آج کل کراچی کے شہری اسلام آباد اور لاہور کی سڑکوں سے موازنہ کرتے ہوئے یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا کبھی شہرِ قائد کی سڑکیں شہرِ اقتدار جیسی بن سکیں گی؟
پاکستان کے سب سے بڑے تجارتی شہر کراچی میں شہری انفراسٹرکچر کی خستہ حالی، ٹوٹی سڑکوں اور صفائی کے مسائل پر اکثر تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے لیکن اب اس میں ایک خاص تیزی آئی ہے۔
اس کی وجہ وہ میڈیا رپورٹس ہیں جن کے مطابق اس ہفتے صدر پاکستان آصف علی زرداری نے، جو سندھ کی حکمراں جماعت پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین بھی ہیں، سندھ کے وزیر اعلیٰ اور میئر کراچی کو ہدایت کی کہ شہر میں سڑکوں کو بہتر بنایا جائے۔ بعض خبروں میں دعویٰ کیا گیا کہ تعمیراتی کاموں میں تاخیر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کراچی کی سڑکوں کا اسلام آباد کی سڑکوں جیسی بنانے کی تین ماہ کی ڈیڈ لائن بھی دی ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے تاہم ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ 'صدر آصف علی زرداری کی جانب سے کوئی بھی تین ماہ کی ڈیڈ لائن دینے کی خبر درست نہیں۔ ایک ایسی بات جو ہوئی ہی نہیں، اسے ٹی وی پر نشر کر دیا گیا، ایسی کوئی گفتگو نہیں ہوئی۔'
تردید کے باوجود اس صورت حال پر انڈپینڈنٹ اردو نے ایک نجی بینک میں کام کرنے والی حمیرا پاشا سے بات کی جنہوں نے تسلیم کیا کہ کراچی کی سڑکیں اس وقت بہت خراب ہے۔ ’اس نے ہمارے ساتھ ہماری گاڑیوں کو بھی بے حال کر دیا ہے۔‘
انہوں نے بتایا ہ اپنی ٹریننگ کے سبب دو دفعہ اسلام آباد جاچکی ہیں، جہاں انہوں نے شہر اقتدار کی سڑکوں پر سفر کیا۔ وہ کہتی ہیں، ’اسلام آباد کی سڑکیں بہترین ہیں۔ ایسی سڑکیں کراچی میں بن جائیں تو کیا ہی بات ہوگی۔‘ لیکن ویسی نہ بھی ہوں لیکن کراچی کی سڑکیں بننی چاہیے لیکن انہوں نے اپنی بات سوال پر ختم کی کہ کیا ایسا کبھی ہوسکے گا؟
ریما نامی خاتون نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ 'جب وہ گھر سے نکلتی ہیں تو شہر میں صفائی کا فقدان اور ٹوٹی سڑکیں ان کا استقبال کرتی ہیں۔ جبکہ سڑکوں کی خستہ حالی کے باعث سفر دشوار ہو جاتا ہے۔ وہ چاہتی ہیں کہ کراچی کا انفراسٹرکچر اسلام آباد جیسا منظم اور بہتر بنایا جائے۔‘
بزرگ شہری عبدالخالق کا کہنا تھا کہ 'ایک وقت تھا جب کراچی کو روشنیوں کا شہر اور سونے کی طرح تھا شہر میں سہولت تھی، مگر اب کافی عرصے سے حالات بدل چکے ہیں۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے اس کی ذمہ داری جزوی طور پر عوام پر بھی ڈالی کہ وہ کیوں کر درست قیادت کا انتخاب نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا: 'نواز شریف نے اپنے شہر لاہور کو سنوار دیا، مگر کراچی کے لیے ویسی توجہ نظر نہیں آتی۔‘
کامران نامی شہری نے کہا کہ شہر کے بیشتر مقامات کھدے پڑے ہیں، جن سے ٹریفک جام اور روزمرہ مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کے بقول، ’اگر کراچی انفراسٹرکچر کے لحاظ سے اسلام آباد کا آدھا بھی بن جائے تو یہ بڑی کامیابی ہوگی۔‘
شہریوں کو سفر میں مشکلات کے علاوہ قوائد کی پاسداری نہ ہونے کی وجہ سے جان کا ظرہ بھی رہتا ہے اور روزانہ حادثات کی خبریں سامنے آتی رہتی ہیں۔
تقابل کیوں؟
لوگوں کے ردعمل کے بعد انڈیپنڈنٹ اردو نے میئر کراچی مرتضیٰ وہاب سے سڑکوں کی صورت حال پر گفتگو کی۔ انہوں نے کہا، 'اسلام آباد ایک نیا اور منصوبہ بندی کے تحت بسایا گیا شہر ہے، اس کا کراچی سے موازنہ مناسب نہیں۔ کراچی ایک قدیم اور گنجان آباد شہر ہے جس کے مسائل کی نوعیت مختلف ہے، تاہم تعمیراتی کاموں کے معیار کو بہتر بنانے کی کوشش جاری ہے۔'
موازنے کے سوال پر ان کا کہنا تھا، 'ان کا موازنہ مریم نواز سے کرنا بھی مناسب نہیں کیونکہ وہ ملک کے سب سے بڑے صوبے کی وزیر اعلیٰ ہیں۔ ’میں نے ایک ایسا نظام سنبھالا جو ڈس فنکشنل تھا۔ مجھ سے پہلے میئر نے وسائل کی کمی کا جواز پیش کر کے کام نہیں کیا، تاہم میں نے دستیاب وسائل میں نظام کو فعال بنانے کی کوشش کی ہے۔'
انہوں نے بتایا کہ 'کراچی میونسپل کارپوریشن رواں مالی سال کے دوران شہر میں 46 ارب روپے خرچ کر رہی ہے اور ہدف ہے کہ زیادہ تر ترقیاتی کام اسی سال مکمل کر لیے جائیں۔'
ان کے مطابق: 'کیٹل کالونی فلائی اوور 120 دن میں ایک اعشاریہ چھ ارب روپے کی لاگت سے مکمل کیا گیا اور عام ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا، جبکہ کورنگی کاز وے پل پر چھ ارب روپے خرچ ہوئے۔‘
آخر میں ان کا کہنا تھا کہ وہ خود بھی کراچی کو ایسا شہر دیکھنا چاہتے ہیں جہاں سہولتیں میسر ہوں، تاہم مکمل بہتری فوری طور پر ممکن نہیں اور بتدریج اقدامات کے ذریعے صورت حال بہتر بنائی جا رہی ہے۔
دوسری جانب بدھ کو اسلام آباد میں وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں میں پیشرفت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔
وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت سندھ میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی جلد از جلد تکمیل کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ انہوں نے متعلقہ وزارتوں کو ہدایت کی کہ وہ صوبائی حکومت کے ساتھ قریبی رابطہ رکھیں تاکہ عوامی فلاح کے منصوبوں میں تیزی لائی جا سکے۔
صدر زرداری کی مبینہ مہلت یا میئر کی تردید سے ہٹ کر، کراچی کے عام شہری کے لیے ایک بڑا مسئلہ کراچی کی ٹوٹی سڑکیں ہیں۔