پاکستان نے بدھ کو گوگل پر زور دیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر عسکریت پسندوں کے پروپیگنڈے اور نقصان دہ مواد کی فعال طور پر نگرانی کرے۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ عسکریت پسند گروہ ملک میں خوف پھیلانے کے لیے آن لائن پلیٹ فارمز استعمال کر رہے ہیں۔
پاکستان کو حالیہ برسوں میں عسکریت پسندی میں اضافے کا سامنا ہے، خصوصاً افغانستان سے متصل صوبے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں۔
حکام اس تشدد کے زیادہ تر واقعات کا ذمہ دار پاکستانی طالبان اور بلوچ علیحدگی پسند گروہوں کو قرار دیتے ہیں۔
وزارت داخلہ کے ایک بیان کے مطابق وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے گوگل کے سینیئر ڈائریکٹر ڈیوڈ ویلر کی سربراہی میں وفد سے ملاقات کے دوران کہا ’دہشت گرد دہشت گردی کو فروغ دینے اور خوف پھیلانے کے لیے سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا ’پاکستان کے حالات کے پیش نظر سوشل میڈیا کی فعال نگرانی ناگزیر ہے۔‘
وزارت کے مطابق ملاقات میں ڈیجیٹل سکیورٹی، انسداد دہشت گردی کے لیے سوشل میڈیا کے مؤثر استعمال، نقصان دہ آن لائن مواد کی بروقت روک تھام اور پاکستان اور گوگل کے درمیان مزید تعاون پر توجہ مرکوز کی گئی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
طلال چوہدری نے کہا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو پاکستان کے مخصوص حالات کو مدنظر رکھنے کی ضرورت ہے اور نشاندہی کی کہ ملک کا جغرافیائی محلِ وقوع دیگر ممالک سے مختلف ہے۔
انہوں نے کہا ’پاکستان ایک محفوظ اور پرامن ڈیجیٹل ماحول کے لیے گوگل کے ساتھ تعاون اور رابطہ کاری کو مزید بڑھانا چاہتا ہے۔‘
وزارت کے مطابق ڈیوڈ ویلر نے کہا کہ گوگل پاکستان میں محفوظ ڈیجیٹل ماحول کے فروغ کے لیے حکومت کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔
یہ ملاقات گوگل کی جانب سے پاکستان میں اپنا پہلا مقامی دفتر کھولنے کے ایک روز بعد ہوئی۔
اس اقدام کے ذریعے گوگل نے پاکستان میں اپنی عملی موجودگی کو وسعت دی ہے جبکہ اسلام آباد ڈیجیٹل تبدیلی کے عمل کو تیز کرنے اور سالانہ انفارمیشن ٹیکنالوجی برآمدات کو 30 ارب ڈالر تک بڑھانے کی کوشش کررہا ہے۔