معاہدہ اسرائیلی توسیع کے خاتمے کی ضمانت نہیں ہے: یواےای

متحدہ عرب امارات کے معاون وزیر برائے امور خارجہ انور غباش نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا: ’جمعرات کی شب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جس حیرت انگیز معاہدے کا اعلان کیا تھا اس میں ایسی کوئی شرائط نہیں رکھی گئی ہیں اور نہ ہی یہ معاہدہ پتھر پر کوئی لکیر ہے۔‘

(اے ایف پی)

متحدہ عرب امارات کے وزرا نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے پاس ایسی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ مستقبل میں اسرائیل مقبوضہ فلسطینی علاقوں کو ضم نہیں کرے گا۔

متحدہ عرب امارات کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لاتے اس معاہدے کے باوجود اسرائیل مقبوضہ مغربی کنارے جیسے علاقوں پر اپنی خودمختاری کے دعوے کے اعلان کو صرف ’معطل‘ کر رہا ہے۔

متحدہ عرب امارات کے معاون وزیر برائے امور خارجہ، ثقافت اور عوامی سفارت کاری عمر غباش نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا: ’جمعرات کی شب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سب سے پہلے جس حیرت انگیز معاہدے کا اعلان کیا تھا اس میں ایسی کوئی شرائط نہیں رکھی گئی ہیں اور نہ ہی یہ معاہدہ پتھر پر کوئی لکیر ہے۔‘

اگرچہ عالمی رہنماؤں نے اس معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے لیکن فلسطینی قیادت نے اس پر شدید تنقید کی تھی۔ غزہ پر کنٹرول رکھنے والی جماعت حماس نے اسے فلسطین کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے جیسا عمل قرار دیا ہے جب کہ صدر محمود عباس نے کہا ہے کہ انہیں دھوکہ دیا گیا ہے۔

عمر غباش نے اس تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ عرب امارات ایک خود مختار ریاست ہے جیسے اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے کے لیے فلسطینیوں کی شرائط کی ضرورت نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کے ذریعے اسرائیل کی توسیع پسندی کو معطل کر دیا گیا ہے جس سے دونوں فریقین کو امن مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کا موقع ملے گا جو کئی بار ناکام ہو چکے ہیں۔

انہوں نے کہا: ’اسرائیل فلسطین تنازع کے دو ریاستی حل کی بحالی کے لیے کسی اور عرب ملک نے کوئی  اقدام نہیں کیے، درحقیقت یہ امارات کے ہی قائدین ہیں جنہوں نے یہ نہایت جرات مندانہ اور اہم قدم اٹھایا ہے۔ اس کو پیٹھ میں چھرا گھونپنے جیسے اقدام کی بجائے اس اصل روح میں دیکھا جانا چاہیے۔‘

متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ انور قرقاش نے معاہدے کو پورے خطے کے لیے جیت قرار دیا۔ دی انڈپینڈنٹ کو دیے گئے ایک تحریری بیان میں انہوں نے اسے ’امید کی کرن‘ قرار دیا۔

اماراتی وزیر نے کہا: ’ہم اس معاہدے کو اسرائیلیوں کی طرف سے (مقبوضہ علاقوں) کو ضم کرنے کے عمل میں وقفے کی بجائے اسے روکنے کے عزم کے طور پر دیکھ رہے ہیں اور ہم توقع کرتے ہیں کہ مذاکرات اور تعاون سے فلسطین اور اسرائیل تنازع کے پائیدار حل کے لیے سازگار حالات پیدا ہوں گے۔‘

لیکن عمر غباش کا کہنا تھا کہ ’ہمارے پاس اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہے، یہ محض ہمارا گمان ہے۔ ہم نے (اسرائیل پر) اعتماد قائم کیا ہے۔‘

جمعرات کی شب صدر ٹرمپ نے حیرت انگیز طور پر امریکہ کی حمایت سے طے پائے جانے والے اس معاہدے کا اعلان کیا تھا جس کے تحت متحدہ عرب امارات اسرائیل کو تسلیم کرنے اور اس کے ساتھ سفارتی تعلقات مضبوط بنانے والا پہلا خلیجی ملک بن گیا ہے۔

اس پیش رفت کے نتیجے میں مصر اور اردن کے بعد متحدہ عرب امارات اسرائیل کو تسلیم کرنے اور اس کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے والا تیسرا عرب ملک بن گیا ہے۔

امریکہ، متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل بین الاقوامی قانون کے تحت مقبوضہ فلسطینی علاقوں کو فوری طور پر ضم کرنے کے غیر قانونی اقدام والے اپنے منصوبے کو ’معطل‘ کر دے گا۔

اعلامیے نے یہ بھی تصدیق کی ہے کہ آنے والے ہفتوں میں اسرائیلی اور اماراتی وفود ملاقاتیں کریں گے اور دونوں ملکوں کے درمیان براہ راست پروازوں، سلامتی، ٹیلی مواصلات، توانائی، سیاحت اور صحت سے متعلق معاہدوں پر دستخط کریں گے۔

توقع ہے کہ جلد ہی اسرائیل اور یو اے ای ایک دوسرے کے ملکوں میں سفارت خانے قائم کریں گے، سفیروں کا تبادلہ کریں گے اور وائٹ ہاؤس میں منعقدہ دستخطی تقریب میں شرکت کریں گے۔

لیکن صدر ٹرمپ کے اس اعلان کے فوری بعد اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو نے معاہدے کی شرائط سے دستبرداری ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ مغربی کنارے پر اسرائیل کی خودمختاری کے حوالے سے ان کے منصوبوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ مستقل روکا نہیں ہے بلکہ عارضی طور پر معطل ہوا ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم کے اس تبصرے پر فلسطینی عہدیدار حنان عشراوی سمیت فلسطینی قیادت نے شدید تنقید کی ہے جن کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ سفارتی تعلقات سے نوازے جانے کے باوجود اسرائیل فلسطینی سرزمین پر مسلسل قبضہ کر رہا ہے۔

انور قرقاش نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ ’اسرائیلی جانتے ہیں کہ تعلقات راتوں رات معمول پر نہیں آ سکتے اور ہمارا یہ عزم اسرائیلی توسیع پسندی سے جڑا ہوا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ اس نئے معاہدے سے دو ریاستی حل کو تقویت ملے گی اور ناکام امن عمل کو دوبارہ شروع کرنے میں مدد ملے گی۔

عمر غباش نے متحدہ عرب امارات کی طرف سے اسرائیل کو نوازنے کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب اسرائیل بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کے بارے میں چیخ و پکار کرنے یا اس کی مذمت کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوا جب کہ اس سے تعلقات منقطع کرنے سے بھی کوئی فائدہ نہیں ہے۔

انہوں نے دلیل دی کہ اس کے بجائے اس معاہدے سے متحدہ عرب امارات فلسطینیوں کے حقوق کے بارے میں اسرائیل کو راضی کرنے کے لیے ان سے بات کر سکتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے مزید کہا: ’امارات پہلے دن سے ہی فلسطینیوں کے حقوق اور فلسطین کے مسٔلہ میں ان کی حمایت کرتا ہے۔ فلسطینی اتھارٹی نے دو سالوں میں امریکیوں سے بات نہیں کی۔ ہم باقی دنیا سے بات کیے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتے۔ ہمیں یقین ہے کہ بات چیت ہی آگے بڑھانے کا راستہ ہونا چاہیے۔‘

امارات کے دونوں وزرا نے کہا کہ آنے والے دنوں میں وائٹ ہاؤس میں متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان معاہدے پر باضابطہ طور پر دستخط ہونے کا امکان ہے۔

اس کے بعد دونوں ممالک کے وفود سائنس، ٹیکنالوجی، فوڈ سکیورٹی اور سیاحت سمیت مختلف انتظامی اور سفارتی امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔

یہ معاہدہ مشرق وسطی کے مزید ممالک کے لیے اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے کا راستہ کھول سکتا ہے جیسا کہ فلسطینی میڈیا کا کہنا ہے کہ بحرین اور عمان اسرائیل کی حمایت کر رہے ہیں۔

لیکن طویل عرصے سے اسرائیل کی مخالفت کرنے والے ایران اور لبنان میں اس کی حمایت یافتہ عسکری تنظیم نے اس معاہدے پر کڑی تنقید کی ہے۔

حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے ٹیلی ویژن پر اپنی ایک تقریر میں کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے کا اعلان اس لیے کیا کیوں کہ انہیں صدارتی انتخابات میں فتح کے لیے کسی ’کامیابی‘ کی ضرورت تھی۔ حسن نصراللہ نے مزید کہا کہ انہیں خدشہ ہے کہ مزید عرب ریاستیں متحدہ عرب امارات کا راستہ اپناتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کر لیں گی۔

تل ابیب اور استنبول کے درمیان براہ راست پروازوں کے باجود خطے میں متحدہ عرب امارات کے بڑے حریف ملک ترکی نے بھی اس معاہدے پر سخت تنقید کی ہے۔

صدر رجب طیب اردوغان نے عندیہ دیا کہ ان کا ملک ابو ظہبی سے سفارتی تعلقات منقطع کر سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل سے معاہدہ کر کے متحدہ عرب امارات نے 2002 کے عرب امن منصوبے کو نقصان پہنچایا ہے جس پر تاریخ اسے کبھی معاف نہیں کرے گی۔

اس منصوبے کے تحت اسرائیل کے ساتھ اس وقت تک امن قائم نہیں ہو سکتا جب تک وہ تمام مقبوضہ علاقے خالی نہ کر دے۔

اماراتی وزیر برائے خارجہ امور نے کہا کہ تنقید کا طوفان اس کشیدہ خطے کے لیے وہ قیمت ہے جیسے انہیں ادا کرنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا: ’اسرائیل اور فلسطین کو ہی یہاں امن حل کے لیے فیصلے کرنا پڑیں گے لیکن اب دو ریاستی حل کے لیے جو خطرہ ہے وہ یہ ہے کہ اس پر بات چیت نہیں ہو رہی۔ ایسا ہمیشہ کے لیے نہیں ہو گا تاہم خطے کی یہ تاریخ رہی ہے کہ یہاں بہت سے مواقعے گنوا دیے گئے۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا