کشمیر یوں کے حق خود ارادیت کا ایک پہلو عمومی طور پر نظر انداز ہوا ہے اور وہ یہ ہے کہ اس طویل مدتی قبضے کے باوجود انڈیا کشمیر کے قدرتی وسائل کا مالک نہیں، یہ کشمیریوں کی ملکیت ہیں اور ان کی مرضی کے بغیر ان وسائل کو استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
جب یہ بنیادی نکتہ سمجھ لیا جائے تو انڈیا کی پاکستان کے خلاف آبی جارحیت کی بحث کا رخ ہی بدل جاتا ہے۔
مثال کے طور پر انڈیا کی آبی جارحیت کے حوالے سے اب تک ہونے والی ساری بحث کا مرکزی نکتہ یہ رہا ہے کہ انڈیا دو طرفہ معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کر سکتا، وہ اسے یکطرفہ طور پر معطل یا کالعدم بھی قرار نہیں دے سکتا اور حتی کہ اگر دو طرفہ معاہدہ نہ بھی ہوتا تب بھی وہ اقوام متحدہ کے چارٹر، انسانی حقوق کے بین الاقوامی اعلامیے، سٹاک ہوم اعلامیے، ڈبلن اعلامیے، ایجنڈا ٹوئنٹی ٹو، مارڈل پلیٹا ایکشن پلان، ہیلنسکی رولز، یو این ای سی ای کے واٹر کنونشن اور کسٹمری انٹر نیشنل لا کے تحت پاکستان کے حصے کا پانی نہیں روک سکتا۔
لیکن اس بحث میں جو بنیادی نکتہ ہے وہ نظر انداز ہوا۔
وہ بنیادی نکتہ کیا ہے؟ بنیادی نکتہ یہ ہے کہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے رستے سے جو پانی پاکستان کی طرف آ رہا ہے وہ پانی انڈیا کی ملکیت ہی نہیں ہے۔ وہ دریا اور ان کا پانی اور یہ سارے وسائل کشمیریوں کے ہیں۔ ان کی ملکیت کشمیریوں کے پاس ہے۔ انڈیا تو مالک ہے ہی نہیں۔ وہ تو ایک غاصب اور قابض قوت ہے۔
اسے یہ حق ہی نہیں ہے کہ وہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے پانیوں پر ڈیم بنائے اور کشمیر ہی کے دوسرے خطے یعنی پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کو ان پانیوں کے قدرتی بہاؤ سے محروم کر دے۔ یہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کی پامالی ہے اور یہ اقوام متحدہ کے ان تمام قوانین سے انحراف ہے جو قابض قوت کے حق ملکیت کی نفی کرتے ہیں۔
انڈیا قابض ریاست کے طور پر انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے پانی کے وسائل کا منظم استحصال کر رہا ہے، سچ تو یہ ہے اس نے مقبوضہ علاقے کے پانی کو ویپنائز کر دیا ہے، ہتھیار بنا لیا ہے اور پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔
کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد جہلم، چناب، نیلم اور کنہار اور متعدد جھیلوں پر انڈیا کا ناجائز قبضہ مزید خطرناک ہو گیا ہے۔ ڈیم اور ہائیڈرو پاور منصوبے جیسے بگلہار، دلشتی اور اوڑی جیسے منصوبے مقامی کشمیری آبادی کے لیے بھی نقصان دہ ہیں۔ اس پانی کا زیادہ تر استعمال صنعتی، تجارتی اور ہائیڈروپاور منصوبوں کے لیے کیا جا رہا ہے، جبکہ مقامی آبادی کے بنیادی حقوق سلب ہو چکے ہیں۔
مثال کے طور پر کشن گنگا سے پانی کا رخ انڈیا کی جانب موڑ دیا گیا ہے جس سے کشمیر کے لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ اسی طرح کشمیر کی زراعت کو داؤ پر لگا کر یہاں کے پانی کو انڈیا نے صنعتی مقاصد میں استعمال کیا ہے۔
پانی کو صدیوں پرانے راستوں سے موڑ کر انڈیا کے بجلی اور صنعتی و کاروباری منصوبوں کی طرف لے جایا گیا ہے۔ ہزاروں ایکڑ پر پھیلے جنگلات کاٹ دیے گئے ہیں۔ یہ سب اقدامات بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں اور ان کا شمار جنگی جرائم میں ہوتا ہے۔
یہ انڈیا کے وہ غیر قانونی اقدامات ہیں جو پاکستان کے خلاف تو ہیں ہی، خود کشمیر کے مفادات کے بھی خلاف ہیں۔ یہ ان کے حق خود ارادیت کی پامالی ہیں۔ جموں کشمیر ری آرگنائزیشن ایکٹ (2019) کے بعد سے انڈیا نے کشمیر کے قدرتی وسائل پر براہ راست غاصبانہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔
جنگلات سے لے کر کان کنی اور معدنیات کے لائسنسوں تک اور زمینیں ہتھیانے سے لے کر دریاؤں اور جھیلوں کے پانی کے استعمال کے فیصلے کرنے کا اختیار اب کشمیر کی حکومت سے لے کر براہ راست انڈیا کی قابض ریاست نے اپنی مرکی حکومت کو دے دیے ہیں۔
اس کا تیجہ یہ نکلا ہے کہ مقامی کشمیری اپنی زمین، پانی اور معدنی وسائل پر اختیار کھو چکے ہیں، روزگار اور معیشت متاثر ہوئی ہے اور صنعتی، تجارتی اور ہائیڈروپاور منصوبوں کے ذریعے وسائل کا استحصال بڑھ گیا ہے۔
انڈیا اگرچہ کشمیر پر قابض ہے اور اگرچہ اس قبضے کو ایک طویل مدت گزر گئی ہے لیکن قبضہ کتنا ہی طویل کیوں نہ ہو وہ قبضہ ہی رہتا ہے ملکیت میں نہیں بدلتا۔ اسی طرح قبضہ غیر قانونی ہی رہتا ہے اسے قانونی حیثیت حاصل نہیں ہو سکتی۔ یہ بین الاقوامی قانون کا طے شدہ اصول ہے کہ کوئی ناجائز قابض ریاست کسی مقبوضہ علاقے کی مالک نہیں بن جاتی۔
سلامتی کونسل نے اسی اصول کی بنیاد پر کویت پر عراق کے قبضے کو ناجائز قرار دیا تھا۔ اسی اصول کے تحت اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے آذربائیجان کے علاقے پر قبضے کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
انٹر نیشنل لا نے ایک اضافی اہتمام یہ کر دیا ہے کہ جب تک ناجائز قابض قوت سے کسی وجہ سے قبضہ ختم نہیں کروایا جا سکتا، تب تک اس عارضی قبضے کے دورانیے میں مقبوضہ علاقوں کے لوگوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے بھی کچھ قوانین بنا رکھے ہیں۔ تاکہ قابض قوت اپنے مقبوضہ جات میں اندھیر نہ مچا دے بلکہ اسے اس ناجائز قبضے کے دوران باقاعدہ جزئیات تک بتا دی جائیں کہ وہ مالک نہیں ہے اور اس کا مقبوضہ جات کے وسائل کو عارضی طور پر استعمال کرنے کی حدودوقیود کیا ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
چنانچہ ہیگ ویزولیوشن کے آرٹیکل 55 میں یہ طے کر دیا گیا ہے کہ قابض طاقت، مقبوضہ جات کی مالک نہیں ہو سکتی۔ اس کی حیثیت صرف ایک منتظم کی ہو گی اور بطور منتظم بھی اس کے اختیارات محدود ہوں گے۔ وہ قدرتی وسائل کو (تباہ ہونے سے بچانے کے لیے) عارضی طور فائدے کے لیے استعمال میں لا سکتی ہے لیکن وہ ان سے مستقل فائدہ کشید نہیں کر سکتی۔
ہیگ ریزولیوشن میں واضح طور پر لکھ دیا ہے کہ قابض طاقت معدنیات، پانی، جنگلات غیرہ کو نہ تو اپنے تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کر سکتی ہے اور نہ ہی ان کی پیئت کو بدل سکتی ہے۔
چوتھے جنیوا کنونشن کے آرٹیکل47 میں لکھا ہے کہ قابض طاقت قانونی یا انتظامی اقدامات کے ذریعے مقامی آبادی کے حقوق نہیں چھین سکتی۔ اسی کنونشن کے آرٹیکل 53 میں لکھا ہے کہ قابض ملک مقبوضہ علاقے کے وسائل کو اپنے معاشی اور ترقیاتی منصوبوں میں استعمال نہیں کر سکتا۔
یہی بات اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 1962میں اپنی قرارداد نمبر 1803 میں بھی کہی ہے کہ وسائل کی ملکیت مقبوضہ علاقوں کے عوام کے پاس ہے۔ قابض قوت کے پاس نہیں۔
جنرل اسمبلی کی 1973 کی قرارداد نمبر 3175 کے مطابق مقبوضہ علاقوں میں، قابض قوت کی جانب سے قدرتی وسائل کا استحصال غیر قانونی ہے۔ اقوام متحدہ کے بین الاقوامی معاہدہ برائے معاشی، سماجی اور ثقافتی حقوق اور بین الاقوامی معاہدہ برائے شہری و سیاسی حقوق میں بھی یہ اصول طے کر دیا گیا ہے کہ تمام انسانوں کو اپنے قدرتی وسائل کو آزادانہ طور پراستعمال کرنے کا حق حاصل ہو گا اور ان کو ان کے وسائل سے محروم نہیں کیا جائے گا۔
انڈیا کے آئین کی اس بحث میں کوئی حیثیت نہیں۔ اس کا آرٹیکل 370 رہے یا ختم ہو جائے، اس سے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی قانونی حیثیت پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ انڈیا کا زیر انتظام کشمیر انڈیا کا حصہ نہ تھا، نہ ہے۔
اس کی قسمت کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے اور یہ فیصلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں ہو گا اور کشمیر کے عوام استصواب رائے کے ذریعے کریں گے۔
انڈیا کا داخلی قانون انٹر نیشنل لا کو منسوخ نہیں کر سکتا۔ سلامتی کونسل واضح طور پر قرار دے چکی ہے کہ انڈیا کا کوئی بھی داخلی بندوبست، کوئی بھی الیکشن، حق خودارادیت کا متبادل نہیں ہو سکتا۔
نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔