رنگ گورا کرنے والی کریموں میں پارہ، حاملہ خواتین کے لیے خطرہ

وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل نے بتایا ہے کہ ’حال ہی میں رنگ گورا کرنے والی 59 کریموں کا لیب ٹیسٹ کیا گیا، جس میں سے 57 میں پارے کی مقدار ون پی پی ایم سے زیادہ تھی۔‘

زرتاج گل نے کہا کہ ’عوام کو اس احساس کمتری سے نکالنا ہو گا کہ اگر وہ گورے نہیں تو وہ زندگی میں آگے نہیں بڑھ سکتے۔‘ (فائل تصویر: اے ایف پی)

ایک طرف جہاں خواتین میں رنگ گورا کرنے والی کریموں کا استعمال بڑھ رہا ہے، وہیں ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کئی مقامی اور بین الاقوامی کریموں میں پارے (مرکری) کی زیادہ مقدار کی موجودگی کی وجہ سے گردوں کے مسائل اور جلد کے کینسر کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔

بدھ کی شام ایک پریس کانفرنس کے دوران وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل نے بتایا کہ ’حال ہی میں رنگ گورا کرنے والی 59 کریموں کا لیب ٹیسٹ کیا گیا، جس میں سے 57 میں پارے کی مقدار ون پی پی ایم سے زیادہ تھی اور اس میں 14 بین الاقوامی برانڈز جبکہ 41 مقامی برانڈز شامل ہیں۔‘

زرتاج گل اس سے قبل بھی متعدد بار یہ کہہ چکی ہیں کہ رنگ گورا کرنے والی کریمیں جلد کے لیے مضر ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ مختلف صابنوں کے ٹیسٹ بھی کیے گئےجن میں 14 میں سے چار صابن جلد کے لیے خطرہ ہیں۔

زرتاج گل نے کہا کہ ’عوام کو اس احساس کمتری سے نکالنا ہو گا کہ اگر وہ گورے نہیں تو وہ زندگی میں آگے نہیں بڑھ سکتے۔‘

اس حوالے سے ایک نجی ہسپتال میں تعینات گائنالوجسٹ ڈاکٹر عروج نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’حاملہ خواتین کے جسم میں پارے کی زیادہ مقدار، چاہے وہ بیوٹی کریموں سے ہو یا فارمی مچھلی کھانے سے، دونوں صورتوں میں پیدا ہونے والے بچوں میں معذوری کا سبب بن سکتی ہے اور پیدائش کے وقت کے بچے کا دماغ یا گردے متاثر ہو سکتے ہیں، اس لیے حمل کے دوران رنگ گورا کرنےوالی کریموں یا سکن وائٹننگ ٹریٹمنٹ سے پرہیز کرنا چاہیے۔‘

پریس کانفرنس کے دوران زرتاج گل نے مزید بتایا کہ ’پاکستان میں 2013 سے مینا ماٹا کنونشن پر کام نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس کے تدارک کے لیے کچھ کیا گیا ہے۔‘

مینا ماٹا کیا ہے؟

مینا ماٹا ایک جلدی بیماری ہے جو پارے کے زہریلے اثر سے پھیلتی ہے۔ اس بیماری کا نام جاپان کے شہر مینا ماٹا کےنام پر رکھا گیا کیونکہ وہاں سب سے پہلے پارے کے زہر سے لوگ متاثر ہوئے اور بیماری میں مبتلا ہوئے۔

مینا ماٹا کی علامات یہ ہیں کہ جسم کے اعضا پر کنٹرول نہیں رہتا، ہاتھوں اور پاؤں کی جلد سُن ہو سکتی ہے، نظر کمزور ہوسکتی ہے اور اس کے علاوہ گونگا اور بہرا پن بھی ہوسکتا ہے۔ پارے کا زہر جسم میں اگر خطرناک حد تک بڑھ جائے تو یہ جسم کے مختلف خلیوں کو ناکارہ کر دیتا ہے جس کا علاج بھی مشکل اور بعض اوقات ناممکن ہو جاتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

میناماٹا کے نام سے کنونشن بھی بنایا گیا، جس پر اکتوبر 2013 میں جنیوا میں دستخط ہوئے اور جس کا مقصد دنیا کو پارے کے مضر اثرات سے پاک کرکے صحت مند بنانا ہے۔ پاکستان کا نام بھی اس معاہدے میں شامل ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران وزیر ماحولیات زرتاج گُل نے بتایا کہ ’اب مینا ماٹا کنونشن پر کام شروع کر دیا گیا ہے اور اس کے لیے کاسمیٹکس کمپنیوں کے پاس 2020 تک کا وقت ہے کہ وہ اپنی مصنوعات میں پارے کی سطح کو ون پی پی ایم تک لے آئیں۔‘

جب اس حوالے سے ڈرما ٹالوجسٹ ڈاکٹر عبد الرفیق سمیع سے سوال کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ ’کم مقدار بھی جسم کے لیے نقصان دہ ہے، پارہ بالکل بھی نہیں ہونا چاہیے۔‘

کیا پارہ صرف کاسمیٹکس میں استعمال ہو رہا ہے؟

پارہ ایک کیمیائی عنصر ہے جس کی علامت ایچ جی اور جوہری نمبر 80 ہے۔

دنیا بھر میں پارے کا استعمال تھرمامیٹرز، بیرومیٹرز، سپیگمو مینو میٹرز، بجلی کے بٹن اور دیگر سائنسی آلات میں کیا جاتا ہے جبکہ آج کل استعمال ہونے والے بلبوں اور ٹیوب لائٹس میں بھی اس کا استعمال ہوتا ہے۔

2018 میں حکومت پاکستان نے پارے والے طبی آلات پر پابندی لگانے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ پارے والے تھرمامیٹر اور بی پی آپریٹس کے استعمال پر پابندی ہوگی جبکہ دانتوں میں بھرائی کے لیے بھی پارے کے استعمال پر مکمل پابندی ہوگی۔

مینا ماٹا پاکستان چیپٹر کے ڈپٹی ڈائریکٹر کیمیکل ڈاکٹر ضیغم عباس نے اس حوالے سے بتایا کہ ’صحت کے شعبے میں اور ڈینٹل شعبے میں اب پارے کا متبادل استعمال ہو رہا ہے جبکہ پارے سے پاک بی پی آپریٹس اور مرکری فری تھرمامیٹر بھی بہت سے ہسپتالوں میں متعارف ہو چکے ہیں۔ پاکستان پہلا ملک ہوگا جو مرکری فری ہوگا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی سٹائل