مصنوعی ذہانت ایک ارب لوگوں کی موت کا سبب بن سکتی ہے: بل گیٹس

بل گیٹس نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کو ہنگامی طور پر بند کرنے کا طریقہ کار ’کِل سوئچ‘ ناکافی ہے۔

بل گیٹس 21 جنوری، 2026 کو ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم کے ایک سیشن میں گفتگو کر رہے ہیں (اے ایف پی)

مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کو ہنگامی طور پر بند کرنے کا طریقہ کار ’کِل سوئچ‘ ناکافی ہے اور یہ ٹیکنالوجی اتنی طاقت ور ہے کہ ایک ارب افراد کی موت کا سبب بن سکتی ہے۔

ارب پتی مخیر گیٹس کہتے ہیں کہ ہنگامی طور پر بند کرنے کے آلات کے مقابلے میں اندرونی نگرانی اور مصنوعی ذہانت میں پہلے سے شامل حفاظتی نظام کہیں زیادہ اہم ہیں۔

گیٹس نے اتوار کو این بی سی کے پروگرام ’میٹ دی پریس‘ میں کہا ’صرف کِل سوئچ کا ہونا کافی نہیں۔ میں کبھی یہ نہیں کہنا چاہوں گا کہ میں کِل سوئچ کے خلاف ہوں۔

’لیکن جب آپ نقصان دہ رویے کو قابو میں رکھنے کی کوشش کر رہے ہوں تو آپ کو یہ جاننے اور ریکارڈ رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے کہ کیا کچھ کیا جا رہا ہے۔‘

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

انہوں نے خاص طور پر مصنوعی ذہانت کے ذریعے ہونے والی دہشت گردی کے خطرے کی طرف اشارہ کیا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ ’مصنوعی ذہانت یقیناً اتنی طاقت ور ہے کہ ایسے واقعات کا باعث بن سکتی ہے جن میں ایک ارب افراد مارے جائیں۔

’اگرچہ پوری انسانیت کے 100 فیصد حصے کو نشانہ بنانا خاصا مشکل ہے لیکن اس سے پہلے کبھی ایسا ہتھیار نہیں رہا جو بدنیتی رکھنے والے افراد اور جدید ترین مصنوعی ذہانت کے آلات کے امتزاج جتنا طاقت ور ہو۔‘

گیٹس نے ان خدشات کو مسترد کیا کہ مصنوعی ذہانت کے حوالے سے حفاظتی قواعد امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی رفتار سست کر دیں گے۔

انہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس مؤقف کا براہِ راست جواب دیا کہ حکومتی ضابطے چین کے ساتھ مسابقت میں امریکی جدت کو نقصان پہنچائیں گے۔

گیٹس نے ٹرمپ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ’انہوں نے جو کہا وہ ٹھیک ہے۔ لیکن میرے خیال میں جب وہ میری اور دیگر لوگوں کی بات سنیں گے، جن میں یہ بات بھی شامل ہے کہ اس سے اس دوڑ میں ہماری صلاحیت متاثر نہیں ہوگی جسے وہ قومی ریاستوں کے درمیان مسابقت سمجھتے ہیں، تو ہم کسی اتفاق رائے تک پہنچ جائیں گے۔‘

گیٹس نے واشنگٹن پر زور دیا کہ وہ مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کے رویے کی لیبارٹریوں کے اندر فعال نگرانی لازمی قرار دے۔

انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے ضابطے بنانا سرد جنگ کے دوران جوہری معاہدوں پر مذاکرات سے بھی زیادہ مشکل ثابت ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا ’یہ اس سے بھی زیادہ مشکل ہے۔‘

گیٹس نے کہا کہ سب سے بڑا فوری خطرہ خودمختار اور قابو سے باہر مشینوں کی بجائے ایسے عناصر سے ہے جو موجودہ مصنوعی ذہانت کے آلات کو سائبر حملوں، بینک اکاؤنٹس میں افراتفری پیدا کرنے یا بجلی کے نظام کو بند کرنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔

گیٹس نے کہا ’اب مصنوعی ذہانت کی مدد سے چھوٹے گروہ وہ کچھ کر سکتے ہیں جو پہلے صرف بڑی سے بڑی ریاستیں کر سکتی تھیں۔

’اس لیے بدنیتی اور مصنوعی ذہانت کا امتزاج ہی ایک بڑے خطرے کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔

’اگر حکومتیں مختلف حفاظتی اقدامات پر زور نہیں دیں گی تو ہمیں بہت سے بڑے اور منفی نتائج دیکھنے کو ملیں گے کیونکہ ہم مناسب حفاظتی انتظامات نہیں کر رہے۔‘

ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت کی ترقی میں وفاقی حکومت کی مداخلت کی مخالفت کی ہے۔ انہوں نے رواں ماہ کے آغاز میں ٹروتھ سوشل پر لکھا ’جو کوئی مصنوعی ذہانت جیتے گا، وہ جیتے گا! ہم چین اور باقی سب سے آگے ہیں اور ایسا کرتے رہیں گے۔‘

گیٹس نے زور دیا کہ امریکہ کے پاس عالمی سطح پر حفاظتی معیارات پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی ایک تاریخ موجود ہے۔ انہوں نے ہوا بازی کی حفاظت، ماحولیاتی پالیسی اور جوہری ہتھیاروں سے متعلق ماضی کے بین الاقوامی معاہدوں کی مثال دی۔

انہوں نے کہا ’اور مصنوعی ذہانت بھی ایسا ہی معاملہ ہے جس میں ہمیں دوبارہ اس سوچ کی طرف لوٹنا ہوگا کہ انسانیت اس معاملے میں سب ایک ساتھ ہے۔‘

گیٹس کے یہ انتباہات ٹیکنالوجی کی صنعت اور خود مصنوعی ذہانت تیار کرنے والوں میں پائے جانے والے خدشات کی بازگشت ہیں۔

اینتھروپک کے وسل بلوئر جیکب کوکسون نے خبردار کیا تھا کہ ’مصنوعی ذہانت بنانے والے لوگ سنجیدگی سے سمجھتے ہیں کہ یہ اس دہائی کے اختتام تک ہم سب کو مار سکتی ہے۔‘

صنعت کے بڑے عہدے داروں نے، جن میں اینتھروپک کے چیف ایگزیکٹیو ڈاریو اموڈی اور اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹیو سیم آلٹمین شامل ہیں، بھی مصنوعی ذہانت کی ترقی کی رفتار کو منظم کرنے کی ضرورت کو تسلیم کیا ہے۔

اموڈی نے حالیہ بلاگ پوسٹ میں لکھا کہ بڑی کمپنیوں کو چین پر مسابقتی برتری برقرار رکھتے ہوئے بین الاقوامی سطح پر حفاظتی معیارات کے حوالے سے باہمی تعاون کرنا چاہیے۔

قانون سازوں نے بھی بیرونی طاقتوں کے ساتھ مشترکہ قواعد بنانے پر زور دیا ہے۔ کیلی فورنیا سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ رکن کانگریس رو کھنہ نے این بی سی کو بتایا کہ واشنگٹن اور بیجنگ کو مصنوعی ذہانت کے خطرات کے جائزے کے لیے مشترکہ تکنیکی ورکنگ گروپ قائم کرنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ خود کو بہتر بنانے والے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز پر پابندی ’متنازع معاملہ نہیں ہونا چاہیے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کھنہ نے کہا ’میرا ماننا ہے کہ امریکہ ایسے معاہدے کی قیادت کر سکتا ہے جو قابلِ عمل اور قابلِ تصدیق دونوں ہو، جس کے تحت بار بار خود کو بہتر بنانے والی مصنوعی ذہانت پر پابندی ہو اور ان جدید ترین مصنوعی ذہانت کی تجربہ گاہوں کی کچھ نگرانی بھی کی جائے۔‘

رواں ہفتے ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ملاقات کے بعد وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی کہ دونوں ممالک نے مصنوعی ذہانت کے خطرات کا جائزہ لینے کے لیے باقاعدہ بات چیت کا سلسلہ قائم کیا ہے اور مزید مذاکرات بھی ہوں گے۔

این بی سی کو انٹرویو کے دوران گیٹس نے سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کے ساتھ اپنے ماضی کے تعلقات سے متعلق سوالات کا بھی جواب دیا۔

محکمہ انصاف کی غیر افشا دستاویزات منظر عام پر آنے کے بعد دونوں کے تعلقات ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔

گیٹس نے کہا ’جیفری سے ملاقات کے بعد انہوں نے مجھے بتایا تھا کہ وہ عالمی صحت کے لیے اربوں ڈالر جمع کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔

’میرا مطلب ہے کہ انہیں اس کے لیے کوئی معاوضہ نہیں ملنا تھا اور ان کا کوئی کردار بھی نہیں ہونا تھا، لیکن یہ مکمل طور پر بے نتیجہ ثابت ہوا۔

’اس لیے میرا ان کے ساتھ وقت گزارنا، جیسے بہت سے دوسرے لوگوں کا، کسی حد تک ان کی ساکھ بہتر بنانے کا باعث بنا۔ آپ جانتے ہیں، یہ انتہائی افسوس ناک ہے۔‘

© The Independent

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی