بسنت قریب آتے ہی لاہور میں ڈور اور پتنگوں کی تیاری میں تیزی آ گئی ہے۔
پتنگ بازی پنجاب کی قدیم ثقافت کا ایک اہم اور رنگین حصہ رہا ہے۔ صوبے کے شہر ہوں یا دیہات 25سال پہلے تک کوئی بچہ یا نوجوان ایسا نہیں تھا جسے پتنگ بازی کا شوق نہ ہو یا کم از اس حوالے سے کوئی تعلق نہ ہو
کہیں پتنگیں اڑتی، کہیں بکتی اور کئی سڑکوں کے کنارے ڈوریں لگتی عام دکھائی دیتی تھیں۔ مگر جب دھاتی ڈور پتنگ بازی کے لیے استعمال ہونا شروع ہوئی اور موٹر سائیکل سواروں کے گلے پر ڈور پھرنے کے واقعات بڑھے تو حکومت نے 2000میں پتنگ بازی پر پابندی عائد کر دی۔
سخت کریک ڈاون کے باعث پنجاب کے ہر شہر تو کیا گاؤں میں بھی پتنگ بنانے یا اڑانے پر خوف کی فضا بن گئی۔ مگر اب پنجاب حکومت نے اس ثقافتی شوق کو لاہور میں چھ سے آٹھ فروری کو بسنت کے دوران پورا کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔
لاہور میں بسنت کے پیش نظر شہر بھر میں تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔ پتنگ سازوں اور ڈور تیار کرنے والوں نے حکومتی شرائط کے مطابق کام شروع کر دیا ہے۔ شہریوں میں بھی بسنت کے حوالے سے جوش و خروش پایا جا رہا ہے۔
ڈور تیار کرنے والے محمد اکرام نے انڈپینڈنت اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’بسنت کے لیے باریک دھاگے والی ڈور لگا رہے ہیں جس میں دو سے پانچ نمبر کا دھاگہ استعمال کیا جارہا ہے جو آرام سے ٹوٹ جاتا ہے، اس لیے کسی کو نہیں پہنچ سکتا۔ کیمیکل ڈور استعمال نہیں کی جارہی۔ ڈور بنانے کے لیے کھلے علاقوں کی اجازت دی گئی ہے۔ بسنت منانے والوں کو بہت شوق ہے۔ امید نہیں تھی اتنا کام ہوگا۔‘
حکوتمی شرائط کے مطابق پتنگیں بھی مخصوص سائز تک تیار ی جارہی ہیں۔ ڈور اور پتنگوں پر کیو آر کوڈ لگانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ تاکہ کسی حادثے کی صورت میں معلوم ہوسکے کی ڈور اور پتنگ طے شدہ شرائط کے مطابق بنی تھی یا نہیں۔
ڈور کے کاریگر محمد نوید کے بقول: ’میں نے 25سال پہلے ڈوریں لگانے کا کام سیکھا لیکن دو سال بعد پتنگ بازی پر پابندی لگ گئی۔ اب وقت کم اور کام زیادہ ہے اس لیے میرا پرانا ہنر اب میرے کا آرہا ہے اور ہم حکومتی شرائط کے مطابق زیادہ سے زیادہ ڈور تیار کر رہے ہیں۔‘
لاہورمیں پتنگ بازی کے شوقین شہری محمد عبید نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’بسنت کی اجازت دینا بہت اچھی بات ہے آج کے بچوں کو تو پتنگ بازی کے بارے میں معلوم ہی نہیں۔ اس طرح سب شوق پورا کر لیں گے۔
’ڈور اور پتنگ اتنی مہنگی ہے کہ عام آدمی شائد اب بھی شوق پورا نہ کر سکے۔ کیوں کہ آٹھ ہزار کا ڈور کا گولہ اور دو سوروپے کی پتنگ ملے گی۔ ڈور کے دو چار گولے اور پتنگیں خریدنے پر 50 ہزار تک خرچ آئے گا۔ غریب آدمی کہاں سے خریدے گا؟ اس لیے حکومت کو چاہیے کہ ڈور اور پتنگوں کی قیمت مقرر کرے۔‘
دوسری جانب لاہور کے مختلف علاقوں میں چھتوں کی بکنگ کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ شہری بڑی تعداد میں چھتیں کرائے پر لے رہے ہیں، جب کہ عمارتوں پر حفاظتی جال اور رکاوٹیں لگائی جا رہی ہیں۔ کئی علاقوں میں رضاکاروں کی ٹیمیں بھی تشکیل دی گئی ہیں جو بسنت کے دوران حفاظتی اقدامات پر عملدرآمد یقینی بنائیں گی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ضلعی انتظامیہ کے مطابق موٹر سائیکل سواروں کے لیے حفاظتی تدابیر، ہسپتالوں میں ایمرجنسی الرٹ اور بجلی کی تاروں کے تحفظ کے لیے متعلقہ محکموں کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ پتنگ بازی کے مقررہ اوقات اور علاقوں کا تعین بھی کیا جا رہا ہے تاکہ شہریوں کی جان و مال کو محفوظ بنایا جا سکے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر بسنت کو مکمل حفاظتی انتظامات اور سخت نگرانی کے ساتھ منایا جائے تو یہ تہوار لاہور کی ثقافتی شناخت کو بحال کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ حکومتی ہدایات پر عمل کریں اور کسی بھی غیر قانونی سرگرمی سے گریز کریں۔