بیروت دھماکہ: لبنان کی سیاسی اشرفیہ ہے کون؟

لبنان پر تین تک دہائیوں تک 15 سالہ خانہ جنگی کے دوران حصہ لینے والے سابق جنگجوؤں اور ملیشیا کے ایک اہم طبقے نے حکمرانی کی ہے جو بعد میں ملک کی مرکزی دھارے کی سیاست کے اہم حصہ دار بن گئے۔

(تصاویر: اے ایف پی)

لبنان کے دارالحکومت بیروت میں ہونے والے بدترین دھماکے سے نہ صرف شہر کی عمارتیں لرز اٹھیں بلکہ یہ دھماکہ لبنان میں سیاسی بھونچال کا باعث بھی بن چکا ہے جہاں عوام حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔

مظاہرین اپنے حکمرانوں سے اس قدر برہم ہیں کہ انہوں نے نہ صرف وزارت خارجہ جیسی حساس اور اہم ترین سرکاری عمارت پر قبضہ کر لیا بلکہ وزارت ماحولیات کی عمارت کو نذر آتش کر دیا۔

صورت حال اتنی بگڑی کہ حکومت کو فوج کو طلب کرنا پڑی جس کی مداخلت سے اہم سرکاری عمارتوں سے مظاہرین کو باہر نکال دیا گیا تاہم اس کارروائی میں کئی افراد کی ہلاکتوں اور زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

لبنان کے عوام پہلے ہی زبوں حال معیشت، بے روزگاری اور غربت کے باعث حکمرانوں سے بدظن تھے لیکن گذشتہ منگل کے دھماکے نے عوامی غم و غصے کو ایسے ہی ہوا دی جیسے خود دھماکے کو امونیم نائٹریٹ نے۔ مظاہرین ملک کی سیاسی قیادت اور اشرفیہ کے خلاف احتجاج کے لیے نکلے ہیں۔

لبنان کی سیاسی اشرفیہ ہے کون؟

لبنان پر تین تک دہائیوں تک 15 سالہ خانہ جنگی کے دوران حصہ لینے والے سابق جنگجوؤں اور ملیشیا کے ایک اہم طبقے نے حکمرانی کی ہے جو بعد میں ملک کی مرکزی دھارے کی سیاست کے اہم حصہ دار بن گئے۔

صدر اور وزیر اعظم کے عہدے

لبنان میں روایتی طور پر صدر کا عہدہ اقلیتی مسیح برادری کو دیا جاتا ہے اور پارلیمنٹ چھ سال کے لیے نئے صدر کا انتخاب کرتی ہے۔

دوسری جانب پارلیمنٹ اور صدر وزیراعظم کا انتخاب کرتے ہیں جب کہ  پارلیمانی انتخابات ہر چار سال بعد منعقد کیے جاتے ہیں۔

موجودہ حکمران

میشال نعیم عون لبنان کے موجودہ صدر ہیں۔ وہ 31 اکتوبر 2016 کو لبنانی پارلیمنٹ کے 46 ویں انتخابی اجلاس میں صدر منتخب ہوئے تھے۔

میشال میرونائٹ مسیحی فرقے سے تعلق رکھتے ہیں اور ’فری پیٹریاٹک موومنٹ‘ کے بانیوں میں سے ایک ہیں۔

حسان دیاب سینیئر سیاستدان، انجینئر اور ماہر تعلیم ہیں جنہوں نے کابینہ کی تشکیل کے بعد جنوری 2020 سے لبنان کے وزیر اعظم کی حیثیت سے ذمہ داریاں اٹھائی تھیں۔ صدر میشال عون نے انہیں 19 دسمبر 2019 کو سعد حریری کی جگہ وزیراعظم نامزد کیا تھا۔

اس سے قبل وہ جون 2011 سے فروری 2014 تک وزیر تعلیم کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔

لبنان میں 2019 کے اختتام پر سیاسی بحران کے دوران ملک گیر مظاہرے طویل عرصے سے اقتدار پر قابض سعد حریری کے استعفی کا سبب بنی تھی۔

حسان دیاب کو صدر میشال کے علاوہ لبنانی پارلیمنٹ کے 128 میں سے 69 ارکان کی حمایت حاصل ہے۔ 8 مارچ کے اتحاد یعنی حزب اللہ سے وابستہ شعیہ پارلیمانی بلاکس نے پارلیمنٹ میں ان کی حمایت کی تھی لیکن انہیں اپنے ہی سنی فرقے کی جماعتوں کی حمایت حاصل نہیں ہوئی۔

 لبنان کی ماضی کی مرکزی تحریکوں پر ایک نظر

دا فیوچر موومنٹ

سعد حریری کی سربراہی میں دی فیوچر موومنٹ ملک بھر میں سنی مسلمانوں کا اتحاد سمجھا جاتا ہے۔ فرانس اور سعودی عرب کی حمایت یافتہ اس تحریک کی موجودہ پارلیمنٹ کی 20 نشستیں ہیں لیکن اس وقت شدید وسائل کی کمی کا شکار ہے۔

اس کے پاس کئی اہم وزارتیں تھیں لیکن مظاہرین کے غصے کا نشانہ دو اہم یعنی وزارت داخلہ اور وزارت ٹیلی کمیونیکشن رہیں۔ وزیر داخلہ رایا حسن پر مظاہرین کے خلاف طاقت کا بےدریغ استعمال کرنے کا الزام جبکہ وزیر مواصلات محمد چوکیر پر واٹس ایپ ’ٹیکس‘ کا الزام تھا۔  

سعد حریری

1992 کے بعد سے حریری خاندان وزارت عظمیٰ پر قابض رہا اور یہ سلسلہ 2020 کے آغاز میں واٹس ایپ پر ٹیکس لگانے کے حکومتی اقدام کے نتیجے میں ملک گیر مظاہروں کے بعد وزیر اعظم سعد حریری کے استعفیٰ کے بعد ختم ہوا۔

2005 میں سابق وزیر اعظم رفیق حریری کے قتل کے بعد حریریوں کو ریاض سے مالی امداد آنا بند ہو گئی جس سے فیوچر موومنٹ مالی مشکلات کا شکار ہو گئی اور اس کی عوام میں بھی مقبولیت کم ہو گئی۔

امل اور حزب اللہ 

سیاسی میدان میں دوسری جانب حزب اللہ اور امل موومنٹ پر مشتمل ’شیعہ اتحاد‘ کھڑا ہے۔ یہ دونوں ایران کے حمایت یافتہ ہیں اور ان کی جڑیں خانہ جنگی کے دور تک پھیلی ہوئی ہیں۔

یہ دونوں تحریکیں 2005 میں حریری کے قتل کے بعد 14 مارچ کو بنے اتحاد کا حصہ ہیں اور دونوں پر ایرانی امداد لینے کا الزام ہے۔

امل کے پاس پارلیمنٹ کی 16 نشستوں کے ساتھ حریری کابینہ میں تین محکمے تھے۔ یہ جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ شانہ بہ شانہ کھڑی دکھائی دیتی ہے۔

حزب اللہ ان دو شیعہ جماعتوں میں زیادہ طاقت ور ہے تاہم ایران سے مبینہ طور پر حاصل کردہ راکٹوں اور میزائلوں کے باعث اسے سیاست کی بجائے عسکری جماعت تصور کیا جاتا تھا۔

حزب اللہ نے 1990 کی دہائی کے وسط میں سیاسی دھارے میں شمولیت اختیار کی تھی  اور اب اس کی پارلیمنٹ کی 13 نشستیں ہیں جب کہ سعد حریری کی کابینہ اسے دو وزاتیں دی گئی تھیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ