وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے منگل کو بتایا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے طیارے ایئر فورس ون کے عملے نے سوئٹزرلینڈ کے لیے روانہ ہونے کے بعد پرواز میں ’ایک معمولی برقی مسئلہ‘ دریافت کیا، جس کے بعد انتہائی احتیاط کے طور پر طیارہ واپس واشنگٹن کا موڑنے کا فیصلہ کیا گیا۔
واپسی کے بعد صدر ٹرمپ ایک دوسرے طیارے میں سوار ہوں گے اور ورلڈ اکنامک فورم میں شرکت کے لیے ڈیووس کا اپنا سفر جاری رکھیں گے۔
ڈیووس روانگی سے قبل ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا: ’یہ ایک دلچسپ سفر ہوگا۔ مجھے نہیں معلوم کہ کیا ہونے والا ہے، لیکن آپ کی نمائندگی بھرپور انداز میں کی جا رہی ہے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو وائٹ ہاؤس میں ایک پریس بریفنگ کے دوران اپنی انتظامیہ کی کامیابیوں کی فہرست بیان کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ پر تنقید کی اور اس مؤقف کو دہرایا کہ امریکہ کو گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔
وہ اسی ہفتے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم میں عالمی اشرافیہ اور ارب پتی افراد سے خطاب کرنے والے ہیں۔
وہاں انہیں گرین لینڈ سے متعلق اپنے مؤقف اور حالیہ جوابی محصولات (ٹیرف) پر نیٹو اتحادیوں کی جانب سے بڑھتی ہوئی مخالفت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
وائٹ ہاؤس اس سے قبل کہہ چکا ہے کہ ڈیووس میں ٹرمپ کی تقریر کا محور رہائش کے اخراجات میں کمی سے متعلق ان کا ایجنڈا ہوگا۔
ایوانِ نمائندگان کی خارجہ امور کمیٹی کے اعلیٰ رپبلکن گرین لینڈ میں امریکی فوجی کارروائی کو خارج از امکان قرار نہیں دیتے۔
ایوانِ نمائندگان کی خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین، رکنِ کانگریس برائن ماسٹ نے کہا: ’میرا خیال ہے کہ نیٹو ایک اہم سٹریٹجک اتحادی ہے اور میں نہیں چاہتا کہ نیٹو کی کوئی قربانی دی جائے۔ یہ ہمارے اہم اتحادی ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ یہ اتحاد برقرار رہے۔‘