ہمیں بوڑھوں کی ضرورت ہے

آخر کیوں ہم خود ان تمام راستوں سے گزریں جن سے وہ لوگ پہلے گزر چکے ہیں؟ وہ اگر سمجھا رہے ہیں کہ یار، یہ کام مت کرو، اس سے بچ جاؤ، اس راستے سے ہٹ جاؤ تو کم از کم ان کو ہم اتنی اہمیت تو دے سکتے ہیں کہ معاملے کو ان کے پہلو سے دماغ میں بٹھانے کی کوشش کر لیں۔

گھر سے چھپ کے سگریٹ پینے نکلا تھا، دھند تھی، انیس بیس سال کا تھا میں، آر اے بازار، لاہور کینٹ، اس کے سامنے والی گلی میں واک کر رہا تھا، ایک بابا جی دور سے آتے دکھائی دیے۔

سگریٹ ہاتھوں میں دبا لی، چلتا رہا، وہ قریب آئے، سلام کیا، وعلیکم کہا، رک گئے، میں بھی مجبوراً رک گیا۔

انہوں نے اپنے سیدھے ہاتھ کا انگوٹھا میرے سامنے کر دیا، اس کے بعد پہلی انگلی ۔۔۔ پھر مجھے سوچنے کا موقع دیے بغیر بولے ’بیٹا ۔۔۔ پچاس ساٹھ سال سے سگریٹ پی رہا ہوں، یہ انگوٹھا اور انگلی، ان کے ناخن دیکھ لو، دھوئیں سے براؤن ہو چکے ہیں، لیکن میں چلتے ہوئے سگریٹ نہیں پیتا، تم بھی مت پیا کرو۔ بیٹھ کے پیو۔‘ اس کے بعد دھند میں گم ہو گئے۔

میں نے ان کی بات مان لی۔ اللہ جانے کیا فائدہ ہوا ہو گا کیا نقصان، لیکن بے شمار ایسی چیزیں زندگی میں نہیں کیں جو بڑوں کو کرتے ہوئے اور ان سے نقصان اٹھاتے ہوئے دیکھا اور یا پھر جس سے انہوں نے منع کر دیا۔

جو باتیں نہیں مانیں ان پر بھی میں سوچتا ضرور تھا کہ اگر میری عمر بیس سال ہے تو یار آف کورس میں کسی چیز کی گہرائی تک اس طرح کبھی نہیں پہنچ سکتا جس طرح ستر، پچھتر یا اسی سال کا انسان پہنچ سکتا ہے، شاید ان کی یہ بات بھی ٹھیک ہو۔

اب، جیسے جیسے عمر گزر رہی ہے مجھے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ جو کہا کرتے تھے کہ بیٹا، ہم نے دھوپ میں بال سفید نہیں کیے، وہ بات بھی سو فیصد درست تھی۔ وقت اور عمر گزرنے کے ساتھ انسان کو اتنا تجربہ حاصل ہو جاتا ہے کہ صرف دور سے حالات دیکھ کر ہی بتا دے کہ ان کا حل کیا ہے۔

جوانی کی روانی یہی ہے بابا کہ بوڑھوں کو کچھ نہیں پتا، سٹھیا جانا باقاعدہ ایک محاورہ ہے، جیسے واقعی کوئی انسان ساٹھ برس کا ہوا نہیں اور اس کی عقل چلی گئی۔ ایسا نہیں ہوتا، ہرگز نہیں، الا یہ کہ کسی بزرگ کو باقاعدہ کوئی دماغی مرض لاحق ہو یا وہ کسی خاص تعصب سے بات کر رہے ہوں۔

اب یہ بزرگ فقیر آپ سے ویلیڈیشن نہیں چاہ رہا، صرف اتنا کہہ رہا ہے کہ اگر کوئی بڑا کسی معاملے پر بات کر رہا ہو تو یقین کریں کہ وہ رائے اس کی پوری زندگی کے تجربے میں بھنی ہوئی ہوتی ہے، یعنی دہائیوں کے مشاہدے اور آزمائشوں سے روسٹ ہو کر سامنے آئی ہوتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ساٹھ، ستر یا اسی سال زندگی گزارنا معمولی بات نہیں ہے۔ اگر آپ اس وقت بیس سال کے ہیں تو آپ سے بات کرنے والا بزرگ آپ سے پچاس ساٹھ سال زیادہ زندگی گزار چکا ہے۔ اس نے ایک پوری دنیا دیکھی ہے۔ ٹھیک ہے، وہ آج کے Competitive دور میں نہیں رہا، اس نے اے آئی کی دنیا نہیں دیکھی، لیکن انسانی رویہ اپنی بنیاد میں ہمیشہ ایک جیسا رہتا ہے۔ میرا، آپ کا اور ہر دوسرے انسان کا وجود آج بھی بنیادی طور پر انہی دماغی مسئلوں میں گُھل رہا ہے جن سے ایک ہزار سال پہلے کا انسان دوچار تھا ۔۔۔ پیار، محبت، پیسہ، زمین ۔۔۔ باقی اللہ کا نام ہے۔

تو، آخر کیوں ہم خود ان تمام راستوں سے گزریں جن سے وہ لوگ پہلے گزر چکے ہیں؟ وہ اگر سمجھا رہے ہیں کہ یار، یہ کام مت کرو، اس سے بچ جاؤ، اس راستے سے ہٹ جاؤ تو کم از کم ان کو ہم اتنی اہمیت تو دے سکتے ہیں کہ معاملے کو ان کے پہلو سے دماغ میں بٹھانے کی کوشش کر لیں۔

بس اس لیے بوڑھی آوازوں کا، بزرگ لوگوں کا، ہمارے آس پاس ہونا ضروری ہے، ان سے مشورہ کرنا بہت ضروری ہے اور جو بات وہ کرتے ہیں اس کی اہمیت سمجھنا ضروری ہے، بلکہ میری ریکمنڈیشن ہے کہ ایسی سوسائٹیاں قائم ہوں، ایسے مذاکرے ہوں، ایسی پوڈکاسٹس ہوں، عوامی پروگرام ہوں جن میں بزرگ افراد صرف بیٹھ کر زندگی کے بارے میں اپنی رائے، اپنے تجربات اور اپنی سیکھ ہمارے ساتھ بانٹیں۔

باقی، اگر آپ کے گھر میں کوئی بزرگ موجود ہیں تو آپ لکی ہیں، ان کے پاس اطمینان سے بیٹھیں، بات کریں، ضروری نہیں کہ آپ ان کے ہر مشورے پر عمل کریں لیکن ان سے رائے ضرور لیں۔ ٹرسٹ می، سو نئے اُفق آپ کے سامنے ہوں گے۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ