شامی وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان، باہمی تعلقات پر گفتگو متوقع

پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق دورے کے دوران دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا اور مختلف شعبوں میں تعاون مزید بڑھانے کے امکانات پر تبادلہ خیال ہو گا۔

شام کے وزیر خارجہ و تارکین وطن اسعد حسن الشیبانی چھ جولائی، 2026 کو دمشق کے ہوائی اڈے پر موجود ہیں (اے ایف پی)

شام کے وزیر خارجہ و تارکین وطن اسعد حسن الشیبانی دو دوزہ سرکاری دورے پر آج (بدھ کو) اسلام آباد پہنچ رہے ہیں جہاں وہ پاکستانی قیادت کے ساتھ دوطرفہ تعلقات پر بات چیت کریں گے۔

پاکستان کی وزارت خارجہ نے ایک بیان مں بتایا کہ الشیبانی نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی دعوت پر اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ رہے ہیں۔

بیان کے مطابق دورے کے دوران پاکستان اور شام کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا اور مختلف شعبوں میں تعاون مزید بڑھانے کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوگا۔

دونوں ممالک علاقائی اور عالمی سطح پر ہونے والی پیش رفت پر بھی اپنے مؤقف کا تبادلہ کریں گے۔

دمشق کے ایک سفارتی ذرائع نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ اسعد الشیبانی پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کے علاوہ وزیر دفاع اور وزیر تجارت سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔

رپورٹ کے مطابق 2024 میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد یہ کسی شامی وزیر خارجہ کا پاکستان کا پہلا دورہ ہے۔ تاہم اس عرصے کے دوران شام کے دیگر وزرا پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اے ایف پی کی رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ دونوں ممالک کے درمیان اس وقت کوئی باقاعدہ تعاون موجود نہیں۔

تاہم دورے کے دوران دفاع، اقتصادی تعاون اور مفاہمت سمیت متعدد امور پر بات چیت متوقع ہے۔

ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ دورہ پاکستان اور شام کے درمیان دوطرفہ تعاون کے لیے ’تاریخی‘ ثابت ہوگا۔

پاکستان اور شام کے تعلقات

بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے سے قبل پاکستان اور شام کے درمیان قریبی تعلقات رہے ہیں، جنہیں دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح کے باہمی دوروں، سیاسی اور عسکری تعاون اور تربیتی تبادلوں سے تقویت ملتی رہی۔

اے ایف پی کے مطابق2011  میں شام میں خانہ جنگی شروع ہونے کے بعد پاکستان نے غیر ملکی فوجی مداخلت اور طاقت کے ذریعے بشار الاسد کو اقتدار سے ہٹانے کی کوششوں کی مخالفت کی تھی اور شام کی وحدت اور خودمختاری کی حمایت کا اعادہ کیا تھا۔

اسلام آباد نے شام کے ساتھ سفارتی تعلقات برقرار رکھے اور دمشق میں پاکستانی سفارتخانہ بھی کھلا رہا۔ بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد بھی پاکستان نے شام میں اپنی سفارتی نمائندگی برقرار رکھی۔

پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق موجودہ دورہ دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور باہمی تعاون کو آگے بڑھانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان