نٹ ویئر برآمدات میں تاریخی اضافے کا راز کیا ہے؟

گذشتہ مالی سال میں کرونا وبا کے باوجود نٹ ویئر کی برآمدات تقریباً 36 فیصد اضافے کے ساتھ ڈھائی ارب ڈالر سے بڑھ کر چار ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھیں۔

پاکستان کی مجموعی برآمدات میں سب سے بڑا حصہ ٹیکسٹائلز کا ہے جو حکومتی اعدادوشمار کے مطابق 60 فیصد سے زائد ہے۔ اس میں سے نٹ ویئر یا ہوزری سیکٹر 25 فیصد حصے کے ساتھ سرفہرست ہے، جس میں گذشتہ دو سالوں سے 35 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے مطابق یہ ٹیکسٹائلز میں شامل دیگر 13 سیکٹرز میں سے سب سے زیادہ اضافہ ہے۔

حکومتی اعدادوشمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں نٹ ویئر کی برآمدات 35.21 فیصد اضافے کے ساتھ 1.849 ارب ڈالر سے بڑھ کر ڈھائی ارب ڈالر ہو گئی ہیں۔ اسی طرح ریڈی میڈ ملبوسات کی برآمدات میں 22.93 فیصد، بیڈ ویئر میں 19 فیصد اور کاٹن کلاتھ کی برآمداد میں 21.35 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ مالی سال 21-2020 میں کرونا وائرس کی وبا کے باوجود نٹ ویئر کی برآمدات تقریباً 36 فیصد اضافے کے ساتھ ڈھائی ارب ڈالر سے بڑھ کر چار ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھیں۔

زرمبادلہ کی یہ رقم ریڈی میڈ گارمنٹس کی برآمدات سے 25.83 فیصد، بیڈویئر کی برآمدات سے 37.68 فیصد اور ٹاول کی برآمداد سے307 فیصد زیادہ تھی۔

اس طرح انفرادی طور پر ہوزری انڈسٹری کو  ملک کے لیے سب سے زیادہ زرمبادلہ کمانے اور 10 لاکھ سے زائد افراد کو ملازمتیں فراہم کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔

پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نارتھ زون کے چیئرمین میاں کاشف ضیا کے مطابق اگر نیٹڈ بیڈ شیٹس اور نیٹڈ فیبرک کی برآمدات کو بھی شامل کر لیا جائے تو نٹ ویئر سیکٹر کی برآمدات کا حجم ساڑھے چار ارب ڈالر سے زیادہ بنتا ہے جو کہ ٹیکسٹائل گروپ کی مجموعی برآمداد کا 29 فیصد اور مجموعی برآمدات کا 18 فیصد بنتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا کہنا تھا کہ جب کرونا وبا کی وجہ سے پوری دنیا کی صنعتیں بند تھیں تو وزیراعظم عمران خان نے پوری دنیا میں سب سے پہلے قدم اٹھایا اور صنعت کو بروقت کھول دیا جس سے نٹ ویئر سیکٹر کو اپنی برآمدات بڑھانے کا موقع ملا۔

انہوں نے کہا: ’میں وزیراعظم عمران خان اور تحریک انصاف کی حکومت کی تعریف کروں گا۔ یہ واحد سیاسی جماعت ہے جس نے اس خاص سیکٹر پر توجہ دی ہے اور ہر گزرتے ہوئے دن کے ساتھ ہماری برآمدات بڑھ رہی ہیں۔‘

انہوں نے بتایا: ’اس وقت بھارت بند تھا، بنگلہ دیش بند تھا۔ عالمی گاہکوں کی اس وقت طلب بہت زیادہ تھی کہ انہیں سپلائی ملے اور عمران خان نے جو بروقت فیصلہ لیا اور ہماری صنعتیں چلائیں، اس کی وجہ  سے عالمی گاہک کا پاکستان پر اعتماد قائم ہوا۔‘

کاشف ضیا کے مطابق ٹیکسٹائل سیکٹرز میں عالمی گاہکوں کا اگر ایک دفعہ کسی ملک کی صنعت پر اعتماد بن جائے تو پھر آرڈرز جاری رہتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ نومبر میں اس سیکٹر کی 1.74 ارب ڈالر اور دسمبر میں  1.64 ارب ڈالر کی ریکارڈ برآمدات ہوئی ہیں۔ ’امریکہ کی مارکیٹ میں پاکستان کی برآمدات 69 فیصد بڑھی ہے اور اگر یورپی یونین کی بات کی جائے تو 27 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اب بھی پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کے پاس آرڈرز کی بھرمار ہے اور اسی وجہ سے  بھارت اور بنگلہ دیش کی برآمدات پاکستان کی نسبت کم شرح سے بڑھی ہیں۔

’حکومت کی طرف سے 72 گھنٹوں میں سیلز ٹیکس ریفنڈز کی ادائیگی، بجلی اور گیس کی قیمتوں پر ایکسپورٹرز کو ریلیف اور بروقت انڈسٹری کو کھولنا ایسے اقدامات ہیں جس سے برآمدات بڑھانے میں مدد ملی ہے۔‘

کاشف ضیا کے مطابق: ’بنگلہ دیش نے رواں مالی سال کے لیے 80 ارب ڈالر کی ٹیکسٹائل برآمدات کا ہدف طے کیا ہے جو پاکستان کے 21ارب ڈالر کے ہدف سے بہت زیادہ ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ رواں مالی سال کے لیے جو 21ارب ڈالر کی ٹیکسٹائل برآمداد کا ہدف دیا گیا ہے وہ جون تک پورا ہوتا نظر آ رہا ہے جبکہ اس سے اگلے مالی سال کے لیے 30ارب ڈالر کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا: ’اگر پاکستان نے بھی اپنی ٹیکسٹائل برآمدات کو بنگلہ دیش کی طرح 80 ارب ڈالر پر لے کر جانا ہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ ٹیکسٹائل پالیسی کو جلد سے جلد نافذ کیا جائے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک بجلی اور گیس کی قیمتوں میں ایکسپورٹرز کو ریلیف دیا جا رہا ہے لیکن ڈی ایل ٹی ایل ایک بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ ان کے بقول: ’یہ ہمارا ہی دیا ہوا ٹیکس کا پیسہ ہے جو حکومت نے واپس کرنا ہوتا ہے۔ اس کی ادائیگی سست روی کی شکار ہے جس کی وجہ سے ایکسپورٹرز کو سرمائے کی قلت کا سامنا ہے۔‘

کاشف ضیا کے مطابق افراط زر، خام مال کی قیمتوں میں اضافے اور کارگو کے اخراجات  بڑھنے سے ایکسپورٹ کرنے والوں کو مالی دباؤ کا سامنا ہے۔

ان کے مطابق: ’پہلے جو کارگو دو ہزار ڈالر میں جاتا تھا اس کا ریٹ اب پانچ سے چھ ہزار ڈالر ہو گیا ہے جبکہ امریکہ کی مارکیٹ کے لیے کارگو چارجز 11 ہزار ڈالر فی کنٹینر تک بڑھ گئے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس مالی دباؤ کی وجہ سے ہی ایکسپورٹرز حکومت سے کہہ رہے ہیں کہ سیلز ٹیکس اور ڈی ایل ٹی ایل ودیگر ٹیکسز کے ریفنڈز کی ادائیگی بہتر بنائی جائے تاکہ ایکسپورٹس میں اضافے کا سلسلہ برقرار رکھا جاسکے۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت