سائنس دانوں نے ایک نئی تحقیق میں خبردار کیا ہے کہ جم میں ورزش سے پہلے استعمال کیے جانے والے سپلیمنٹس نوجوانوں اور کم عمر بالغ افراد میں نیند کے دورانیے کو خطرناک حد تک کم کرنے سے جڑے ہو سکتے ہیں۔
ورزش سے پہلے لیے جانے والے کسی سپلیمنٹ کی صرف ایک خوراک میں عام کافی کے ایک کپ کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ کیفین ہو سکتی ہے۔ تاہم کینیڈا کی یونیورسٹی آف ٹورنٹو کے محققین کا کہنا ہے کہ یہ وقتی توانائی نیند میں نمایاں کمی کی قیمت پر مل سکتی ہے۔
تازہ تحقیق میں تقریباً 900 شرکا کے جوابات کا جائزہ لیا گیا اور شماریاتی تجزیہ کیا گیا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ گذشتہ ایک سال کے دوران ورزش سے پہلے لیے جانے والے غذائی سپلیمنٹس کے استعمال اور گذشتہ دو ہفتوں میں اوسط نیند کے دورانیے کے درمیان کیا تعلق ہے۔ تحقیق میں معلوم ہوا کہ جو لوگ جم جاتے ہیں اور یہ سپلیمنٹس استعمال کرتے ہیں، ان میں ہر رات پانچ گھنٹے یا اس سے کم سونے کا امکان ان لوگوں کے مقابلے میں دو گنا سے زیادہ تھا جو یہ سپلیمنٹس استعمال نہیں کرتے تھے۔
یہ نیند اس عمر کے لوگوں کے لیے تجویز کردہ تقریباً آٹھ گھنٹے کی نیند سے بہت کم ہے۔ جریدے ’سلیپ ایپیڈیمیالوجی‘ میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے ایک مصنف کائل ٹی گینسن نے کہا کہ ’ورزش سے پہلے لیے جانے والے سپلیمنٹس، جن میں اکثر کیفین اور محرک جیسی اجزا کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، ان نوجوانوں اور کم عمر بالغ افراد میں تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں جو ورزش کی کارکردگی بہتر بنانا اور توانائی بڑھانا چاہتے ہیں۔‘
’تاہم اس تحقیق کے نتائج ان نوجوانوں کی صحت اور بھلائی کے لیے ممکنہ خطرات کی نشاندہی کرتے ہیں جو یہ سپلیمنٹس استعمال کرتے ہیں۔‘
ورزش سے پہلے لیے جانے والے بہت سے فارمولوں میں شامل محرک اجزا خاص طور پر نیند کو مزید خراب کر سکتے ہیں اور ان کا معمول کے مطابق استعمال مجموعی صحت کے لیے خطرناک بن سکتا ہے۔
ڈاکٹر گینسن کا کہنا تھا کہ ’ان مصنوعات میں عموماً کیفین کی بہت زیادہ مقدار ہوتی ہے، جو 90 ملی گرام سے لے کر 350 ملی گرام سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ یہ ایک کین کوک سے کہیں زیادہ ہے، جس میں تقریباً 35 ملی گرام کیفین ہوتی ہے، اور ایک کپ کافی سے بھی زیادہ ہے، جس میں لگ بھگ 100 ملی گرام کیفین ہوتی ہے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے کہا کہ ’ہمارے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ ورزش سے پہلے استعمال ہونے والے سپلیمنٹس ناکافی نیند کا سبب بن سکتے ہیں، حالاں کہ صحت مند جسمانی نشوونما، ذہنی بھلائی اور تعلیمی کارکردگی کے لیے مناسب نیند بہت اہم ہے۔‘
محققین نے بچوں کے ماہر ڈاکٹروں اور خاندانی معالجین پر زور دیا ہے کہ وہ معمول کے مطابق کم عمر مریضوں سے سپلیمنٹس کے استعمال کے بارے میں پوچھا کریں۔
تحقیق میں کہا گیا: ’نتائج اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ ورزش سے پہلے لیے جانے والے غذائی سپلیمنٹس میں موجود کیفین کی زیادہ مقدار کم دورانیے کی نیند سے جڑی ہوئی ہے، جو نوعمروں اور کم عمر بالغ افراد کے لیے تجویز کردہ ہدایات سے بہت کم ہے۔‘
نقصان کم کرنے کے بعض طریقے، جیسے سونے کے وقت سے 12 سے 14 گھنٹے پہلے ان مصنوعات سے پرہیز، مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
ڈاکٹر گینسن کے بقول: ’نوجوان اکثر ورزش سے پہلے لیے جانے والے سپلیمنٹس کو بے ضرر فٹنس مصنوعات سمجھتے ہیں، لیکن یہ نتائج اس بات کی اہمیت اجاگر کرتے ہیں کہ انہیں اور ان کے خاندانوں کو بتایا جائے کہ یہ سپلیمنٹس کس طرح نیند میں خلل ڈال سکتے ہیں اور ممکنہ طور پر مجموعی صحت کو متاثر کر سکتے ہیں۔‘
© The Independent