انڈین حکام کے مطابق مبینہ پاکستانی ڈرونز نے اتوار کو انڈین فضائی حدود کی خلاف ورزی کی جو گذشتہ سال مئی میں ہونے والی چار روزہ جھڑپ کے بعد سے اب تک سرحد پر پیش آنے والا سب سے بڑا واقعہ ہے۔
دونوں حریفوں کے درمیان مئی میں ہونے والی جھڑپ نے پورے جنوبی ایشیا کو جوہری جنگ کے دہانے پر پہنچا دیا تھا۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انڈین حکام نے ٹائمز آف انڈیا کو بتایا کہ ’سکیورٹی فورسز نے (اتوار کو) شام 6 بجے کے بعد اَن مینڈ ایرئل وہیکلز(ڈرونز) کی نقل و حرکت کا جموں و کشمیر کے شورش زدہ شمالی خطے کے سانبا، راجوڑی اور پونچھ اضلاع میں متعدد مقامات پر سراغ لگایا۔
ان کے مطابق یہ ڈرون چند منٹ انڈین فضائی حدود میں منڈلاتے رہے اور پھر واپس لوٹ گئے۔
اخبار کے مطابق راجوڑی کے نوشہرہ سیکٹر میں فوج نے ڈرونز کو بھگانے کی غرض سے درمیانی اور ہلکی مشین گنوں سے فائرنگ بھی کی۔
مبینہ ڈرون دراندازی گذشتہ برس ہونے والی لڑائی کے بعد سے سرحد پر پیش آنے والا سب سے سنگین واقعہ ہے جو لگ بھگ آٹھ ماہ کی نسبتاً خاموشی کے بعد کشیدگی میں دوبارہ اضافے کا اشارہ ہوسکتی ہے۔
مئی کا تنازع، جس میں بھاری میزائل و ڈرون حملے اور شدید گولہ باری شامل تھی، دونوں جانب سینکڑوں افراد کی اموات کا باعث بنا اور جوہری ہتھیاروں سے لیس دونوں پڑوسیوں کو مکمل جنگ کے قریب لے آیا۔
لڑائی اس وقت شروع ہوئی جب انڈیا نے پہلگام حملے کے بعد (پاکستان پر بغیر ثبوت کے اس کا الزام لگاتے ہوئے) سرحد پار فضائی حملے کیے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انڈیا کے زیر انتطام کشمیرکے پہلگام علاقے میں ہونے والے حملے میں تقریباً دو درجن افراد مارے گئے تھے، جن میں زیادہ تر ہندو سیاح تھے۔
بعد ازاں امریکی سفارتی کوششوں کے بعد دونوں افواج نے جنگ بندی کا اعلان کیا اور غلط معلومات اور پراپیگنڈے کے ماحول میں دونوں ممالک نے فتح کے دعوے کیے۔
اتوار کو ڈرون کی موجودگی نے سرحد پر دوبارہ جھڑپوں کے خدشات بڑھا دیے ہیں، خصوصاً اس وقت جب متاثرہ علاقوں کے کچھ دیہات میں رہائشیوں نے ’شدید فائرنگ‘ کی آوازیں سننے کی اطلاعات بھی دی ہیں۔
راجوڑی کے ایک شہری نے خبر رساں ادارے اے این آئی کو بتایا: ’ہم نہیں جانتے کہ ڈرون کو مار گرایا گیا یا نہیں، لیکن فائرنگ شدید تھی۔‘
ابھی تک نہ انڈیا اور نہ ہی پاکستان کی جانب سے اس بارے میں کوئی سرکاری بیان جاری کیا گیا ہے۔
یہ واقعات اس وقت سامنے آئے ہیں جب انڈین فورسز نے جمعے کو دعویٰ کیا تھا کہ انہیں سانبا میں مبینہ طور پر پاکستان سے ڈرون کے ذریعے گرایا گیا اسلحہ ملا ہے۔ حکام کے مطابق برآمد ہونے والے اسلحے میں دو پستول، تین میگزین، 16 گولیاں اور ایک دستی بم شامل تھا۔
(انڈپینڈنٹ اردو نے اس بارے میں تبصرے کے لیے پاکستان کے دفتر خارجہ سے رابطہ کیا ہے۔)
© The Independent