چین: بیگ میں سمانے والا اینٹی ڈرون لیزر ہتھیار متعارف

صرف چار سیکنڈ میں ڈرون کو تباہ کرنے والے اس ہتھیار کا وزن تقریباً 25 کلو اور رینج تقریباً 500 میٹر ہے۔

25 اپریل، 2019 کو واشنگٹن میں واقع پینٹاگون کی لیب میں لیزر کی مدد سے گرائے گئے ڈرون کا معائنہ ہو رہا ہے (اے ایف پی)

رپورٹس کے مطابق چین کی دفاعی سامان فراہم کرنے والی ایک کمپنی نے پورٹیبل لیزر ہتھیار متعارف کرایا ہے جو ڈرونز کو گرا سکتا ہے۔

ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ نے رپورٹ کیا کہ ہاربن سنگوانگ آپٹک الیکٹرانکس ٹیکنالوجی نے یہ ہتھیار بیجنگ میں گذشتہ ہفتے منعقدہ ایک آرمز فیئر میں دکھایا۔

مسلح ڈرونز کے خلاف ہائی پاور لیزرز کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے کیونکہ یہ روایتی گولہ بارود کے مقابلے میں زیادہ مؤثر اور فی شاٹ لاگت کے اعتبار سے کہیں کم خرچ ہیں۔

اب تک اعلیٰ توانائی اور کولنگ کی ضروریات کی وجہ سے اینٹی ڈرون لیزرز اتنے بھاری بھرکم رہے ہیں کہ انہیں ایک شخص اکیلا نہیں اٹھا سکتا۔

نیا پورٹیبل لیجیان ماڈل، جس کا مطلب ’تیز تلواریں‘ ہے، اہداف کی شناخت کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرتا ہے اور اسے کچھ چینی فوجی تنصیبات میں پہلے ہی نصب کیا جا چکا ہے۔

ہر یونٹ کا وزن تقریباً 25 کلوگرام ہے اور اس کی رینج تقریباً 500 میٹر ہے، جو فکسڈ پوزیشن ماڈلز کی رینج کا تقریباً نصف ہے۔

محدود رینج کے باوجود یہ صرف چار سیکنڈ میں ڈرون کو جلا کر تباہ کر سکتے ہیں اور دوبارہ فائر کرنے کے لیے انہیں پانچ سیکنڈ سے بھی کم وقت میں ٹھنڈا ہونے کی ضرورت ہوتی ہے۔

ہاربن سنگوانگ آپٹک الیکٹرانکس ٹیکنالوجی نے ایس سی ایم پی کو بتایا کہ یہ یونٹس ’استعمال میں آسان ہیں اور انہیں تیزی سے تعینات اور واپس بھی لیا جا سکتا ہے۔‘

مارچ میں امریکی فوج نے لوزیانا میں واقع امریکی فضائیہ کے ایک اڈے کے اوپر ’نامعلوم ڈرونز‘ کی بڑی تعداد نظر آنے کی رپورٹ دی تھی، جس کے بعد اینٹی ڈرون لیزر سسٹمز کی تعیناتی پر بحث شروع ہو گئی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

برطانیہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اگلے سال اپنے چار جنگی بحری جہازوں کو ڈریگن فائر لیزر ہتھیار سے آراستہ کرے گا تاکہ ڈرون حملوں کے خلاف بہتر تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

یہ دفاعی حربہ روس کے 2022 میں یوکرین پر حملے کے بعد یوکرین میں تیزی سے مقبول ہو گیا ہے، جہاں ڈرونز، لیزرز اور گراؤنڈ روبوٹس کی ترقی نے جدید جنگی حکمت عملی کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا ہے۔

لیفٹننٹ کرنل جہارا میٹیسک نے ستمبر میں ’دی انڈپینڈنٹ‘ کو بتایا ’لیزرز اور مائیکروویوز ڈرونز کو ناکارہ بنانے کا کام سستا کر دیتے ہیں، یہی نہیں الیکٹرانک وارفیئر بھی ڈرونز میں خلل ڈالنے کا کام کرتی ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا ’[لیزر ہتھیار] روشنی کی رفتار جیسی درستگی اور گہرے میگزین (یعنی بار بار فائر کرنے کی صلاحیت) فراہم کرتے ہیں لیکن دھندلے ماحول، بارش یا دھوئیں میں یہ کمزور پڑ جاتے ہیں اور انہیں کام کرنے کے لیے خاصی بجلی اور کولنگ کی ضرورت ہوتی ہے۔‘

© The Independent

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی