’کیچ می اِف یو کین‘: امریکہ میں ’جعلی‘ پائلٹ نے بار بار کیسے مفت سفر کیا؟

عدالتی دستاویزات کے مطابق ڈیلس پوکورنک نامی شخص نے جعلی شناخت استعمال کرتے ہوئے چار سال کے دوران تین ایئر لائنز سے وہ ٹکٹ حاصل کیے جو پائلٹس اور فلائٹ اٹینڈنٹس کے لیے مخصوص ہوتے ہیں۔ 

18 نومبر 2025 کو امریکی فضائی کمپنی کا ایک طیارہ نیویارک شہر میں واقع لاگارڈیا ایئرپورٹ پر کھڑا ہے (روئٹرز)

امریکہ کے وفاقی حکام نے کہا ہے کہ ایک سابق فلائٹ اٹینڈنٹ پر الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے خود کو پائلٹ اور فضائی کمپنی کا اہلکار ظاہر کر کے تین امریکی فضائی کمپنیوں کو بے وقوف بنایا اور چار سال کے عرصے میں ان سے مفت میں سینکڑوں ٹکٹ حاصل کیے۔

لیکن انہوں نے مبینہ طور پر یہ کام کیسے کیا اور ایئر لائنز کو اس کا پتا جلد کیوں نہ چل سکا؟ اس بات نے فضائی سفر کی صنعت کے لوگوں کو حیرت میں ڈال رکھا ہے۔

ٹورانٹو کے 33 سالہ ڈیلس پوکورنک کو گذشتہ اکتوبر ہوائی کی وفاقی عدالت میں وائر فراڈ کے الزامات عائد ہونے کے بعد پاناما میں گرفتار کیا گیا۔ امریکہ حوالگی کے بعد منگل کو انہوں نے صحت جرم سے انکار کر دیا۔ ان کے وفاقی سرکاری وکیل نے کیس پر بات کرنے سے گریز کیا۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق پوکورنک 2017 سے 2019 تک ٹورنٹو کی ایک ایئر لائن میں فلائٹ اٹینڈنٹ تھے۔ پھر انہوں نے اسی کمپنی میں ملازمت کی جعلی شناخت استعمال کرتے ہوئے تین دیگر ایئر لائنز سے وہ ٹکٹ حاصل کیے جو پائلٹس اور فلائٹ اٹینڈنٹس کے لیے مخصوص ہوتے ہیں۔ 

عدالتی دستاویزات میں اس بات کی کوئی وضاحت نہیں کہ پرواز اور ایئرپورٹ سکیورٹی پر مرکوز انڈسٹری میں فضائی کمپنیوں نے ان کاغذات کے جعلی ہونے کو کیوں نہیں پہچانا۔

فرد جرم میں کسی بھی ایئر لائن کو شناخت نہیں کیا گیا لیکن کہا گیا ہے کہ امریکی فضائی کمپنیوں کے ہیڈکوارٹرز ہونولولو، شکاگو اور فورٹ ورتھ، ٹیکسس میں ہیں۔ ہوائی کی ایئر لائنز کے ایک ترجمان نے بدھ کو کہا کہ کمپنی عدالتی معاملات پر تبصرہ نہیں کرتی۔ یونائیٹڈ ایئر لائنز اور امریکن ایئر لائنز کے نمائندوں نے ایسوسی ایٹڈ پریس کی ای میلز کا فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔

ٹورانٹو کی ایک کینیڈین فضائی کمپنی، پورٹر ایئر لائنز نے ای میل بیان میں کہا کہ وہ ’اس کہانی سے متعلق کسی بھی معلومات کی تصدیق کرنے سے قاصر ہے۔‘ ایئر کینیڈا، جس کا مرکز مونٹریال میں ہے لیکن ٹورانٹو میں بھی بڑا نیٹ ورک ہے، نے کہا کہ اس کے پاس پوکورنک کے وہاں کام کرنے کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔

الزامات نے ماہرین کو حیران کر دیا

سینٹ پیٹرزبرگ، فلوریڈا میں ایوی ایشن سیفٹی فرم چلانے والے ریٹائرڈ پائلٹ جان کاکس نے ان الزامات کو حیران کن قرار دیا، خاص طور پر اس جانچ پڑتال کو دیکھتے ہوئے جو ایئر لائنز کسی دوسرے عملے کے رکن کی ملازمت کی تصدیق کے لیے کر سکتی ہیں۔

ایئر لائنز عام طور پر یہ جانچنے کے لیے کہ آیا کوئی شخص واقعی ملازم ہے یا نہیں، تھرڈ پارٹی ویب سائٹس پر موجود فعال ایئر لائن ملازمین کے ڈیٹا بیس پر انحصار کرتی ہیں۔

کاکس نے بدھ کو فون پر انٹرویو دیتے ہوئے کہا ’میں صرف یہی سوچ سکتا ہوں کہ انہوں نے ڈیٹا بیس میں اسے ایئر لائن سے فارغ ہونے والے شخص کے طور پر ظاہر نہیں کیا۔ نتیجتاً جب گیٹ پر چیکنگ کی گئی تو وہ ایک درست ملازم کے طور پر ظاہر ہوئے۔‘

مسافر بردار ایئر لائنز عام طور پر اپنے یا دوسری ایئر لائنز کے عملے کے ارکان کو دستیاب ہونے پر ایسی مفت یا انتہائی کم قیمت ’سٹینڈ بائی‘ نشستیں پیش کرتی ہیں۔ یہ ایک ایسی سہولت ہے جس سے پوری انڈسٹری کا نظام بہتر چلتا ہے، کیوں کہ عملے کے ارکان کو وہاں پہنچایا جاتا ہے جہاں انہیں جانا ہوتا ہے۔

 ملازمین تفریحی سفر کے دوران اپنے قریبی اہل خانہ کے لیے بھی اس سہولت کا استعمال کر سکتے ہیں۔ بعض اوقات ملازمین کاک پٹ یا کیبن میں کندھے کی بیلٹ والی ’جمپ سیٹس‘ میں سے کسی ایک پر بیٹھ سکتے ہیں، لیکن وفاقی قوانین کاک پٹ کی جمپ سیٹس کو تفریحی سفر کے لیے استعمال کرنے سے منع کرتے ہیں۔

سکریننگ کیسے کام کرتی ہے؟

ایوی ایشن کنسلٹنگ فرم کے مالک اور ایئر لائن پائلٹ بروس راجر نے بتایا کہ عملے کے ارکان جنہیں کام کے لیے دوسرے شہر جانا ہوتا ہے، وہ اپنی تصویر والے ڈیٹا بیس سے منسلک ’نون کرو ممبر‘ کارڈ سکین کر کے ایئرپورٹ سکیورٹی سے گزرتے ہیں۔ وہ ملازمتی بیج اور سرکاری شناختی کارڈ بھی دکھاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تفریحی سفر کے لیے ’نون کرو ممبر‘ کے عمل کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

تفریحی سفر کے لیے عملے کے ارکان رعایتی سٹینڈ بائی ٹکٹ خرید سکتے ہیں یا جمپ سیٹ کی درخواست کر سکتے ہیں۔ سٹینڈ بائی ٹکٹ کے ساتھ عملے کا رکن عام ایئرپورٹ سکیورٹی سکریننگ کے ذریعے گیٹس تک پہنچتا ہے۔ یہ ممکن ہے کہ کسی کے پاس سٹینڈ بائی ٹکٹ ہو لیکن وہ جمپ سیٹ کی درخواست کرے، جس سے ملازم کو مفت سفر کرنے کی اجازت مل جاتی ہے۔

طیارے کے کپتان کو منظوری دینی ہوتی ہے کہ کاک پٹ کی جمپ سیٹس پر کون سفر کرے گا۔ اکثر یہ لائسنس یافتہ پائلٹ ہوتا ہے لیکن فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کے ضوابط سرکاری وجوہات کی بنا پر دیگر افراد کو بھی وہاں بیٹھنے کی اجازت دیتے ہیں، جیسے محکمہ دفاع کا جائزہ لینے والا، مشاہدہ کرنے والا ایئر ٹریفک کنٹرولر، عملے کا رکن یا مینوفیکچرر کا نمائندہ۔

2023 میں ہورائزن ایئر کی پرواز کے کاک پٹ میں سفر کرنے والے ایک آف ڈیوٹی ایئر لائن پائلٹ نے پرواز کے دوران انجن بند کرنے کی کوشش سے ٹھیک پہلے کہا تھا ’میں ٹھیک نہیں ہوں۔‘ اس پائلٹ جوزف ایمرسن نے بعد میں پولیس کو بتایا کہ وہ ڈپریشن کا شکار تھے۔ ایک وفاقی جج نے گذشتہ نومبر اس شخص کو اتنی قید کی سزا سنائی جتنی وہ کاٹ چکا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پوکورنک نے کاک پٹ میں سفر کرنے کی درخواست کی

امریکی استغاثہ نے منگل کو کہا کہ پوکورنک نے کاک پٹ کی جمپ سیٹ پر بیٹھنے کی درخواست کی، جو عام طور پر آف ڈیوٹی پائلٹس کے لیے مختص ہوتی ہے۔ عدالتی دستاویزات سے یہ واضح نہیں کہ آیا اس نے کبھی واقعی جہاز کے کاک پٹ میں سفر کیا، اور ہونولولو میں امریکی اٹارنی کے دفتر نے کچھ بھی بتانے سے انکار کر دیا۔

برسوں پہلے فرینک ایباگنیل کے مشہور کیس کے بعد ایئر لائن انڈسٹری نے ملازمین کو ملنے والے پرواز کے فوائد کے معیارات سخت کر دیے تھے۔ فرینک کی 1980 کی مبالغہ آمیز یادداشت ’کیچ می اف یو کین‘ میں دیگر دھوکہ دہیوں کے علاوہ مفت سفر کرنے کے لیے پائلٹ کا روپ دھارنے کا ذکر بھی تھا۔ اس کی کہانی کو مزید شہرت تب ملی جب 2002 میں سٹیون سپیل برگ نے اس پر فلم بنائی جس میں لیونارڈو ڈی کیپریو نے اداکاری کی۔

11 ستمبر 2001 کے دہشت گرد حملوں کے بعد ایئر لائنز اور ایف اے اے کی جانب سے جہاز پر سوار ہونے اور کاک پٹ کے اندر جانے والوں پر اضافی پابندیاں عائد کی گئیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ