میری پرورش انٹرنیٹ نے کی ہے۔ اگرچہ میں یہ فیصلہ ان لوگوں پر چھوڑتا ہوں جو مجھے جانتے ہیں کہ آیا یہ ایک اچھی بات ہے یا نہیں، لیکن میں اس کا کم از کم شکر گزار ہوں جو اس نے مجھے علم کے ایک لامتناہی ذخیرے تک رسائی دی۔
ایک ایسی کمیونٹی دی جو مجھے شاید کبھی نہ ملتی اور بہت سی ایسی مہارتیں عطا کیں جو مجھے کہیں اور نہ سکھائی جاتیں۔
اسی لیے میں نے ہمیشہ اس خیال کے خلاف بغاوت کی کہ نوجوانوں سے انٹرنیٹ کو چھین لیا جائے۔
یہاں تک کہ جب یہ خیال زور پکڑنے لگا کہ سوشل میڈیا نوجوانوں کو نقصان پہنچا رہا ہے، تب بھی میں نے مکمل پابندی جیسے سخت اقدامات کو ایک قسم کی خوف زدہ ناکامی کے طور پر دیکھا۔
اصل کام انٹرنیٹ کو محفوظ بنانا ہونا چاہیے تھا، نہ کہ شکست تسلیم کر کے مکمل طور پر ہار مان لینا۔
لیکن گذشتہ چند سالوں میں یہ دیرینہ خیال اور نظریہ متزلزل ہو گیا ہے جس نے میرے پورے عالمی نقطہ نظر کو تشکیل دیا تھا۔
میرا نہیں خیال میں بدلا ہوں بلکہ انٹرنیٹ بدل گیا ہے اور اچانک نوجوانوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی یا کم از کم رسائی کو محدود کرنے کا خیال مجموعی طور پر زیادہ سمجھ دارانہ لگتا ہے۔
ایک وقت تھا جب سوشل میڈیا آج کے مقابلے میں چھوٹا بھی تھا اور بڑا بھی۔ آپ اپنی پسند کا گوشہ (niche) تلاش کر سکتے تھے اور انٹرنیٹ اسی کام میں سب سے بہتر تھا: آپ کی جس چیز میں بھی دلچسپی ہوتی، وہاں آپ کو قبول کرنے کے لیے ایک کمیونٹی اور معلومات کا ذخیرہ موجود ہوتا۔
ان میں سے تمام گوشے اچھے نہیں تھے، کچھ تو صریحاً نقصان دہ تھے لیکن وہ خطرہ ایسا نہیں تھا جس سے تھوڑی سی ہوشیاری اور عقل مندی آپ کو محفوظ نہ رکھ سکے۔
اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ انٹرنیٹ ان پرانے اچھے دنوں میں کسی بھی طرح سے مکمل محفوظ تھا۔
لیکن اس وقت ’سیف گارڈنگ‘ کا مطلب بنیادی طور پر لوگوں کو برے حصوں سے دور رکھنا تھا، بالکل ویسے ہی جیسے اجنبیوں سے بھری کسی بھی دوسری جگہ پر ہوتا ہے۔
جب تک آپ بچوں کو خطرات سے دور رکھتے اور یہ یقینی بناتے کہ انہیں پتہ ہو کہ خطرہ سامنے آنے پر کیا کرنا ہے، تو آن لائن دنیا میں خوشی کے بہت سے مواقع موجود تھے۔
تاہم، اب ویب ایک بہت تاریک جگہ بن چکی ہے اور یہ تبدیلی بنیادی ہے: انٹرنیٹ کی اپنی فطرت اس حد تک بدل گئی ہے کہ میرے خیال میں یہ ایک بالکل نئی قسم کے خطرے کی نمائندگی کرتا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
مصنوعی ذہانت کا عروج اور غلط معلومات اور کھلے جھوٹ کی وہ قسم جو اس کی وجہ سے اب انتہائی آسان ہو گئی ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اب آن لائن نظر آنے والی چیزوں پر بھروسہ نہیں کر سکتے۔
سوشل نیٹ ورکس کی وسعت اتنی بڑھ گئی ہے کہ آپ اب وہ مخصوص گوشے تلاش نہیں کر پاتے اور آپ کے سامنے مرکزی دھارے کی نقصان دہ آوازیں آنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔
اس کے ساتھ ہی سوشل نیٹ ورکس چلانے والوں کی طاقت بھی اتنی بڑھ گئی ہے کہ وہ نقصان دہ آوازیں اب سوشل میڈیا کا محض ایک حصہ نہیں رہیں بلکہ وہی لوگ بن گئے ہیں جو اسے چلا رہے ہیں۔
یہ سب انٹرنیٹ کا قصور نہیں۔ سمارٹ فونز اور ان پر موجود سوشل ایپس کی وسیع پیمانے پر دستیابی اس وقت سامنے آئی جب وہ صحت مند آف لائن تجربات ختم ہو گئے جو ان کا متبادل ہو سکتے تھے۔
آئی فون کی آمد اور یوتھ کلبوں کی تباہی افسوس ناک طور پر ایک ساتھ ہوئی اور ان دونوں کا اثر بھی ایک جیسا ہی ہوا۔
کسی بھی پابندی کو اس پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے نافذ کرنا چاہیے۔ ہم صرف چیزوں پر پابندی نہیں لگا سکتے بلکہ ہمیں متبادل بھی فراہم کرنے ہوں گے۔
وہ متبادل آن لائن بھی ہو سکتے ہیں، جیسے کہ صحت مند جگہیں جو تفرقہ اور اشتعال کی بجائے کمیونٹی اور دریافت پر مرکوز ہوں۔
لیکن وہ آف لائن بھی ہونے چاہییں جو کمپیوٹر اور فون سے دور رہنے کے لیے بہتر جگہیں فراہم کریں، جو سوشل میڈیا پر مکمل پابندی لگانے جیسے سستے اور آسان ردعمل کے مقابلے میں زیادہ مہنگا اور مشکل کام ہے۔
کیونکہ ویب تو صرف آدھا مسئلہ ہے۔ ہمیں ایک ایسی حقیقی دنیا بنانے کی ضرورت ہے جو زیادہ محفوظ ہو اور وقت تیزی سے نکل رہا ہے۔
© The Independent