پشاور: کارخانوں مارکیٹ میں بعض ایرانی اشیا نایاب تو کچھ کی قیمتیں بڑھ گئیں

پشاور کی کارخانوں مارکیٹ کے دکان داروں کا کہنا ہے کہ گذشتہ اکتوبر میں پاکستان افغان سرحد بند ہونے سے پہلے ہی مارکیٹ میں ایرانی اشیا کی کمی تھی لیکن اب مزید قلت ہوجائے گی۔

پشاور کی کارخانوں مارکیٹ میں معمول کا دن ہے اور دکاندار رمضان کے باعث دکانوں میں بیٹھے گاہکوں کی تلاش میں ہیں۔

یہ کارخانوں مارکیٹ کی مشہور ستارہ مارکیٹ ہے جہاں ایرانی اشیا بیچی جاتی ہیں اور اسی مارکیٹ میں گاہکوں کا ہمیشہ رش موجود ہوتا ہے۔

اس مارکیٹ میں خوراک کی اشیا سے لے کر کاسمیٹکس، سرف، ڈش واشرز، ٹشو پیپرز، پیمپرز سمیت مختلف خوردنی تیل اور گارمنٹس دستیاب ہوتے ہیں۔

یہ سامان پہلے کنٹینرز میں ایران سے افغانستان اور وہاں سے پاکستان منتقل ہوتا تھا لیکن پاکستان افغان بارڈر کی بندش کی وجہ سے وہ سپلائی لائن گذشتہ کئی ماہ سے معطل ہے۔

تاہم اس مارکیٹ کے دکانداروں کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے سے یہ مسئلہ مزید سنگین ہو جائے گا کیونکہ پاکستان- افغانستان بارڈر کی بندش سے ایران بارڈر کا راستہ استعمال کیا جاتا تھا اور سامان پاکستان کی منڈیوں تک پہنچتا تھا۔

ایران کی فارس نیوز ایجنسی کے مطابق ایران نے اشیائے خوردونوش کی برآمدات تمام ممالک کے لیے بند کر دی ہیں۔

حبیب الرحمان پشاور کے کارخانوں مارکیٹ میں ایران کی مصنوعات کی خریدو فروخت کا کام کرتے ہیں اور ان کے مطابق ابھی جنگ کے کچھ دن ہی ہوئے ہیں لیکن بعض اشیا نایاب اور بعض کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’گذشتہ سال اکتوبر سے پاکستان افغان سرحد بندش سے پہلے ہی مارکیٹ میں اشیا کی کمی ہے لیکن اب مزید کمی پیدا ہو جائے گی۔‘

حبیب الرحمان کہتے ہیں کہ ’کھانے پینے کی اشیا میں سب سے زیادہ چاکلیٹس، ٹافیاں، جیم، تیل، کیک، بسکٹ، چیز، سمیت دیگر مختلف اشیا آتی ہیں اور یہاں لوگ اسے پسند بھی کرتے ہیں۔‘

اشیائے خورد و نوش کے علاوہ اس مارکیٹ میں کاسمیٹکس کی مختلف مصنوعات بھی سپلائی کی جاتی ہیں اور اس مارکیٹ سے پورے خیبر پختونخوا کو سپلائی ہوتی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تاہم دکان داروں کے مطابق ایرانی کاسمیٹکس سستی ہیں اور معیار میں بھی بہتر ہیں۔

محمد خالد گذشتہ کئی سال سے اسی مارکیٹ میں ایرانی کاسمیٹکس کے کاروبار سے وابستہ ہیں اور ان کے مطابق اگر حالات مزید کچھ دن ایسے رہے اور ایران سے سامان کی ترسیل متاثر ہوئی تو ایرانی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ممکن ہے۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ابھی سے مارکیٹ پر اثر پڑنا شروع ہوگیا اور بعض مصنوعات کی قیمتیں مارکیٹ میں پہلے ہی بڑھ گئیں جس میں بعض شیمپو، کریم اور لوشن شامل ہیں۔

پاکستان کے وزارت کامرس کے 2023 کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان ایران کے درمیان دو طرفہ تجارت کا حجم 2.3 ارب روپے سے زیادہ ہے۔

اس میں اعدادوشمار کے مطابق درآمدات کا حجم 1.4 ارب سے زیادہ جب کہ برآمدات کا حجم تقریباً ایک ارب روپے ہے۔

ایران سے ہونے والی درآمدات میں سب سے زیادہ خوردنی تیل، ڈیری مصنوعات، پھل، آئرن و اسٹیل، ایڈیبل سبزیاں اور کارپٹ شامل ہیں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت