہلے پابندی والے تہوار کو منانے کی تیاری شروع کر دی۔ کیا ہم اس تہوار کے بنا نہیں رہ سکتے؟ کیا ہم پتنگ بازی کے علاوہ کوئی کھیل نہیں کھیل سکتے؟

ایسا کھیل جو لوگوں کی جان لے رہا ہو وہ پھر کھیل تو نہ ہوا۔ اب اگر یہ تہوار ہو گا تو کیا ہو گا؟ لوگ پتنگیں اڑائیں گے، اونچی موسیقی پر رقص ہو گا، مرغن کھانے کھائے جائیں گے اور اسی دوران دھاتی تار کا استعمال کسی بھی شہری کے لیے موت کا پروانہ ثابت ہو گا۔ جتنی بھی پابندی لگا لیں قاتل ڈور لوگوں کو نشانہ بنا دیتی ہے۔ ڈور گلے پر پھرنے کا خطرہ ہوتا ہے، بچوں کے چھت سے گرنے کا خطرہ ہوتا ہے اور ڈور کی وجہ سے کرنٹ بھی لگ سکتا ہے۔

سارا مسئلہ اس کیمیکل والی دھاتی ’قاتل ڈور‘ کا ہے جس کا استعمال منع ہے لیکن یہ تیار بھی ہوتی ہے اور بازار میں بکتی بھی ہے۔ پہلے ڈور عام دھاگے سے بنی ہوئی تھی لیکن لوگوں نے ایک دوسرے کی پتنگ کاٹنے کے چکر میں ایسی ڈور بنا لی ہے جس پر کیمیکل اور شیشہ لگا ہوا ہے۔ یہ دھاتی ڈور پتنگ کے پیچ میں ڈور بھی کاٹ دیتی ہے اور بعد ازاں یہ کٹی ہوئی ڈور کسی بھی راہ گیر یا موٹر سائیکل سوار کا گلا کاٹ سکتی ہے۔ اس کے علاوہ اگر یہ ڈور بجلی کی تاروں پر گر جائے تو اس سے کرنٹ بھی لگ سکتا ہے۔

جب بڑے پیمانے پر بسنت ہوتی ہے تو بڑی تعداد میں ’بوکاٹا‘ بھی ہوتا ہے اور کٹی پتنگیں دیکھ کر لوگ ان کے پیچھے بھاگتے ہیں جس سے وہ ٹریفک حادثات کا شکار ہوتے ہیں۔ ایسا تہوار جس کے نقصانات زیادہ ہیں اور فائدے کم، اسے منانے سے کیا حاصل ہو گا؟ اس کے ساتھ لوگ اسی تہوار میں ہوائی فائرنگ کر کے دوسروں کی جان خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔

یہ تہوار کہنے کو تین دن منایا جائے گا لیکن لوگ ایک دو ہفتے تک پتنگ بازی کرتے رہیں گے اور ان سے ہونے والے حادثات کا ذمہ دار کون ہو گا؟ بچے چھتوں سے گر جاتے ہیں، وہ یہ پروا ہی نہیں کرتے کہ پیچھے دیوار نہیں ہے یا چھت نہیں۔ کیا حکومت گھر گھر جا کر ڈسپلن قائم کرے گی؟ ابھی صوبائی حکومت گانوں پر پابندیاں لگا رہی ہے، سیاست دانوں یا جماعتوں کے پرچم والے گڈے گڈیوں پر پابندی لگا رہی ہے، پر اس کی پابندی کس حد تک ہو گی یہ آنے والے دن ہمیں بتا دیں گے۔

موسم بہار کا استقبال صحت مندانہ سرگرمیوں کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے، شجرکاری بھی ہو سکتی ہے۔ پورے پنجاب کو پائے اور نہاریوں سے نکال کر سڑکوں پر دوڑ بھی لگوائی جا سکتی ہے۔ پر ہم سہل پسند لوگ ہیں، بیٹھے رہتے ہیں، کھانا کھاتے رہتے ہیں اور باتیں کرنے کے شوقین ہیں۔ اس میں اب پتنگ بھی پھر سے شامل ہو جائے گی، پر ایک ایسی تفریح اور ایسا خونی کھیل جس میں لوگوں کے ماضی میں گلے کٹ گئے ہوں اسے دوبارہ شروع کرنے کے پیچھے کیا وجہ ہو سکتی ہے؟ اس سے کیا فائدہ ہو گا؟ یہ ہماری ثقافت کے بجائے باعث زحمت زیادہ ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ