امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کا ایک نجی پیغام سوشل میڈیا پر شائع کرتے ہوئے فرانسیسی شراب اور شیمپین پر 200 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دی ہے، جس سے گرین لینڈ کے معاملے پر یورپی مؤقف اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
روئٹرز کے مطابق ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر میکرون کے ساتھ ہونے والی نجی گفتگو کا سکرین شاٹ شیئر کیا، جس میں فرانسیسی صدر نے لکھا تھا کہ ’مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ آپ گرین لینڈ کے معاملے پر کیا کر رہے ہیں‘ اور روس سمیت دیگر ممالک کو مدعو کرتے ہوئے جی سیون اجلاس کی میزبانی کی پیشکش کی تھی۔ میکرون نے پیغام میں ٹرمپ کو ’دوست‘ کہہ کر مخاطب کیا اور شام اور ایران سے متعلق معاملات پر تعاون کی خواہش بھی ظاہر کی تھی۔
اس سے قبل ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں میکرون کے ایک مبینہ مؤقف پر ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا ’کیا واقعی انہوں نے یہ کہا ہے؟ بہرحال، وہ بہت جلد عہدے سے باہر ہو جائیں گے، اس لیے کوئی انہیں سنجیدگی سے نہیں لیتا‘۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے دھمکی دی کہ وہ فرانسیسی شراب اور شیمپین پر 200 فیصد ٹیرف عائد کریں گے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اگر فرانس نے ان کی مجوزہ ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت اختیار نہ کی تو معاشی دباؤ بڑھایا جائے گا۔ فرانسیسی حکام اس بورڈ کو اقوام متحدہ کے کردار کے لیے نقصان دہ سمجھتے ہیں۔
یورپی ذرائع کے مطابق گرین لینڈ پر امریکی دباؤ کے خلاف سخت مؤقف اپنانے پر میکرون کو خاص طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
فرانس نے نہ صرف ڈنمارک کی حمایت میں گرین لینڈ میں فوجی دستے بھیجے بلکہ یورپی یونین سے مطالبہ کیا کہ امریکہ کے خلاف سخت تجارتی اقدامات کیے جائیں، جن میں اینٹی کوئرشن انسٹرومنٹ کے تحت جوابی پابندیاں اور ممکنہ ٹیرف بھی شامل ہیں۔
اسی تناظر میں یورپی یونین نے گرین لینڈ کے مسئلے پر ہنگامی سربراہی اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ یورپی رہنماؤں نے امریکی دھمکیوں کو ’تجارتی بلیک میلنگ‘ قرار دیا ہے۔