پائلٹ نے بیجنگ کی 108 منزلہ عمارت سے جہاز کیوں ٹکرایا؟

سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ لیو کے پاس مستقل ملازمت نہیں تھی، وہ طلاق یافتہ تھا اور اکیلا رہتا تھا۔

26 جون، 2026 کو بیجنگ کے سی آئی ٹی آئی سی ٹاور سے طیارہ ٹکرانے کے بعد عمارت کے ایک جانب بننے والا سوراخ دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)

بیجنگ کی بلند ترین عمارت سے گذشتہ ہفتے ایک چھوٹا طیارہ ٹکرانے والے پائلٹ نے اپنی ڈائری میں ’اپنی زندگی ختم کرنے‘ کا ذکر کیا تھا، چینی حکام نے بتایا ہے۔

حکام کی تحقیقات کے مطابق گزشتہ جمعے پیش آنے والے اس حادثے کی وجہ ’ذاتی وجوہات‘ تھیں۔ یہ بات بیجنگ کے ضلع چاؤیانگ کی حکومت نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں کہی۔

حادثے میں 66 سالہ پائلٹ جان سے گئے جب کہ 13 افراد زخمی ہوئے۔ حکومتی بیان کے مطابق زخمیوں میں سے کسی کی حالت تشویشناک نہیں اور ایک شخص کو ہسپتال سے ڈس چارج بھی کر دیا گیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ حادثہ شام تقریباً 6 بجے اس وقت پیش آیا جب شہر کے مرکزی کاروباری علاقے میں لوگ دفاتر سے واپس جا رہے تھے۔ واقعے کے بعد 108 منزلہ سی آئی ٹی آئی سی ٹاور کی شیشے کی بیرونی دیوار میں سوراخ ہو گیا۔ اس عمارت کو ’زُن بلڈنگ‘ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس کا ڈیزائن قدیم چینی شراب کے برتن ’زُن‘ سے مشابہت رکھتا ہے۔

بیان کے مطابق پائلٹ، جس کی شناخت صرف خاندانی نام ’لیو‘ سے کی گئی، نے پہلے دو نشستوں والے تربیتی طیارے میں ایک اور شخص کے ساتھ پرواز کی۔ بعد ازاں اس نے بیجنگ کے مضافات میں واقع ایک جنرل ایوی ایشن ہوائی اڈے سے اکیلے پرواز کی۔

حکام کے مطابق اس نے طے شدہ فضائی راستے سے انحراف کیا اور اس کے بعد اس سے رابطہ منقطع ہو گیا۔

سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ لیو کے پاس مستقل ملازمت نہیں تھی، وہ طلاق یافتہ تھا اور اکیلا رہتا تھا۔ وہ بے خوابی اور ذہنی اضطراب کا شکار تھا، جبکہ اس کی ڈائری میں متعدد مقامات پر اپنی زندگی ختم کرنے کے حوالے سے تحریریں موجود تھیں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا