پاکستان: ڈیزل کی قیمتوں میں 30 سے 32 روپے کمی متوقع

وزیر پیٹرولیم کے مطابق اوگرا جلد ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کا نوٹیفکیشن جاری کر دے گی۔

حکومت پاکستان نے بدھ کو ڈیزل کی قیمتوں میں ’30 سے 32 روپے سے زیادہ‘ کی فوری کمی کا اعلان کیا ہے۔

وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے وزیر اطلاعات عطا تارڑ کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ ریفائنریوں کے ساتھ مذاکرات کے بعد ڈیزل کی قیمت میں ’30 سے 32 روپے‘ کی کمی کا نوٹیفیکیشن اوگرا آج کی جاری کر دے گی۔

انہوں نے کہا ’وزیراعظم شہباز شریف نے بھی ریفائنریوں سے درخواست کی تھی۔ انہوں نے مجھے ہدایت کی، جس کے بعد ہم نے ریفائنریوں کے ساتھ دو یا تین آن لائن اجلاس کیے۔‘

’مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہے کہ ریفائنریوں نے مشکلات کو تسلیم کرتے ہوئے حکومت کا مطالبہ مان لیا اور ڈیزل کی قیمت میں 30 یا 32 روپے سے زیادہ کی نمایاں کمی کا فیصلہ کیا ہے۔‘

تارڑ نے کہا ’ڈیزل کی پیداوار میں ریفائننگ ایک اہم مرحلہ ہے۔ اوگرا جلد ہی 32 روپے کمی کا اعلان کرے گا۔ وزیر اعظم نے خصوصی طور پر مذاکرات کی ہدایت کی تھی اور وزیر پٹرولیم نے انہیں کامیاب بنانے کے لیے بھرپور کوشش کی۔‘

انہوں نے مزید کہا وزیراعظم اور حکومت عوام کو درپیش مشکلات کو سمجھتے ہیں اور مشرق وسطیٰ میں جنگ کے باعث دنیا بھر میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

تارڑ نے وضاحت کی ’جب بھی ممکن ہوا، عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے وزیر اعظم نے سبسڈیز، ہدفی سبسڈیز استعمال کیں اور مشکل حالات میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کو روکنے کے لیے 130 ارب روپے خرچ کیے۔‘

وزیراعظم شہباز شریف نے آج صبح وزیر پٹرولیم کو مقامی ریفائنریوں کے ساتھ ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کے لیے مذاکرات کرنے کی ہدایت کی تھی۔

پاکستان ایران اور امریکہ میں جنگ کے باعث ایندھن کی بلند قیمتوں سے نبرد آزما ہے اور حکومت صارفین کو ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔

ایران جنگ کے باعث عالمی توانائی کی منڈیوں اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والی توانائی کی ترسیل متاثر ہونے کے بعد پاکستان نے ایندھن کی قیمتوں کے جائزے کی مدت میں کئی بار تبدیلی کی۔

طویل عرصے سے رائج 15 دن بعد قیمتوں کے تعین کے نظام سے ہفتہ وار نظرثانی اور پھر روزانہ قیمتوں کے تعین کا نظام متعارف کرایا گیا۔

وزیر اعظم ہاؤس کے بیان میں بتایا گیا کہ شہباز شریف نے وزیر پٹرولیم سے کہا ’کراچی جائیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ مقامی طور پر تیار ہونے والے ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کے لیے اقدامات کیے جائیں۔‘

پٹرولیم ڈویژن کے منگل کی شب جاری نوٹیفکیشن کے مطابق حکومت نے بدھ کے لیے ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 5.27 روپے فی لیٹر اضافہ کر کے اسے 395.69 روپے اور پٹرول کی قیمت 3.34 روپے بڑھا کر 334.54 روپے فی لیٹر کر دی تھی۔

شہباز شریف نے کہا ’ڈیزل کا بڑا حصہ مقامی ریفائنریوں میں تیار ہوتا ہے، اس لیے اس کی قیمت کم کرنے کے لیے وزیر پٹرولیم کو چاہیے کہ وہ جلد از جلد ریفائنریوں کے ساتھ مذاکرات خود مکمل کریں۔‘

انہوں نے مزید کہا ’عوام کو جتنا ممکن ہو فوری ریلیف فراہم کیا جائے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ڈیزل کی قیمتوں میں یہ نمایاں کمی مال بردار ٹرانسپورٹرز کے حکام کے ساتھ مذاکرات کے بعد نو روزہ ملک گیر ہڑتال 40 روز کے لیے معطل کرنے کے چند روز بعد سامنے آئی ہے۔

ان کے مطالبات میں ایندھن کی قیمتوں، ٹول ٹیکس اور ٹیکسوں میں تبدیلیاں شامل تھیں۔ ٹرانسپورٹرز نے ڈیزل کی قیمتوں میں روزانہ نظرثانی کی مخالفت کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ قیمتیں ماہانہ بنیادوں پر مقرر کی جائیں۔

پاکستان کو، جو درآمدی توانائی پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے، کو 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد سے مقامی ایندھن کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ کا سامنا ہے۔

اس جنگ کے آغاز پر ڈیزل کی قیمت 280.86 روپے فی لیٹر تھی جو اپریل کے اوائل میں بڑھ کر 520.35 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جبکہ پٹرول 266.17 روپے سے بڑھ کر 458.40 روپے فی لیٹر ہو گیا۔

بعد ازاں دونوں کی قیمتیں ان بلند ترین سطحوں سے کم ہو گئیں۔ حکومت نے کہا تھا کہ اپریل میں قیمتوں میں اضافہ جنگ کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے ہوا۔

پاکستان خلیجی خطے سے توانائی کی ترسیل میں رکاوٹوں کے پیش نظر خام تیل کی رسد کے ذرائع میں تنوع پیدا کرنے کی بھی کوشش کررہا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت