مشترکہ دشمن، مختلف ایجنڈا: ایران پر امریکی، اسرائیلی اہداف متصادم

ماہرین کے خیال میں امریکہ اور اسرائیل قریبی اتحادی ہونے کے باوجود مشترکہ دشمن ایران کا مقابلہ کرنے کے لیے مختلف اہداف کے تعاقب میں ہیں۔

ایک سائیکل سوار 4 فروری 2026 کو تہران کے والیاسر سکوائر میں ایک عمارت پر آویزاں امریکہ مخالف بل بورڈ کے سامنے سے گزر رہا ہے (اے ایف پی) 

ماہرین کے خیال میں جب تہران اور واشنگٹن مشرق وسطیٰ میں جنگ کی تیاری کر رہے ہیں تو ایسے میں امریکہ اور اسرائیل قریبی اتحادی ہونے کے باوجود مشترکہ دشمن ایران کا مقابلہ کرنے کے لیے مختلف اہداف کے تعاقب میں ہیں۔ 

ایران میں دسمبر میں شروع ہونے والی احتجاجی تحریک پر سخت ردعمل کی وجہ سے مسلمان ملک پر حملہ کرنے کی دھمکی دینے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اب تہران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کے خواہاں دکھائی دیتے ہیں۔

دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات عمان میں جمعے کو ہونے کی توقع ہے۔

دوسری طرف اسرائیل اسلامی ملک کے بارے میں غیر سمجھوتہ کرنے والا موقف اپنا رہا ہے اور ماہرین کے مطابق، وہاں کی مذہبی حکومتی قیادت کو ہٹانا چاہتا ہے۔  

جیو پولیٹیکل تجزیہ کار مائیکل ہورووٹز نے اے ایف پی کو بتایا، ’اسرائیل اور ٹرمپ ایک مشترکہ دشمن ہیں، لیکن ایران کے بارے میں دونوں کا بالکل ایک جیسا ایجنڈا نہیں ہے۔‘

اگر امریکہ ایران پر حملہ کرتا ہے تو تقریباً 2000 کلومیٹر دور واقع اسرائیل کسی بھی ایرانی جوابی کارروائی کے فرنٹ لائن پر ہو گا، جبکہ وزیراعظم بن یامین نتن یاہو بارہا کہہ چکے ہیں کہ اگر ایران نے حملہ کیا تو اسرائیل جواب دینے سے دریغ نہیں کرے گا۔

نتن یاہو نے گذشتہ مہہنے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ’اگر ایران نے اسرائیل پر حملہ کرنے کی سنگین غلطی کی تو ہم ایسی طاقت سے جواب دیں گے جو ایران نے کبھی نہیں دیکھی ہو گی۔‘

منگل کو نتن یاہو نے دورہ پر آئے ہوئے امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف سے کہا کہ اسلامی جمہوریہ پر ’بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔‘

ہورووٹز کا خیال ہے کہ ’اسرائیل ضرورت پڑنے پر اضافی حملوں کے آپشن کے علاوہ ایرانی حکومت کو ہمیشہ کے لیے کمزور کرنے اور حتیٰ کہ گرانے پر زور دے رہا ہے۔‘ 

انہوں نے کہا کہ نتن یاہو کا سب سے بڑا مقصد بالکل واضح ہے: حکومت کی تبدیلی یا کم از کم جوہری اور میزائل صلاحیتوں کو مکمل طور پر ختم کرنا۔

’دوسری طرف ٹرمپ اپنے طور پر ایک لمبی جنگ کا خطرہ مول نہیں لینا چاہتے۔‘

ہورووٹز کا کہنا تھا کہ ’اسرائیل اور امریکی انتظامیہ کے درمیان یہ حکمت عملی کے اختلافات اسرائیل میں کشیدگی اور مخصوص غیر یقینی صورت حال پیدا کرتی ہے، جہاں رائے عامہ ایران کے خلاف ممکنہ اسرائیلی حملے پر منقسم دکھائی دیتی ہے۔‘

اسرائیل ڈیموکریسی انسٹی ٹیوٹ کی طرف سے منگل کو شائع ہونے والے ایک رائے عامہ کے سروے کے مطابق، 50 فیصد اسرائیلی صرف جوابی کارروائی کے طور پر ایران کے خلاف اسرائیل کے حملے کی حمایت کریں گے جبکہ 44 فیصد امریکہ کے ساتھ مل کر فوجی کارروائی کے حامی ہیں۔

انٹرنیشنل کرائسز گروپ کے ایک ماہر میراو زونزین نے نتن یاہو اور ٹرمپ کے لیے اپنے اپنے ملکوں میں مختلف سیاسی مراعات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کے پاس ’ایران کے ساتھ طویل جنگ میں جانے سے مقامی طور پر بہت کم فائدہ ہے‘ جبکہ ’نتن یاہو نے اپنا کیریئر ایرانی جوہری پروگرام کے خطرے اور عام طور پر ایران کو لاحق خطرے پر بنایا ہے۔‘

پرانی دشمنی 

1979 میں اسلامی جمہوریہ ایران کے قیام سے دونوں ملک ایک دوسرے کے شدید مخالف ہیں اور تہران اسرائیل کے وجود کے حق کو تسلیم نہیں کرتا۔ دونوں ملکوں نے گذشتہ سال 12 روزہ جنگ لڑی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ تنازع ایرانی فوجی اور جوہری تنصیبات کے علاوہ رہائشی علاقوں کے خلاف اسرائیلی حملے سے شروع ہوا تھا۔

ٹرمپ کی طرف سے شروع کی گئی جنگ بندی کے نافذ ہونے سے پہلے امریکہ تین ایرانی جوہری مقامات پر حملہ کر کے جھڑپوں میں شامل ہوا تھا۔

ان جھڑپوں کے نتیجے میں اسرائیل میں 30 افراد جان سے گئے تھے اور کافی نقصان ہوا تھا، خصوصاً ایک ہسپتال اور عوامی اداروں کو، جن میں کچھ فوجی اڈے بھی شامل تھے۔

اپریل 2024 میں غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے دوران ایران، جو فلسطینی تنظیم حماس کا  اتحادی ہے، نے اسرائیل کے خلاف ایک غیر معمولی ڈرون اور میزائل حملہ شروع کیا تھا۔

یہ ایران کے دمشق قونصل خانے پر ایک مہلک حملے کا بدلہ تھا جو کچھ دن پہلے ہوا تھا اور اس کا الزام اسرائیل پر عائد کیا گیا تھا۔

مہینوں بعد یکم اکتوبر کو ایران نے حماس اور حزب اللہ کے رہنماؤں کے قتل کے جواب میں اسرائیل پر 200 میزائل داغے تھے۔

 فالٹ لائنز 

اسرائیلی ریزرو جنرل ایتان بین الیاہو کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات ایک معاہدے پر ختم ہو سکتے ہیں، لیکن صرف بعض شرائط کے ساتھ، جن میں ایران کے فوجی جوہری پروگرام اور بیلسٹک میزائلوں کی تیاری کے خاتمے کے علاوہ ’تہران کے اسرائیل کے وجود کے حق کو تسلیم کرنا‘ شامل ہوں گے۔

ایرانی نژاد سابق ایئر فورس کمانڈر نے منگل کو اسرائیلی نیوز ویب سائٹ وائی نیٹ کو بتایا کہ’ایران ایک عوامی بیان جاری کرے گا جس میں اسرائیل کو تباہ کرنے کے اپنے ارادے کو ترک کرنے کا اعلان کیا جائے گا اور یہ اعلان کیا جائے گا کہ ایران اسرائیل پر حملہ نہیں کرے گا اور بدلے میں امریکہ اور اسرائیل اس پر حملہ نہیں کریں گے۔‘

زونزین کا خیال ہے کہ یہ حالات ’حقیقت پسند نہیں‘ ہیں۔

انہوں نے سابق امریکی صدر براک اوباما کے دور میں طے پانے والے جوہری معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’سرکاری پوزیشن یہ ہے کہ اسرائیل بہت اچھے معاہدے سے خوش ہوتا، لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ اسرائیل JCPOA کے خلاف تھا۔

’بنیادی تقسیم یہ ہے کہ اسرائیل نے ہمیشہ ایران سے نمٹنے کے لیے فوجی اور حرکیاتی کارروائی کی حمایت کی ہے اور ٹرمپ انتظامیہ سفارت کاری کو ترجیح دیتی ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا